جرمنی: تمام دکانیں، کاروبار اور اسکول کھولنے کی تیاری

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے وائٹ ہاؤس میں سرگرم ٹاسک فورس کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب معیشت کو کھولنے پر توجہ مرکوز کریں گے یورپ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں برطانیہ میں ہوئی ہیں جہاں کووڈ 19 سے اب تک 29 ہزار 427 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ امریکا کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب برطانیہ میں سب سے زیادہ ہے۔

عالمی سطح پر دس لاکھ سے زیادہ افراد کورونا وائرس سے اب تک صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔جرمنی میں لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی جاری ہے اور اب کار کمپنیاں فروخت میں اضافے کی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے۔

ترکی نے آئندہ پیر سے تمام بڑے کارخانے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جرمنی میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے 947 مزید معاملات سامنے آئے ہیں اور اس طرح بدھ چھ مئی تک وہاں کووڈ 19 سے متاثرین کی مجموعی تعداد 164807 پہنچ گئی ہے۔ اس وبا سے 165 مزید افراد ہلاک ہوئے ہیں اور اس طرح جرمنی میں کورونا وائرس کے سبب مرنے والوں کی تعداد 6996 ہو گئی ہے۔

ادھر جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور جرمنی کی سولہ ریاستوں کے سربراہوں نے لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں بات چیت سے قبل جس مسودے پر اتفاق ہوا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ اگر سوشل ڈسٹینسنگ کے اصول و ضوابط پر عمل کرنے کا عہد کریں تو پورے ملک میں چھوٹے بڑے تمام کارباری مراکز کو کھولنے کی اجازت ہوگی۔ اس فیصلے کے مطابق موسم گرما کی تعطیلات کے آغاز سے قبل ہی تقریبا ًتمام بچے اسکول آنا شروع کردیں گے، لیکن ان سب کو حفاظتی ضابطوں پر عمل کرنا ہوگا۔

بڑے عوامی اجتماعات جیسے فیسٹیول یا سپورٹس کے پروگراموں پر اگست کے اواخر تک پابندیاں نافذ رہیں گی۔ فٹبال میچز کھیلنے کی پندرہ مئی سے اسٹیڈیم میں اجازت ہوگی لیکن مئی کے اواخر تک اسٹیڈیم میں شائقین اور مداحوں کو جمع ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ بچوں کے بھی آؤٹ ڈورگیمز اور غیر پیشہ وارنہ میچز کی اجازت ہوگی۔ اگر کسی کیئر ہوم میں کووڈ 19 کا معاملہ نہ ہو تو وہاں رشتے داروں کے جانے اور ملاقات کرنے کی اجازت بھی دی جائے گی۔ رہنماؤں کے درمیان ان نکات پر اتفاق کا مطلب یہ ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ملکی سطح پر جو لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا اسے موثر طریقے سے ختم کیا جائے اور اب بندشوں سے متعلق اختیارات ریاستی انتظامیہ کے پاس ہوں گے۔

امریکا کی صورت حال

امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں کورورنا وائرس کی وبا کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی ‘ٹاسک فورس’ کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ان کی انتظامیہ معیشت کی بحالی پر توجہ دے گی۔ صدر ٹرمپ نے اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ”ہم اپنے ملک کو آئندہ پانچ برس کے لیے تو نہیں بند کر سکتے۔ تو کیا کچھ افراد اس سے متاثر ہوں گے؟ جی ہاں۔ کیا کچھ افراد بری طرح متاثر ہوں گے؟ جی بالکل ہوں گے۔ لیکن ہمیں تو اسے کھولنا ہی ہے۔”

کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اس خصوصی ‘ٹاسک فورس’ کے سربراہ نائب صدر مائیک پینس تھے اور اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اس کے لیے ایک نئی ٹیم تشکیل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے سربراہ ان کے داماد جیراڈ کشنر ہوں گے۔ امریکا میں اب تک کووڈ 19 سے 71000 سے بھی زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ بارہ لاکھ سے زیادہ مصدقہ کیسز ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 2333 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگست تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد دوگنا ہو سکتی ہے۔

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی زنہوا کے مطابق چینی ریاست ہوبائی، جس کے شہر ووہان سے کورونا وائرس کے ابتدا ہوئی تھی،گزشتہ بتّیس دنوں میں کووڈ 19 کے کسی نئے کیس کا پتہ نہیں چلا ہے۔ چین کے لیے اس طرح کی خبریں جہاں کافی حوصلہ بخش ہیں وہیں کورونا وائرس کی لڑائی میں یہ کوشش ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ چین میں اب بتدریج پابندیاں ختم کی جا رہی ہیں اور زندگی معمول کی طرف لوٹ رہی ہے۔

کورونا وائر کی وبا اب لاطینی امریکی ممالک میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے اور خطے کے کئی ممالک کو اپنی گرفت میں لے چکی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس پورے خطے میں کووڈ 19 سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً پونے تین لاکھ تک پہنچ گئی ہے اور اب تک تقریباً پندرہ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ برازیل متاثر ہوا ہے جہاں تقریباً 7921 افراد فوت ہو چکے ہیں اور گیارہ ہزار سے زیادہ مصدقہ کیسز ہیں۔ میکسیکو میں بھی 2271 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے آئندہ چند ہفتوں میں کئی لاطینی امریکی ممالک میں کورونا کی وبا اپنے عروج پر ہوگی۔

About BBC RECORD

Check Also

وزیراعظم پاکستان نے گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھادیا، اسلامو فوبیا کیخلاف یوم منانے کا مطالبہ

Share this on WhatsAppڈاکٹر زولفقار کاظمی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ اسلام آباد پاکستان ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے