دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے اپنا مال خرچ کرنے والے معاشرے کا فخر ہیں۔ جنرل خالد مقبول

شبیر خان سدوزئی
بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ لاہور
دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے ہمیشہ کمر بستہ رہنے اور اللہ کی خوشنودی کیلئے اپنا مال فراخدلی سے خرچ کرنے والے مخیر اور صاحب ثروت لوگ ہی ہمارے معاشرے کی اصل پہچان اور باعث فخر ہیں اور کارپوریٹ سیکٹر بھی اپنی سماجی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے پوری کر رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ، انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائر) خالد مقبول نے انسٹیٹیوٹ میں بائیو سیفٹی لیب لیول 3 (BSL-3) کے قیام کیلئے قیمتی طبی آلات اور مشینری مہیا کرنے والے کارپوریٹ سیکٹر کے نمائندوں میں ان کی خدمات کے اعتراف میں شیلڈ ز تقسیم کرنے کے موقع پر کیا۔ جنرل خالد مقبول کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انسانیت کا درد رکھنے والے صاحب حیثیت لوگوں اور اداروں کی کمی نہیں اور جب بھی پاکستانی قوم پر کوئی مشکل وقت آیا یا قدرتی آفت آئی تو ان لوگوں نے ہمیشہ آگے بڑھ کر عطیات دیئے اور ضرورت مندوں کی مدد کی ہے۔ خالد مقبول نے کہا کہ پوری دنیا کی طرح کورونا وائرس سے پاکستان بھی بری طرح متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور وزیر اعظم عمران خان کی ہر ممکن کوشش ہے کہ غریب عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ عمران خان کی ان کوششوں میں پاکستان کے عوام نے بھر پور تعاون کرتے ہوئے وزیر اعظم کے فنڈ میں دل کھول کر عطیات دیئے ہیں۔ خالد مقبول نے انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں اسٹیٹ آف دی آرٹ BSL3 لیبارٹری کے قیام میں مالی تعاون فراہم کرنے پر الائیڈ بینک، فیصل بینک، اسلامک بینک، Finca بینک اور عالمی ادارہ صحت WHO کا شکریہ ادا کیا اور ان کے نمائندوں میں شیلڈز تقسیم کیں۔

اس موقع پر انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے بتایا کہ IPH وزیر اعلی پنجاب اور وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے ویژن اور ہدایت کے مطابق کورونا وائرس کنٹرول کرنے اور مریضوں کے ٹیسٹ کرنے کیلئے خدمات فراہم کر رہا ہے اور BSL 3 اسی مقصد کیلئے قائم کی گئی ہے علاوہ ازیں انسٹیٹیوٹ کا COVID 19 پر ریسرچ کے سلسلہ میں یونیورسٹی آف ویٹرنری سائنسز کے ماہرین اور دیگر اداروں سے بھی باہمی رابطہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ اب تک اس لیبارٹری میں کورونا کے 4 ہزار ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں اور روزانہ دو سو ٹیسٹ کرنے کی کیپیسٹی ہے جسے ایک ہزار تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر زرفشاں طاہر کا کہنا تھا کہ کورونا کی ویکسین ایجاد ہونے اور مؤثر دوائی مارکیٹ میں آنے تک ہمیں طویل عرصہ تک اس وائرس کے ساتھ ہی رہنا ہوگا لہٰذا ہمیں اپنی سماجی اور تہذیبی اقدار اور طرز زندگی میں تبدیلی لانا ہوگی تاکہ احتیاطی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ کو وائرس سے محفوظ رکھ کر اپنے معمولات زندگی نارمل طریقہ سے گزار سکیں۔

About BBC RECORD

Check Also

عابد ملہی کی گرفتاری، بیٹے کو خود پولیس کے حوالے کیا: والد کا دعویٰ

Share this on WhatsAppشبیر خان سدوزئی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ لاہور عابد ملہی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے