پنجاب میں کورونا وائرس کے تمام مریضوں کا بہترین علاج معالجہ جاری ہے؛ صوبائی وزیر صحت

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ لاہور
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا ہے کہ پنجاب میں کورونا وائرس کے کنفرم کیسز کی تعداد 13561، اموات 223اور صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد4636مریض ہے۔ کورونا وائرس کے 37مریضوں کی حالت تشویشناک اور آج 5365کورونا وائرس کے تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے اور اب تک کورونا وائرس کے 1لاکھ 47ہزار567 تشخیصی ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں۔ جس کے اندر سرکاری اور نجی لیبز کے اعداد و شمار شامل ہیں۔لاک ڈاؤن میں نرمی کا آج تیسرا روز ہے۔ اہم پریس کانفرنس کے موقع پر سپیشل سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر اجمل بھٹی، سپیشل سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نادر چٹھہ، چیف ایگزیکٹو آفیسر میوہسپتال و ایکسپو سنٹر کورونا وائرس ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر اسداسلم خان اور ایم ایس میو ہسپتال ڈاکٹر طاہر خلیل موجود تھے۔ صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشد نے اس موقع پر مزید کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا بنیادی مقصد عوام کو آگاہ کرنا ہے کہ کورونا وائرس ختم نہیں ہوا، حکومت کی جانب سے وضع کئے گئے تمام ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے۔

عوام سے سماجی فاصلہ اور کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور اپنے بزرگوں کا خاص خیال رکھیں۔ حکومت جتنی مرضی کوشش کر لے جب تک عوام حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد نہیں کریں گے تب تک کورونا وائرس پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ مغربی ممالک کی نسبت پاکستان میں اموات کی شرح کم ہونے کا مطلب بالکل یہ نہیں ہے کہ عوام احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد نہ کریں یا نظرانداز کریں۔ خدانخواستہ اگر کورونا وائرس کی وباء وسیع پیمانے پر پھیل گئی تو پھر تشویشناک مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ پنجاب میں کورونا وائرس کے تمام مریضوں کا بہترین علاج معالجہ جاری ہے جن کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ ہے۔ حکومت کے لئے اس وقت سب سے زیادہ ضروری عوام کی صحت ہے۔ پنجاب میں کورونا وائرس کے تشخیصی ٹیسٹوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔

صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشد نے اس موقع پر مزید کہا کہ ایک سینئرصحافی نے ایکسپوسینٹر کورونا وائرس ہسپتال بارے فورانزک آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے اور بے ضابطگیوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ بات یہاں پر واضح کی جا رہی ہے کہ سینئرصحافی کو ملنے والی دستاویزات اور اعداد و شمار میں کل اخراجات کا تخمینہ لاگت دیا گیا۔ اس لئے آج مناسب سمجھا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات اور خرچ کئے جانے والے وسائل کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھ دیں۔ ایکسپوسینٹر کورونا وائرس ہسپتال قلیل ترین مدت میں قائم کیا گیا سب سے بڑا فیلڈ ہسپتال ہے جس کا تخمینہ لاگت زیادہ رکھا گیا تھا۔جب بھی کسی منصوبے کا تخمینہ لاگت لگایا جاتا ہے تو آپریشنل کاسٹ سمیت تمام اخراجات مدنظر رکھے جاتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وباء ابھی ختم نہیں ہوئی جو کسی بھی وقت مزید پھیل سکتی ہے۔ آغاز میں ہم نے کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لئے لاہور میں 3سرکاری ہسپتالوں میوہسپتال، پی کے ایل آئی اور ایکسپوسینٹر کورونا ہسپتال کو مختص کیا۔محکمہ صحت پنجاب نے اب تک ضلعی انتظامیہ کو ایکسپوسینٹر کورونا وائرس ہسپتال کے اخراجات کی مد میں 7کروڑ روپے کا چیک دیا تھاجس کی ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے آئی ہوئی تفصیلی دستاویزات عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ جس کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے ایک کروڑ روپے لکڑی کی پارٹیشن پر خرچ کئے ہیں جس کا تخمینہ لاگت 4کروڑ 50لاکھ تھا۔ سامان کی خریداری کے لئے بھی ایک کروڑ روپیہ دیا ہے جس کا تخمینہ لاگت 25بلین روپے تھے۔ حتیٰ کہ مخیرحضرات کی جانب سے کھانے یا فراہم کی گئی دیگر سہولیات کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے پیش کر دی ہیں۔ حکومت کے ہر پروجیکٹ کی ہمیشہ تھرڈ پارٹی ایویلیوایشن کی جاتی ہے۔ خاص کر جب آپ کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے اقدامات اٹھا رہے ہوں۔

ایکسپوسینٹر کورونا وائرس ہسپتال میں کئے جانے والے تمام اخراجات کی تھرڈ پارٹی ایویلیوایشن کے تحت نیسپاک کے ریذیڈنٹ انجینئر بریگیڈیئر سعید احمد ملک نے مکمل جانچ پڑتال کی ہے۔ مہربانی فرما کر عوام میں کسی بھی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ کی جائے جبکہ ہم ایک بہت ہی مشکل وقت سے لڑ رہے ہیں۔ افسوس صرف اس بات پر ہوا کہ لاہور انتظامیہ نے دن رات کی انتھک محنت کے بعد صرف قلیل ترین عرصہ 9دن کے بعد ایکسپو سینٹر کورونا سینٹر ہسپتال قائم کیا جس کے بارے میں عوام میں غلط فہمی پیدا کی جا رہی ہے جو کہ کورونا وائرس کے مریضوں کی خدمت کرنے والے ڈاکٹرز کے لئے انتہائی تکلیف دہ بات ہے۔ یہاں واضح کرتے جائیں کہ ایکسپوسینٹر کورونا وائرس ہسپتال کی اب تک کل پے منٹ 2کروڑ روپے ہوئی ہے۔اب تک اس فیڈ ہسپتال میں 490مریض داخل ہوئے ہیں اور الحمدللہ ان میں سے 275لوگ صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔ اب تک محکمہ صحت پنجاب کے سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے ہسپتالوں کو 1.5بلین روپے اور پرائمری اینڈ سیکنڈری کیئر کے ہسپتالوں کو 6.5بلین دیئے گئے۔ میڈیا کو فراہم کی گئی دستاویزات میں ایک ایک چیز کا حساب ہے۔ میوہسپتال کو 10کروڑ جس میں ایکسپوسینٹر کورونا وائرس ہسپتال بھی میوہسپتال کے ذمے ہے۔ پی کے ایل آئی لاہور کو 10کروڑ، نشتر ہسپتال کو 10کروڑ اور راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی کو 10کروڑ روپے دیئے گئے۔ 96کروڑ روپے کی رقم کو تمام سرکاری ہسپتالوں میں ادویات اور حفاظتی سامان کی خریداری کے لئے تقسیم کیا گیا۔ ٹرشری کیئر ہسپتالوں اب تک 88کروڑ روپے اخراجات کی مد میں دیئے گئے ہیں۔ آج سے تین ہفتے قبل ایکسپوسینٹر کورونا وائرس ہسپتال میں میوہسپتال کے ڈاکٹرز،نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ اب تک ہم نے لاہور میں 268، راولپنڈی میں 69، گجرات میں 21، سرگودھا میں 8 اور ملتان میں 10ڈاکٹرز و عملہ ہائیر کیا ہے۔ 1000لوگوں کا انٹرویو کیا گیا تھا اور ضرورت کے مطابق نئے بھرتی کئے جانے والے لوگوں کو اب تنخواہ دی جائے گی اور یہ غلط فہمی بھی دور کرتی جاؤں کہ ایکسپوسینٹر کورونا وائرس ہسپتال میں خاکروبوں سے نہیں بلکہ سینئرڈاکٹرز کی نگرانی میں مریضوں کا علاج جاری ہے۔ ایکسپوسینٹر کورونا وائرس ہسپتال کے بارے غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے ہرقسم کی تسلی اور ثبوت فراہم کرنے کو تیار ہیں۔

اس ہسپتال میں کورونا وائرس کے مریض کی حالت بگڑنے پر میوہسپتال یا پی کے ایل آئی میں شفٹ کر دیا جاتا ہے۔ شوکت خانم ہسپتال نے بھی ہمیں وینٹی لیٹرز دینے کی پیشکش کی ہے۔ محکمہ صحت پنجاب کی ویب سائٹ کا روزانہ کی بنیاد پر کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے کئے گئے اقدامات پر اخراجات اپ لوڈ کئے جاتے ہیں جوکہ ایک عوامی معلومات ہیں۔ محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر اب تک 81کروڑ روپے خرچ کر چکا ہے جس میں حفاظتی کٹس،8بی ایس ایل لیور تھری لیبزکا قیام، پی سی آر کٹس کی خریداری، عوامی آگاہی مہم، ٹریننگ میٹریل و دیگر سامان کی خریداری کی تفصیلات موجود ہیں۔ مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو اب تک ایک ارب 70کروڑ روپے کے لگ بھگ رقم خرچ ہوئی ہے جس کی تفصیلات پنجاب اسمبلی کے فلور پر بھی پیش کی جائیں گی۔ پنجاب میں آئیسولیشن پالیسی آ چکی ہے۔ حکومت کورونا وائرس کے مریض کے گھر کا جائزہ لے کرہسپتال میں علاج یا گھر جانے کی اجازت دے گی۔
صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ہم عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کرنے پر مکمل یقین رکھتے ہیں جس میں کسی قسم کی بے ضابطگی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کی شکایت پر مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔پروفیسر ڈاکٹراسد اسلم خان نے کہا کہ ایکسپوسینٹر کورونا وائرس ہسپتال میں مریضوں کے احتجاج کی وجہ سہولیات کا فقدان ہرگز نہ تھا بلکہ کورونا وائرس کے کنفرم مریض اپنی سہولت کی خاطر اپنے اپنے اضلاع میں جانا چاہتے تھے جس کی اجازت لے کر ان کو ان کے اضلاع میں بھجوا دیا گیا۔

About BBC RECORD

Check Also

ایف اے ٹی ایف پر پاکستان کے خلاف سعودی ووٹ پروپیگنڈہ ہے: دفتر خارجہ

Share this on WhatsAppپاکستان نے فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس ’’ایف اے ٹی ایف‘‘ کے حوالے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے