یہ ایشیا کی صدی ، چین دنیا کا حاکم ۔۔۔ کرونا نے سب عیاں کر دیا؟۔ ۔

تحریر؛ بشیر سدوزئی

تھوڑا عرصہ پہلے تک ماہرین کی اس رائے پر دنیا ہنس رہی ہوگی کہ یہ صدی اشیا کی ہے یا چین امریکہ کی عالمی حکمرانی کو چیلنج کر رہا ہے ۔ گو کہ یہ خوش خبری ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 کو امریکی وزیر خارجہ ہنگری کسنجر کو اسی کے ایک سوال کے جواب میں سنائی تھی کہ ” مسٹر بھٹو تمارا چین آنا جانا بہت رہتا ہے چین کے ان دو بھڈوں کے انتقال کے بعد اس افیونچی قوم کا مستقبل کیا ہو گا؟” اس کا اشارہ ماوزتنگ اور چواین لائی کی طرف تھا۔ بھٹو صاحب نے مسٹر کسنجر کو یہ بتایا تھا کہ اگلی صدی چین کی ہے یہ قوم 2000ء میں امریکا کو چیلنج کرے گی تو کسنجر یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ لیکن آج سب یہ بات مان رہے ہیں کہ تباہ حال اور افیون کے اثر سے چور قوم صرف آدھی صدی میں دنیا کی قیادت کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکی ۔ چین کی یہ صلاحیت اس وقت ظاہر ہو گئی تھی جب 21 ویں صدی کے سب سے بڑے منصوبے ” ون بلٹ ون روڑ” کا تصور پیش کیا گیا تھا۔لیکن کرونا وائرس نے ان تجزیوں اور تبصروں کو جلد ہی سچ میں بدل دیا ۔ ماہرین کا کہنا یہ تھا کہ چین روس جنوبی کوریا اور پاکستان کو ملا کر ایک بڑا اتحاد امریکی عالمی سامراجی نظام کو چیلنج کرے گا سی پیک اسی سلسلے کی کڑی ہے لیکن اس کی نوبت آنے سے پہلے ہی کرونا وائرس نے امریکا کی انتظامی صورت حال اور نالائق قیادت کو بے نقاب کر دیا۔ معروف فلسفی ابن خلدون نے صدیوں پہلے یہ نظریہ دیا تھا کہ بڑی بڑی اور مضبوط ترین ریاست بھی ایک سو 20 سال سے زیادہ اپنی طاقت برقرار نہیں رکھ سکتی ۔ ممکن ہے امریکا کے بارے میں سوچنے والے تجزیہ نگاروں کی اکثریت اس عظیم تاریخ دان کی پیشن گوئی کو مند نظر رکھ رہی ہو تاہم امریکن قیادت کی توسیع پسندانہ نظریات اور خواہشات نے مضبوط معاشی و انتظامی طاقت کو جو نقصان پہنچایا وہ کرونا وائرس نے عیاں کر دیا کہ معاشی طور پر مستحکم امریکا انتظامی طور پر کھوکھلا ہو چکا۔ ایسی مستحکم معیشت کا کیا فائدہ جو معمولی وائرس سے عوام کو نہ بچا سکے ۔

اگر آج کا امریکا اپنے ملک میں ٹھیک سے انتظام نہیں چلا سکتا تو دنیا کی قیادت کیسے کر سکتا ہے ۔ یہ سوال اب وہ ملک اٹھا رہے ہیں جو ہر لمحہ امریکا کی طرف دیکھنے کے عادی تھے۔ وہ اس وقت ششدر رہ گئے جب انہوں نے دیکھا کہ کرونا وائرس کے بحران میں امریکہ خود اپنے عوام اور ملک کو سھنبالنے کے قابل نہیں رہا ۔ اس صورت حال سے وہاں کے عوام تو پریشان ہیں ہی، لیکن سب سے زیادہ تشویش ناک صورت حال یہ ہے کہ چین کی طاقت کو نہ صرف اقوام متحدہ بلکہ امریکہ کے مضبوط اتحادیوں نے بھی تسلیم کر لیا اور نئی صف بندی کے طور پر اپنے رخ کو مغرب سے مشرق کی طرف پھیرنے میں جلدی کیا اورعلانیہ کہا رہے ہیں کہ دنیا کی قیادت اب چین کے پاس منتقل ہو گئی ہے یہ صدی امریکہ یا یورپ کی نہیں ایشیا کی ہو گی۔ چند دن قبل دنیا کے سب سے مضبوط اتحاد یورپی یونین کےخارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل نے کہاکہ چین عالمی طاقت کے طور پر امریکا کی جگہ لے رہا ہے ۔ ماہرین جس ’ایشائی صدی‘ کی آمد کی پیشگوئی کر رہے تھے اس کا شاید کورونا کی وبا کے دوران ظہور ہو چکا۔ دنیا کے امیر ترین ممالک کے اتحاد کی طرف سے اس طرح کا بیان پہلی مرتبہ آیا ہے جو سو سال سے زیادہ عرصہ تک امریکا کی حکمرانی کے آگئیں سر تسلیم خم اور اس کی ہر بات پر ہاں میں ہاں ملاتا رہا خواہ وہ کسی آزاد ملک پر یلغار ہو یا عالمی سامراجی نظام میں توسیع پسندی۔ سرد جنگ کے دوران یورپ کا کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں تھا جو سویت یونین کا حمایتی رہا ہو۔ 20 سال پہلے جب امریکا نے اسلامی فوبیا کا پرچار کر کے افغانستان کی دولت اسلامیہ کے خلاف محاذ جنگ کھولا تو سارا یورپ اس کے ساتھ تھا۔اس کے برعکس اب یہ غیر معمولی واقعہ رونما ہوا کہ یورپ نے چین کی عالمی حکمرانی کو تسلیم کر لیا جو بلاشبہ امریکہ کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے ۔ یونین کے وزیر خارجہ جوزف بوریل نے جرمنی کے سفارت کاروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ” تجزیہ کار کافی عرصے سے امریکا کی سربراہی میں چلنے والے عالمی نظام کے خاتمے اور ایشیائی صدی کی آمد کی باتیں کر رہے تھے۔ اب ایسے شواہد سامنے آ گئے ہیں کہ چین عالمی طاقت کے طور پر امریکا کی جگہ لے رہا ہے

اور یورپی یونین کو چین کے حوالے سے ایک مضبوط پالیسی طے کرنی ہوگی۔ تاریخ میں کووڈ-19 کی وبا کو ایک ایسے فیصلہ کن موڑ کے طور پر دیکھا جائے گا جب دہائیوں بعد امریکا دنیا کی رہنمائی کرتا ہوا نظر نہیں آ رہا تھا۔اب یہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے اور ہم پر کسی ایک سائیڈ کا انتخاب کرنے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا اور چین کی رقابت کی وجہ سے عالمی ادارے ایسا کردار ادا نہیں کر پا رہے جس کی اس مشکل گھڑی میں ضرورت تھی۔یورپی یونین کو اپنے مفادات اور اپنی قدروں کو سامنے رکھنا ہو گا اور کسی کا آلہ کار بننے سے بچنا ہوگا” ۔۔۔۔ کرونا وائرس کے دوران امریکا اور چین کے درمیان کشمکش میں ماضی کے مقابلے میں تیزی سے اضافہ ہوا، صدر ٹرمپ متعدد بار چین پر الزام لگا چکا کہ دنیا میں کرونا پھیلانے کا ذمہ دار چین ہے ۔ ابتداء میں تو چین نے یہ الزام امریکن فوجیوں پر لگایا تھا۔ الزام درالزام کا سلسلہ اپنی جگہ مگر چین نے اس عالمی بحران کے دوران خود کو ثابت کیا کہ وہ بڑے سے بڑے بحران سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ عالمی قیادت کا بھی اہل ہے ۔ پہلی مرتبہ ہوا کہ عالمی ادارہ صحت اجلاس کے دوران مشکل میں رہا کہ چین کی قیادت تسلیم کرے یا حسب سابق امریکا کو سلام کرے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشمکش نے اسے جکڑ رکھا ہے ۔ صورت حال اس وقت اور بھی دلچسپ ہو گئی جب رواں ہفتے عالمی ادارہ صحت کی سالانہ جنرل اسمبلی میں چینی صدر ژی جن پنگ وڈیو کانفرنس کے ذریعہ شریک ہو ئے تاکہ اس وبا سے نمٹنے کے لئے کوششوں میں زیادہ سے زیادہ مالی معاونت کر سکیں جب کہ ویژن سے خالی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی ادارہ صحت کے خلاف صف آرا ہو گئے۔

۔ کبھی فنڈ روکنے اور کبھی دوسری دھمکیاں دیتا رہا۔ ٹرمپ ڈبلیو ایچ او پر اس لیے بھی برہم ہوا کہ جب جب ٹرمپ نے چین پر کرونا پھیلانے کا الزام لگایا ڈبلیو ایچ او نے ہی اس کی تردید کی کہ امریکہ کے پاس اس کا ثبوت نہیں ہے ۔ اس محاذ پر بھی امریکا کو ہی پسپائی ہوئی۔ خارجہ محاذ پر ہی نہیں بلکہ ہتھیاروں کی دوڑ میں بھی چین امریکا سے آگئے نکل چکا۔ حال ہی میں یہ خبر بھی میڈیا کی ذینت بنی کہ انتہائی تیز رفتار میزائلوں کی تیاری میں بھی امریکا ، چین سے پیچھے رہ گیا ۔ اس خبر کے بعد اب امریکا چین کو یہ دھمکی بھی نہیں دے سکتا کہ بیجنگ اور شنگھائی کو ہیرو شیما اور ناگا ساگی بنا دوں گا ۔ کیوں کہ چینی قیادت نے نہ صرف انتظامی صلاحیتوں اور معاشی برتری میں بے پناہ ترقی کی بلکہ خطرے ناک ہتھیاروں کی تیاری میں بھی امریکا پر سبقت حاصل کر چکی۔گزشتہ کئی برسوں سے امریکا چین پر سبقت حاصل کرنے کےلئے انتہائی تیز رفتار میزائل بنانے کی کوشش کر رہا تھا تاہم اس میں بھی اسے کامیابی نہیں مل سکی۔ چین اس دوڑ میں امریکا سے آگے نکل گیا۔ چین کا یہ میزائل ایک میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر جب کہ انتہائی تیز رفتاری سے سمت تبدیل کر سکتا ہے کہ اسے تلاش یا تباہ کرنا انتہائی مشکل ہو گا ۔ امریکی صدر اس میزائل کو ’’سوپر ڈوپر میزائل‘‘ کہتا ہے کیوں کہ اس کی رفتار کو پکڑنے کے لئے فی الحال امریکا کے پاس ٹیکنالوجی نہیں ۔ لہذا اس میدان میں بھی امریکا کی پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے ٹرمپ انتظامیہ اس کے مقابلے کے لئے ہائپر سونک میزائل کی تیاری پر اربوں ڈالرز خرچ کر رہی ہے مگر خاطر خواہ کامیابی نہ ہو سکی ۔ امریکا کی معاشی پوزیشن کمزور اور چین کی مضبوط ہو رہی ہے، امریکا دنیا میں جاری بے مقصد جنگوں میں اپنے شہریوں کا نقصان بھی کر رہا ہے اور سرمائے کا بھی جب کہ ان جنگوں سے حاصل کچھ بھی نہیں ہو رہا ۔جب کہ چین دنیا میں تجارت کو فروغ دے کر اربوں ڈالر بھی کما رہا ہے اور ملک سے غربت بھی ختم کر رہا ہے اور دنیا کا واحد ملک ہے جہاں آخری انسان بھی غربت کی لکیر سے اوپر چلا گیا ۔

کرونا وائرس نے امریکا کی ہیلتھ پالیسی اور صحت کی سہولتوں کو بری طرح بے نقاب کر دیا جب کہ چین نے ایک ہفتے میں 10 ہزار بستر کا اسپتال کھڑا کر دیا۔ اس صورت حال میں بھی امریکا جنگی خیالات، سامراجی ذہنیت اور توسیع پسندانہ عزائم سے باز نہیں آ رہا اور یہی اس کی تباہی کا ساماں ہے ۔پینٹاگون کے ڈائریکٹر ڈیفنس ریسرچ اینڈ انجینئرنگ فار ماڈرنائزیشن مارک لوئیس نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکا کا مقصد مستقبل کے میدان جنگ پر غلبہ حاصل کرنا ہے۔ تاہم دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کے لیے اب دنیا کو فتح کرنا” دلی دور است” ۔ اگر ہائپر سونک میزائل بن بھی گیا تب بھی امریکا کی جنگ سے بچنے کی صلاحیتوں میں صرف معمولی اضافہ ہوگا اور نہ صرف چین بلکہ روس بھی اس سے آگئے ہو گا ہائپر چین کی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں بہت پیچھے ہے ۔ امریکا اب پہلے کی طرح ایشیائی امور میں مداخلت بھی نہیں کر پا رہا۔ افغانستان میں شکست تسلیم کر چکا ۔ بھارت کو خطہ کا چودھری بنانے کے ارمانوں پر بھی پانی پھر چکا۔ نیپال اور بھارت کے سرحدی تنازعہ کے موقع پر امریکا نے بھارت اور چین نے نیپال کا ساتھ دیا۔ لداخ میں جھڑپوں سمیت خارجہ محاذ پر بھی مودی کی پذیرائی نہیں ہوئی جب کہ تمام تر کوششوں کے باوجود امریکا طالبان سے افغانستان میں بھارت کے کردار کو تسلیم کرانے میں بری طرح ناکام ہو چکا اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ بھارت خطہ کا بڑا ملک ہونے کے باوجود تنہاہ رہ گیا ہے ۔ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں یہ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس وقت 50 سال دور کی سوچ کر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا رخ موڑا اور بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اس تعلق کو مضبوط ہی کیا جو سی پیک کی صورت میں مضبوط تر ہو گیا سی پیک کا کریڈٹ پرویز مشرف کو دیا جائے زرداری صاحب کو یا نوازشریف کو سب نے اپنے اپنے حصے کا کام کیا ۔ ابھی یہ منصوبہ مکمل بھی نہیں ہوا اس کے باوجود پاکستان کی پوزیشن خطہ میں بہت مضبوط ہے ۔ انشاءاللہ مستقبل میں پاکستان دنیا کے اہم ترین ممالک میں سرفہرست ہو گا اور بھارت مسائل سے۔ نکلنے کی کوشش میں ہی پھنسا رہے گا ۔

About BBC RECORD

Check Also

ففتھ جنریشن وار اورقوم پرست

Share this on WhatsAppتحریر؛ عمرفاروق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے235ویں کور کمانڈرز کانفرنس ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے