حکومت کاسگریٹ اورشوگری درنکس پر سرچارج کا بل پاس کرنے کا اقدام قابل تحسین ہے، ثناء اللہ گھمن

نسیم الغنی
بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد
پاکستان نیشنل ہار ٹ ایسوسی ایشن (پناہ) پاکستان میں پچھلے 36سالوں سے لوگوں میں دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لئے کام کر رہی ہے اور ہارٹ اٹیک کی صورت میں انسانی جان بچانے کے لئے فری CPRکی ٹرینیگ دینے کے علاوہ غریب اور مستحق لوگوں کے دل کے آپریشن کروانے میں مدد کرتی ہے۔دل کی بیماریاں کی وجوہات کوروکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سیکرٹری جنرل پناہ ثناء اللہ گھمن نے کہا کہ غیر مواصلاتی امراض(NCD) بیماریاں بشمول دل کی بیماریاں، سٹروک،کینسر، گردوں کی بیماریوں کی وجہ سے پاکستان میں شرح اموات ٹوٹل اموات کی 68فیصد ہے اورغیر مواصلاتی امراض(NCD)کے پاکستان میں مریض 3لاکھ اسی ہزار مرداور 3لاکھ عورتیں ہیں اور NCDکی زیادہ تر بیماریوں کی وجہ تمباکو نوشی اور موٹاپا ہے اور موٹاپے کی سب سے بڑی وجہ فاسٹ فوڈ، جنک فوڈ،میٹھا اور شوگری ڈرنکس ہیں اور ان بیماریوں کے ملک پر ہیلتھ اخراجات ٹوٹل ہیلتھ اخراجا ت کے 51فیصد ہے اور سب سے بڑی چیز ان کے استعمال سے انسان میں قوت ِ مدافعت کم ہو جا تی ہے اور ایسے انسانوں پر بیماریاں زیادہ حملہ آور ہوتی ہیں اور ریکوری کے چانسز بھی کم ہو جا تے ہیں

اور یہ چیزیں ضروریات ِ زندگی بھی نہیں ہیں بلکہ بیماریوں کی وجہ ہیں اس سے لوگوں کی تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے اور بیماریوں پر گورنمنٹ کے اخراجا ت میں بھی اضافہ ہوتا ہے اوران بیماریوں پر گورنمنٹ کے اخراجات 190ارب سے تجاوز کر چکے ہیں۔ یہ چیزیں بنانے والی کمپنیاں اپنا حاصل کردہ منافع دوسرے ملکوں میں لے کر چلی جا تی ہیں اور پاکستان میں صرف بیماریاں اور ان پر ہونے والے اخراجات چھوڑجاتی ہیں اور ہمارے معاشرے میں روز بروز ان اشیاء کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے جن میں بچوں کی تعدادسب سے زیادہ ہورہا ہے جس سے ملک کا مستقبل خطرے میں ہے اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ بچے انہیں نقصان دہ نہیں سمجھتے بلکہ فیشن کے طور پر لیتے ہیں۔یہاں گورنمنٹ کی ڈیوٹی بنتی ہے کہ ایسی چیزوں کے استعمال جن کا انسانی زندگی میں کوئی اہم کردار نہیں او رجو بیماریوں کی وجہ بنتی ہے ان کو کنٹرول کیا جائے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ان کی قیمت ایشیا ء میں سب سے کم ہے اور بہت سی ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ کسی چیز کے استعمال کو کم کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کی قیمتیں بڑھا دی جائیں۔

WHOکے مطابق 10فیصد قیمت بڑھانے سے 8فیصد تک استعمال میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔پاکستان میں 200ملین سے زیادہ سافٹ ڈرنکس اور 241ملین سے زیادہ جوسز، سکوائس اور 80بلین سگریٹ سٹکس تیار ہو رہے ہیں،سیکرٹری جنرل پناہ نے کہا کہ پچھلے سال بجٹ میں وزیرِاعظم پاکستان عمران خان کی حکومت نے اس پر ایک بڑا اچھا قدم اُٹھا یا اور سگریٹ اورشوگری درنکس پر سرچارج کا بل پاس کیا جسے کیبنٹ نے اور وزیرِاعظم نے بھی پا س کر چکے ہیں، جو کسی وجہ سے بجٹ میں نافذالعمل نہیں ہوا اگر وہ نافذالعمل ہوا ہوتا تو آج گورنمنٹ کے پاس کردہ بل کے مطابق صرف ان دو چیزوں پر50سے55ارب روپے آمدن سے زائد مل رہے ہوتے، میری وزیرِاعظم پاکستان سے پُرزور اپیل ہے کہ ابھی دیر نہیں ہوئی اس کو نافذالعمل کیا جائے جس سے اتنی اضافی رقم ملے گی جو اس مشکل وقت کے علاوہ لوگوں کی صحت کو بہتر بنانے کے لئے کام آئے گی اور ملک میں بیماریاں کم ہوں گی اور بیماریوں پر اُٹھنے والے گورنمنٹ کے اخراجات میں کمی آئے گی۔

About BBC RECORD

Check Also

کراچی: لاہور سے آنیوالا مسافر طیارہ گرکر تباہ، 100 کے قریب افراد کی ہلاکت کا خدشہ

Share this on WhatsAppتجمل ہاشمی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ کراچی ائیر پورٹ کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے