لیبیا میں 30 تارکین وطن کا انتقامی قتل، 26 بنگلہ دیشی تھے

لیبیا میں انسانوں کے ایک مقامی اسمگلر کے قتل کے بعد مقتول کے خاندان نے انتقاماﹰ خونریز کارروائی کرتے ہوئے تیس غیر ملکی تارکین وطن کو قتل اور گیارہ دیگر کو زخمی کر دیا۔ مرنے والوں میں سے چھبیس بنگلہ دیشی شہری تھے طرابلس سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اپنے اپنے ملکوں سے یورپ میں پناہ کی خواہش کے ساتھ سفر پر نکلنے والے ان درجنوں تارکین وطن کے انتقامی قتل کی لیبیا میں اقوام متحدہ کی تسلیم کردہ حکومت نے بھی تصدیق کر دی ہے۔

لیبیا کی وزارت داخلہ کے مطابق ان تارکین وطن کو اس شمالی افریقی ملک کے دارالحکومت طرابلس سے جنوب کی طرف 150 کلومیٹر (95 میل) دور واقع قصبے مزدہ میں قتل کیا گیا۔بتایا گیا ہے کہ ان 30 مقتولین میں سے 28 بنگلہ دیشی شہری تھے جبکہ باقی چار کا تعلق افریقہ کے مختلف ممالک سے تھا۔ اس کے علاوہ اس قتل عام کے دوران 11 تارکین وطن کو زخمی بھی کر دیا گیا۔

زخمیوں کی قومیتیں نہیں بتائی گئیں۔ یہ زخمی غیر ملکی طرابلس سے 170 کلومیٹر جنوب مغرب کی طرف واقع شہر زنتان کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
شمالی افریقہ کے مسلمان اکثریتی ملک لیبیا میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت فائز السراج (دائیں) کی قیادت میں قائم ہے۔ اُن کی حکومت کو سب سے سخت مزاحمت مشرقی حصے پر قابض جنگی سردار خلیفہ حفتر کی لیبین نیشنل آرمی کی جانب سے ہے۔نیوز ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ اس قتل عام کی وجہ لیبیا کے ایک مقامی شہری اور انسانوں کے ایک 30 سالہ اسمگلر کا قتل بنا، جسے مبینہ طور پر چند تارکین وطن نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر قتل کر دیا تھا۔ اس قتل کے بعد مقتول اسمگلر کے خاندان نے غیر ملکی مہاجرین سے بدلہ لینے کا عہد کیا اور 30 تارکین وطن کو قتل اور 11 کر زخمی کر دیا۔

وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ حکومت ان تارکین وطن کے قاتلوں کو پکڑنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے اور انہیں سزائیں ضرور دلوائی جائیں گی۔ لیبیا 2011ء میں سابق ڈکٹیٹر معمر قذافی کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد سے مسلسل خانہ جنگی کا شکار ہے۔گزشتہ چند برسوں سے ہزاروں تارکین وطن اس لیے ایشیا اور افریقہ میں اپنے اپنے ممالک سے لیبیا کا رخ کرتے ہیں کہ وہاں سرگرم انسانوں کے اسمگلروں کی مدد سے پیسے دے کر سمندری راستوں سے یورپ پہنچ کر پناہ حاصل کر سکیں۔لیبیا کے مختلف شہروں، خاص کر ساحلی علاقوں میں اس وقت بھی ہزارہا ایشیائی اور افریقی مہاجرین پھنسے ہوئے ہیں جو وہاں ناقابل بیان حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکا غنڈہ گردی بند کرے ورنہ جوابی کارروائی کریں گے، چین

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ بیجنگ چین نے ٹک ٹاک اور ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے