‘یو این’ رپورٹ میں حوثیوں‌ کی ‘زینبیات’ ملیشیا کے جرائم کا پردہ چاک

حال ہی میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے ماتحت خواتین پر جنگجوئوں پرمشتمل ‘زینبیات’ ملیشیا’ کے مکروہ کردار کا پردہ چاک کیا ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حوثیوں‌کی زینبیات ملیشیا ایرانی حمایت یافتہ باغیوں کے مکروہ چہرے کا ایک اور بھیانک اور تاریک رخ ہے۔ یہ ایک انٹیلی جنس اور جاسوس نیٹ ورک ہے جو حوثیوں کی مخالفت کرنے والی خواتین کو ہراساں کرنے، انہیں جنسی، جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے جیسے جرائم میں ملوث ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حوثی گروپ کا ویمن ونگ یمن کی آئینی حکومت کی حمایت کرنے والی خواتین کو تشدد اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانا ہے۔ یہ گروپ خواتین پر جنسی تشدد جیسے جرائم میں بھی پیش پیش ہے۔ اس وقت یہ گروپ صنعاء میں فوج داری امور کے ذمہ دار ادارے کے سربرا سلطان زابن کی نگرانی میں کام کررہا ہے۔اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ سلامتی کونسل میں‌پیش کی گئی ہے اور اسے حوثیوں کی یمن میں‌انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے ضمن میں شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ باغیوں کے ویمن ونگ میں شامل خواتین مخالف خواتین کو گرفتار کرنے، ان کے گھروں میں‌لوٹ مار کرنے، جنسی تشدد، مار پیٹ اور خفیہ حراستی مراکز میں ڈالی گئی خواتین کی اجتماعی آبرو ریزی میں سہولت فراہم کرنا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ‘حوثی’ ملیشیا کی ‘زینبیات گروپ سےوابستہ خواتین اپنے کندھوں پر راکٹ لانچر، کلاشنکوفیں اور مشین گنوں سمیت دیگر اسلحہ اٹھائے دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان میں سے بعض کی سامنے آنےوالی تصاویر میں انہیں بچے اٹھائے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ زینبیات گروپ 3 سال قبل سامنے آیا جسے حوثیوں کےویمن ونگ کے طورپر جانا جاتا ہے۔
زینبیات کی ذمہ داریاں


اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی وفادار ‘زینبیات’ ملیشیا کو کئی ایسی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جنہیں اخلاق سے عاری کہا جاسکتا ہے۔ انہیں انٹیلی جنس اور سراغ رسانی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس گروپ سے واستہ جنگجو خواتین مخالف خواتین کے بارے میں جاسوسی کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ گھروں میں چھاپوں کے دوران خواتین کی تلاشی، گھروں میں تلاشی، حوثی گروپ کے نظریات کا فروغ اور جیلوں‌میں نظم وضبط برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرنا جیسی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حراست میں لی گئی خواتین کی آبرو ریزی کرانے میں زینبیات ملیشیا کا بھی ہاتھ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ گروپ خواتین کے اغواء اور ان کی جبری گم شدگی میں بھی ملوث ہے۔ یہ گروپ خواتین پر قحبہ گری اور عصمت فروشی کا الزام عاید کرکے انہیں گرفتار کرلیتی ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

کابل گوردوارے میں قتل عام کرنے والا بھارتی شہری تھا، انڈین اخبار کا انکشاف

Share this on WhatsAppنسیم غنی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ؛کراچی معروف بھارتی اخبار ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے