گرمی اور نمی کرونا وائرس کو خاتمہ نہیں‌کرسکتے، تحقیق

رابرٹ ولیم
بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ؛ واشنگٹن
امریکی سائنس دانوں نے ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور نمی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار کو آہستہ کرسکتا ہے لیکن اسے مکمل طور پر ختم نہیں کرسکتا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دو چینی یونیورسٹیوں میں 100 سے زائد تحقیق کاروں نے کرونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کےلیے تحقیق کی، جس میں بتایا گیا ہے کہ درجہ حرارت وائرس کے پھیلنے کی رفتار کو آہستہ کرسکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ درجہ حرارت اور نمی کی بڑھتی ہوئی سطح ممکنہ طور پر دنیا بھر میں کرونا وائرس کی عالمی وبا کے پھیلاؤ کو کم کرسکتی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی عوام کو یقین دلایا ہے کہ 45 ہزار سے زائد کرونا وائرس میں مبتلا مریض اپریل کے اختتام تک ٹھیک ہوجائیں گے کیونکہ عام طور پر یہ وائرس گرمی میں ختم ہوجاتا ہے۔

دوسری جانب صحت عامہ کے ماہرین اور تحقیق کاروں نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ کرونا وائرس گرم درجہ حرارت میں پنپ نہیں پارپا لیکن گرمی اور نمی صرف وائرس کے بڑھنے کی شرح کو کم کررہا ہے۔واضح رہے کہ کوویڈ 19 وائرس دسمبر میں چین میں پھیلنا شروع ہوا تھا اور سرد موسم کے باعث دیکھتے ہی دیکھتے اس وائرس نے دنیا بھر میں 4 لاکھ سے زائد افراد کو اپنا شکار بنالیا ہے لیکن اب موسم بہار کی آمد ہے اور چین میں گزشتہ کوئی بھی کرونا وائرس کا کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ فروری میں ایک ہی دن میں چین میں 15 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔خیال رہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا نے دنیا بھر میں 4 لاکھ 35 ہزار 391 افراد کو اپنا شکار بنالیا ہے جبکہ 19 ہزار 620 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن بھی کرونا وائرس کا شکار ہوگئے

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ؛ برطانیہ وزیر اعظم بورس جانسن ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے