اوپیک پلس تنازع کا نقصان روس ہی کو ہوگا!

تحریر؛ سیرل وِڈر شوون
سعودی عرب اور روس کے درمیان عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر پیدا ہونے والے تنازع کے مختلف تجزیے کیے جارہے ہیں اور یہ کہا جارہا ہے کہ اس کے سعودی مملکت پر بہت ہی منفی اثرات مرتب ہوں گے جبکہ روس کے بارے میں مثبت تجزیے کیے جارہے ہیں۔بہت سے تجزیہ کاروں کو یقین ہے کہ روسی معیشت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے پڑنے والا مالی بوجھ سہار جائے گی کیوں کہ حالیہ برسوں کے دوران میں اس نے زرمبادلہ کے وافر ذخائر اکٹھے کیے ہیں۔

تاہم یہ تجزیہ بالکل بھی درست نہیں۔تیل کی قیمت پر جنگ کا یقینی طور پر کوئی فاتح نہیں ہے لیکن روس کو سعودی عرب کی نسب اس کا زیادہ خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔اگر روس کے مالیاتی ذخائر کو ملحوظ رکھا جائے اور ان کا سعودی عرب کی حکومت کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اور بیرون ملک اثاثوں سے موازنہ کیا جائے تو پھر بھی پلڑا سعودی عرب ہی کی جانب جھکتا ہے۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ روس کی تیل کی پیداواری لاگت سعودی عرب کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہے۔اگر سرمائے اور پیداواری لاگت کو اکٹھے دیکھا جائے تو روس کی لاگت ایک بالکل مختلف شکل اختیار کر جاتی ہے۔ اگر صرف پیداواری لاگت ہی کو ملحوظ رکھا جائے تو سعودی عرب کسی قسم کے مسئلے سے دوچار ہوئے بغیر تیل کی کم قیمتوں پربھی ہدف کو پورا کرسکتا ہے۔

روس کے لیے حقائق عام تفہیم کے برعکس مستقبل کی دھندلی تصویر پیش کررہے ہیں۔روس کے تیل اور گیس کے انتظام کو مجموعی شکل میں دیکھا جانا چاہیے، پیداواری لاگت کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔یہ لاگت سعودی عرب سے کہیں زیادہ ہے اور پھر مملکت اپنی تیل کی پیداوار میں اعلیٰ پیمانے پر اضافہ بھی کرسکتی ہے۔تیکنیکی اور عملی طور پر روس کی تیل کی پیداوار پہلے ہی بلند ترین سطح پر ہے جبکہ تیل اور گیس کی مارکیٹوں تک ترسیل یا حمل ونقل اس کے لیے بدستور ایک بڑا مسئلہ ہے۔

روس کی تیل اور گیس کی پیداوار کو برقرار رکھنے کے لیے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔پیداوار میں ڈرامائی اضافے کے لیے بہت زیادہ نقدی اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے لیکن فی الوقت یہ دستیاب نہیں ہے۔

سعودی عرب کی سطح کے مقابلے میں روس آئیل فیلڈ کی خدمات اور مالیات تک رسائی کا حامل نہیں ہے۔روس پر عاید موجودہ اور نئی پابندیاں پہلے ہی دور دراز اور وسطی علاقوں میں پیداواری سرگرمیوں کو محدود کرنے کا موجب بن رہی ہیں۔

روسی صدر ولادی میر پوتین کے مصاحبین مالیاتی مارکیٹوں تک اس سطح کی رسائی نہیں رکھتے ہیں ، جتنی کہ سعودی آرامکو کو حاصل ہے۔روس کے تیل ، گیس اور مالیات کے شعبوں کی ترقی کا راستہ پابندیوں سے مسدود کردیا گیا ہے یاپھر سرمایہ کاروں کو ان میں سرمایہ کاری میں کوئی دلچسپی نہیں ہے جبکہ سعودی عرب اب بھی بڑی اعلیٰ (پریمیم) سطح پر مالیاتی مارکیٹوں میں داخل ہونے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتین کی برجستہ گوئی کو سعودی عرب نے مسترد کردیا ہے جبکہ وہ بظاہر اس کی توقع نہیں کرتے تھے۔سعودی عرب نے حال ہی میں تیل کے شعبے میں اعلیٰ پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں،اس نےاپنی حکمت عملی کو تبدیل کیا ہے اور فعال نوجوان قیادت کو متعارف کرایا ہے۔

روس کے مشرقِ اوسط اور اوپیک پلس میں شطرنج کے کھیل کا الریاض کے تاویلا نامی اقدام سے مقابلہ کیا گیا ہے۔اس کے بعد ابوظبی نے بھی اس کی پیروی کی اور آرامکو کی طرح اس نے بھی اپنی پیداوار میں نمایاں اضافہ کردیا تھا۔اس وقت تعطل جاری ہے اور روس کی توقعات کے برعکس اوپیک کے رکن ممالک اپنی پیداوار کو باضابطہ بنا رہے ہیں۔عالمی مارکیٹ میں تیل کی کم قیمت سے روس عمومی اندازوں سے بھی زیادہ متاثر ہوگا۔اس سے وہ پہلے ہی متاثر ہورہا ہے اور اس کا اندازہ جیزپرام ،روزنیفٹ اور دوسروں کے غصیلے چہروں سے کیا جاسکتا ہے۔

صدر پوتین نے امریکا کے شیل ہی کی جانب دیکھا ہے اور انھوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مکمل پیداوار سے صرف نظر کیا ہے اور اس کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ماسکو نے بظاہر اس بات کا بھی کوئی اندازہ نہیں لگایا تھا کہ اگر خلیجی عرب ممالک اپنی پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف امریکا کے تیل پر اثرات مرتب ہوں گے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ روس بھی اس کا ہدف ہوگا۔ الریاض نے یورپی ممالک کو سعودی خام تیل کی نہایت ارزاں نرخوں پر فروخت کی پیش کش کی ہے۔اس سے روس کی صارف مارکیٹ بری طرح متاثر ہوگی۔

سعودی عرب اپنی پیداوار میں اضافے اور اس کو برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ روس تیل کی پیداوار میں درمیانی سطح کا اضافہ کررہا ہے۔ ماسکو بظاہر اس حقیقت کو جاننے کے بعد بھی بیدار ہوگیا ہے کہ عمومی طور پر تیل کی قیمت میں اضافہ کوئی اچھا نظریہ نہیں ہے۔ اس سے یورپ اور دوسرے خطوں کو قدرتی گیس کی برآمد بھی متاثر ہوگی کیونکہ گیس کے ٹھیکے جزوی طور پر تیل کی قیمت سے منسلک ہیں۔

تاویلا کا کھیل روس کے لیے دو دہاری تلوار ثابت ہوا ہے۔ایک جانب تو ولادی میر پوتین تیل کی قیمت میں کمی کا ہدف بنے ہیں،دوسری جانب خلیجی عرب ممالک کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور یوں روس کا مارکیٹ میں حصہ خطرے سے دوچار ہوگیا ہے لیکن بالواسطہ طور پراس میں قدرتی گیس بھی شامل ہوگئی ہے۔روس کی ایشیلس کا بظاہر یہ ایک ماسٹر اسٹروک ہونا چاہیے کہ اس سے سن زو اور کلاس وٹز حسد میں مبتلا ہوجائیں۔

About BBC RECORD

Check Also

سڑکوں پر پڑے منشیات کے عادی افراد اور ایک مسیحا

Share this on WhatsAppتحریر؛ غلام مرتضی باجوہ معاشرے میں دوسروں کی مدد کرنا اور حقوق ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے