فرانس کا شام کے معاملے پر ترکی اور روس پر مشتمل سمٹ بلانے کا مطالبہ

فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے جُمعہ کے روز ایک بیان میں شام میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے جرمنی، روس اور ترکی کی قیادت پر مشتمل سربراہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روس اور ترکی پر مشتمل ایک سربراہ اجلاس جلد از جلد ہونا چاہیے تاکہ ادلب میں جاری لڑائی کسی انسانی المیے تک پہنچنے سے قبل اس کی روک تھام کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں جلد از جلد جرمنی، روس اور ترکی کے ساتھ استنبول میں ایک ملاقات کرنا ہوگی۔

انہوں نے برسلز میں یورپی یونین کے ایک اجلاس سے خطاب سے کے بعد اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روس کی مدد سے دمشق حکومت کی فوجیں حملے کو روکنے کے مطالبے کے باوجود شمال مغربی شام کے علاقے ادلب میں اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔صدر ماکروں اور جرمنی کی چانسلر انجیلا میرکل نے اس سے قبل جمعرات کو ترک صدر رجب طیب اردوآن اور روسی صدر ولادی میر پوتین سے ٹیلیفون پر بات چیت کی تھی۔ اس بات چیت میں بھی دونوں رہ نمائوں نے انقرہ اور ماسکو پر ادلب میں خون خرابہ روکنے اور انسانی تباہی کا سلسلہ بند کرانے پر زور دیا تھا۔

دوسری جانب طیب اردوآن نے ادلب میں بشارالاسد کی حکومت اور اس کے حامیوں کے حملے روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ترک ایوان صدر نے ایک بیان میں کہا کہ انسانی تباہی کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔رواں ماہ کے آغاز سے ہی ادلب میں دمشق اور انقرہ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں۔ محاذ جنگ پر ہونے والے تصادم میں دونوں اطراف میں فوجیوں کی اموات ہوئیں۔ گذشتہ چند ماہ کی پیش قدمی کے دوران شامی حکومت کی وفادار فوج نے روس ترکی معاہدے کے تحت قائم کیے گئے ترکی کے 12 مانیٹرنگ مراکز میں سے کم سے کم تین کو قبضے میں لے لیا۔ گذشتہ برس دسمبر سے جاری لڑائی میں ادلب سے نو لاکھ کے قریب لوگ نقل مکانی پرمجبور ہوچکے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

سعودی عرب سے افغانستان منتقل ہونے والا طالبان کمانڈر گرفتار

Share this on WhatsAppکابل؛ تحریک طالبان اور سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک کے درمیان ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے