حزب اللہ کی دن دہاڑے اسمگلنگ اور سیاسی حکمتِ عملی

تحریر؛ مکرم رباح
سرحدیں دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ اقوام کی معیشت اور سکیورٹی کے لیے بھی سنگین چیلنج بن سکتی ہیں ،اس ضمن میں لبنان ایسے ملک کی تو بات ہی نا کیجیے، جس کی شام کے ساتھ واقع سرحد مسلسل ابتر صورت حال کی یاددہانی کراتی رہتی ہے اور لبنانی ریاست بد سے بدتر کی جانب لڑھکتی چلی جارہی ہے۔گذشتہ چند ہفتوں کے دوران میں لبنان اور شام کی سرحد پر اسمگلنگ کی سرگرمی میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے اور یہ سرگرمی کوئی پوشیدہ نہیں ، نظر بھی آرہی ہے۔مختلف میڈیا ذرائع سے تشہیر کی جانے والی تصاویر میں ٹرکوں کے قافلے دیکھے جاسکتے ہیں۔وہ شام میں پیٹرولیم اور آٹا اسمگل کرنے کے لیے لبنان کے غیر قانونی راستے استعمال کررہے ہیں۔

تاریخی طور پر دونوں ملکوں کے درمیان اسمگلنگ ایک عام سا معاملہ ہے۔لبنان کے بہت سے سرحدی قصبے اس وقت اسمگلنگ کے اڈے بن چکے ہیں۔ان کے مکین دراصل لبنان کی مرکزی حکومت کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیے جانے کی وجہ سے اپنے معاشی ازالے کے لیے یہ کام کررہے ہیں۔لبنان کی مرکزی حکومت سرحدی علاقوں میں کوئی متبادل روزگار کا بندوبست کرنے یا زرعی اور تجارتی ترقی کے لیے کوئی حقیقی ڈھانچا متعارف کرانے میں ناکام رہی ہے۔تاہم اب کہ اسمگلنگ کی سرگرمیوں کا دائرہ کار اور حجم قبل ازیں اختیار کردہ طریقوں سے قدرے مختلف ہے۔اب اسمگلنگ لبنان کی اقتصادی اور سیاسی قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ بن چکی ہے۔یہ بالخصوص اس وجہ سے بھی ایک اہم معاملہ بن چکی ہے کہ لبنان سے دو چیزیں پیٹرول اور آٹا شام میں اسمگل کیے جاتے ہیں، لبنانی ریاست خود ان دونوں کی درآمد پر زرتلافی ادا کرتی ہے۔وہ ان دونوں اشیاء کی لبنان میں درآمد کے لیے وافر رقوم صرف کرتی ہے لیکن کس لیے؟ اس لیے کہ انھیں آگے شام میں اسمگل کردیا جائے۔

حزب اللہ اگر خود اسمگلنگ کی ان سرگرمیوں میں شریک نہیں بھی تو اس نے ان کی اجازت ضرور دے رکھی ہے۔اس تنظیم کا لبنان کی مشرقی سرحد پر کنٹرول ہے اور وہی وہاں فوجی ڈھانچے کی تشریح اور اس کو بروئے کار لانے کی بھی ذمے دار ہے۔چناں چہ اس نے بہت سی غیر قانونی سرگرمیوں کی اجازت دے رکھی ہے بلکہ ایک طرح سے انھیں قانونی قرار دے رکھا ہے۔لبنان کی شام کے ساتھ واقع شمالی سرحد سے بھی اسمگلنگ کی سرگرمی جاری ہے لیکن زیادہ تر اسمگلنگ حزب اللہ کے کنٹرول میں دشوار گذار پہاڑی سلسلے سے ہوتی ہے۔لبنانی حکومت نے 124 غیر قانونی سرحدی گذرگاہوں کی اطلاع دی ہے۔ان سے اسمگلنگ کے نتیجے میں قومی خزانے کو سالانہ 60 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔یہ تو عام سے اعداد وشمار ہیں لیکن کہا یہ جاتا ہے کہ حزب اللہ اور شامی رجیم کے درمیان اسمگلنگ کے بڑے آپریشن کا حجم تو اربوں ڈالر میں ہے۔

اسمگلنگ کی حالیہ کارروائیاں کھلے عام ہونے کی وجہ سے ہر کسی کی نظر میں آرہی ہیں۔بیروت اور دمشق کے درمیان واقع شاہراہ پر ٹرکوں کے بڑے بڑے قافلے دیکھے جاسکتے ہیں حالانکہ یہ ماضی میں شام میں داخلے کے لیے دشوار گذار چور راستے استعمال کرتے تھے۔

اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب ایسا کیوں ہورہا ہے؟
ایک حقیقت تو یہ ہے کہ لبنانی حکومت نے حال ہی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ پیکج کے لیے مذاکرات شروع کیے تھے۔آئی ایم ایف سے اسمگلنگ کی ان سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے ہی شاید رقوم کا بندوبست کیا جارہا تھا۔اس طرح ان مذاکرات میں کارفرما حزب اللہ کی مذموم سازش طشت ازبام ہوجاتی ہے۔حزب اللہ نے ہمیشہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے کہ اس کے ہتھیاروں اور ریاست کی خود مختاری کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں لاقانونیت کے لیے ایک سازگار ماحول دستیاب ہوگیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ اسمگلنگ سمیت ان بہت سے بُرے کاموں سے حاصل شدہ فوائد وثمرات کو سمیٹنے سے بھی انکاری رہی ہے۔

حزب اللہ کے لیڈر حسن نصراللہ نے اپنی ایک حالیہ نشری تقریر میں بڑے بلند آہنگ انداز میں اپنی جماعت کی جانب سے اسمگلنگ کی مذمت کی اور ساتھ ہی بڑی معصومیت سے یہ بھی دعویٰ کردیا کہ اس مظہریت سے نمٹنے کا سادہ طریقہ یہ ہےکہ لبنانی ریاست اسد رجیم کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے اور اس کے ساتھ قریبی روابط سے اسسمگلنگ پر قابو پائے۔ دوسری صورت میں سرحد پر گشت کی مشق کارِ لاحاصل ہے۔حسن نصراللہ لبنانیوں اور عالمی برادری کو یہ باور کرانے کے کا کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتے کہ ان کی جماعت اور اس کے ایرانی پشتیبانوں نے لبنانی ریاست کو یرغمال بنا رکھا ہے لیکن یہ تعاون پر مبنی یرغمال بنانا ہے۔

حزب اللہ نے آئی ایم ایف کے لبنان کے لیے بیل آؤٹ پیکج کی توثیق کرکے بہت سوں کو حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔ یہ اس کا زیرزمین اسمگلنگ رنگ کو منظرعام پر لانے کا مکر وفریب پر مبنی حربہ ہے۔اس سے اس کے آئی ایم ایف کے بارے میں احساسات کی بھی تصدیق ہوجاتی ہے۔حزب اللہ اور اسد رجیم شام میں اشیاء کی اسمگلنگ کی روک تھام نہیں کرسکتے ہیں ، خواہ یہ اشیاء شام میں لائی جارہی ہیں یا شام سے باہر لے جائی جارہی ہیں۔امریکا کے شامی سویلین تحفظ ایکٹ کے مؤثرالعمل ہونے سے لبنان اسد نظام اور ایران کے لیے پابندیوں کو بائی پاس کرنے کے عمل میں زیادہ اہم ثابت ہوجائے گا۔اس سے فطری طور پر لبنان کی لڑکھڑاتی معیشت پر زیادہ دباؤ پڑے گا،بالخصوص لبنان کی مرکزی حکومت کو مطالبات زر کے ضمن میں کرنسی پر پڑنے والے بوجھ کو سہارنا مشکل ہوجائے گا۔ اس کو ایندھن ، گندم اور طبی آلات ایسی ضروری اشیاء کی درآمد پر زرتلافی دینا پڑے گا اور اس وجہ سے اس کی کرنسی دباؤ میں آئے گی۔

آئی ایم ایف اور کسی بھی اور بیل آؤٹ ایجنسی کو پہلے نمبر پر تو لبنانی ریاست کے غائب ہوجانے والے محاصل سے معاملہ کرنا ہوگا۔اس لیے اسمگلنگ اولین ترجیح ہوگی۔اس صورت میں آئی ایم ایف کا بیل آؤٹ پیکج حزب اللہ اور اس کے بہت سے اتحادیوں کے مدمقابل ہوگا۔وہ پھر آئی ایم ایف کو نام نہاد مزاحمت کا گھیراؤ اور تباہ کرنے کے لیے مغرب، اسرائیل سازش پر عمل پیرا ہونے کا الزام دیں گے۔حسن نصراللہ نے واضح طور پر اس بات کا ذکر کیا ہے کہ انھوں نے سرحد پر گشت کے لیے بین الاقوامی حمایت قبولنے سے انکار کردیا ہے کیونکہ اس سے حزب اللہ کی آزادانہ نقل وحرکت کی صلاحیت محدود ہوکررہ جائے گی اور تنظیم کا ایران سے جسم وروح کا رشتہ بھی متاثر ہوگا۔

حزب اللہ کو امید ہے کہ وہ پہلے ایک مسئلہ پیدا کرکے اور پھر اس کا حل تلاش کرکے وزیراعظم حسان دیاب کی کابینہ کی اصلاحات سے مطابقت کی حامل بن جائے گی۔تاہم یہ مذموم اسکیم کوتاہ نظری ہر مبنی ہے ،اس سے لبنانی عوام کے نزدیک اس بات کو تقویت ملے گی کہ ملک میں لبنانی ریاست کی مکمل خود مختاری کی بحالی کے بغیر اصلاحات ممکن ہی نہیں ہیں۔حزب اللہ کی اسمگلنگ کی کارروائیاں اور آئی ایم ایف کی موجودہ بحث اچھی طرح یہ باور کراتی ہے کہ یہ صرف ایران کی مداخلت ہی نہیں جس نے لبنان کو تباہ کیا ہے بلکہ وہ پیکج بھی اس کے لیے تباہ کن ہے جو ایرانی اثرات کے نتیجے میں آئے گا۔اس پیکج سے کسی ایک تنظیم کو تو فائدہ پہنچ سکتا ہے لیکن یہ عرفِ عام میں لبنانی عوام کے لیے ضرررساں ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

ففتھ جنریشن وار اورقوم پرست

Share this on WhatsAppتحریر؛ عمرفاروق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے235ویں کور کمانڈرز کانفرنس ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے