انٹرپول کے سابق سربراہ کو چین میں ساڑھے 13 سال قید کی سزا

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ؛ بیجنگ
چین کی عدالت نے بین الاقوامی پولیس انٹرپول کے سابق سربراہ کو 13 سال، 6 ماہ قید کی سزا سنا دی۔نیوز ایجنسی کے مطابق چین کی عدالت نے انٹرپول کے سابق سربراہ مینگ ہونگ وائی کو رشوت خوری کے الزام میں قید کی سزا سنائی اور ان پر 20 لاکھ یوان جرمانہ بھی عائد کیا۔

عدالت کے مطابق مینگ ہونگ پر کرپشن اورعہدےکےناجائزاستعمال کاالزام ثابت ہوگیا۔ مینگ ہونگ وائی چینی پولیس کے متعدد اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے کے بعد انٹرپول کے سربراہ منتخب ہوئے تھے۔ وہ چین میں پبلک سکیورٹی کےنائب صدر بھی رہ چکےہیں۔مینگ ہونگ وائی 2018 میں فرانس سے لاپتہ ہوگئے تھے۔ وہ 23 ستمبر کو فرانس میں اپنے ہیڈ آفس سے چین روانہ ہوئے تھے جس کے بعد ان کی کوئی خبر نہیں ملی۔ کئی روز بعد چین نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ بعض معاملات پر بازپرس کے لیے انہیں روکا گیا ہے۔ پھر مینگ ہونگ وائی نے چین سے ہی اپنا استعفیٰ پیرس بھجوادیا تھا جہاں انٹرپول کا صدردفتر واقع ہے۔

مینگ ہونگ وائی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کے رہنما بھی رہ چکے ہیں اور انہوں نے 40 سالہ کیریر پولیس میں گزارا ہے۔ ان کی اہلیہ گریس مینگ کو فرانس میں سیاسی پناہ دے دی گئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ شوہر کو چینی حکومت سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنارہی ہے۔ چین میں صدر شی جن پنگ کے برسراقتدار آنے کے بعد کرپشن کے خلاف مہم میں 20 لاکھ سے زائد افراد کو سزا سنائی گئی ہے تاہم تجزیہ کاروں نے اسے سیاسی حریفوں کو رستے سے ہٹانے کی مہم قرار دیا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کورونا وائرس کو پھیلا رہے ہیں؛ نینسی پلوسی

Share this on WhatsAppامریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے عالمی ادارہ صحت سے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے