عراق سے امریکہ کی دوسری پسپائی

تحریر؛ شبیر خان سدوزئ

امریکی حکمران ہمیشہ سے منافقت اور فریب کاری سے کام لیتے آئے ہیں لیکن موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے سابقہ ہم منصب افراد کے برعکس بے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھلم کھلا مغربی ایشیا میں موجود تیل اور گیس کے قدرتی ذخائر پر قبضہ کرنے کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے بارہا شام اور عراق میں موجود تیل کے ذخائر پر قبضے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگی کا مقصد ان ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ دوسری طرف امریکی حکمران اپنے اس مذموم مقصد کے حصول کیلئے خطے میں بدامنی اور دہشت گردی کا فروغ ضروری سمجھتے ہیں تاکہ خطے کی اقوام ہمیشہ اقتصادی اور سکیورٹی بحران کے ساتھ ساتھ قومی، مذہبی اور سیاسی کشمکش کا بھی شکار رہیں اور اس پرآشوب صورتحال کا فائدہ اٹھا کر امریکہ اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کر لے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ایشیا کا خطہ تمام تر قدرتی وسائل اور عظیم ذخائر کا مالک ہونے کے باوجود ہمیشہ فتنہ و فساد اور دہشت گردی کی لعنت کا شکار رہا ہے۔

اس بارے میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ شرپسندی، دہشت گردی اور فتنہ انگیزی کا مرکز یعنی وائٹ ہاوس اپنی تمام تر شیطانی سازشوں، بھاری اخراجات اور منصوبہ بندی کے باوجود شدید شکست کا شکار ہو کر خطے سے بھاگ نکلنے پر مجبور ہوا ہے۔ تقریبا دس برس پہلے شام اور عراق میں تکفیری دہشت گرد عناصر پر مشتمل امریکی صیہونی سازش کا آغاز ہوا لیکن ان دونوں ممالک میں عوامی رضاکار فورسز نے ان دہشت گرد عناصر کا صفایا کر دیا۔ دوسری طرف گذشتہ پانچ برس سے یمن کے خلاف جاری جنگ بھی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے کہ اسے جاری رکھنے کی صورت میں آل سعودی رژیم اور متحدہ عرب امارات کی حکومت ختم ہو جانے کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان دو حکومتوں کا خاتمہ امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کیلئے بہت بڑا فوجی اور جیوپولیٹیکل نقصان تصور کیا جائے گا۔ لہذا وہ یمن کی رضاکار فورس انصاراللہ سے مذاکرات انجام دینے پر مجبور ہو گئے ہیں اگرچہ ان مذاکرات میں بھی مخلص نہیں اور ان کا مقصد دنیا والوں کو فریب دینا ہے۔

گذشتہ دو ماہ سے امریکہ کے پٹھو عناصر نے لبنان اور عراق میں بدامنی کا نیا منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔ اس کا مقصد خطے میں چند مقاصد کا حصول اور انرجی کے ذخائر پر طویل المیعاد قبضہ ممکن بنانا تھا۔ اس کے علاوہ خطے میں ایران کے مفادات کو زک پہنچانا بھی مطلوب تھا۔ اس نئے منصوبے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے تکفیری دہشت گرد عناصر سے لے کر سابقہ بعث پارٹی سے وابستہ عناصرتک تمام ممکنہ ہتھکنڈوں کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ اسی طرح عراق میں امریکی سفارتخانے اور فوجی اڈوں میں موجود جاسوسی کے نیٹ ورک کو بھی بھرپور انداز میں بروئے کار لایا گیا ہے۔ لیکن امریکہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر اخراجات کے باوجود نہ تو لبنان اور نہ ہی عراق میں وہ مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یوں امریکہ خطے میں ایک اور شکست کے دہانے پر کھڑا ہے۔ 2019ء کے آغاز میں عراق میں حکومتی، سیاسی اور عوامی سطح پر امریکہ کے انخلاء کیلئے ایک بھرپور مہم کا آغاز ہوا تھا۔ اس مہم سے توجہ ہٹانے کیلئے امریکہ نے عراق میں سول نافرمانی کی تحریک کو ہوا دی اور اس ملک کو سیاسی بحران کا شکار کر دیا۔ لیکن جب اس طرح بھی کوئی نتیجہ حاصل نہ کر پایا تو طیش میں آ کر عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی کو انتقامی کاروائی کا نشانہ بنا ڈالا۔

امریکہ نے عراق میں حشد الشعبی اور حزب اللہ بریگیڈز کے ٹھکانوں کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنا کر درحقیقت عوام سے حالیہ ہنگاموں میں ناکامی کا بدلہ لیا ہے۔ شام کی سرحد کے قریب واقع شہر القائم میں حشد الشعبی کی حزب اللہ بریگیڈز کا ٹھکانہ امریکی ڈرون حملوں کا نشانہ بنا ہے جبکہ یہ فورسز اب تک کئی بار داعش کی جانب سے شام سے عراق میں داخل ہونے کی کئی کوششیں ناکام بنا چکی ہیں۔ امریکہ کے ان ہوائی حملوں کے نتیجے میں عراقی عوام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور بغداد میں امریکی سفارتخانہ مظاہرین کے غیض و غضب کا نشانہ بنا ہے۔ عراق کی تمام سیاسی جماعتوں نے امریکہ کے اس ہوائی حملے کی مذمت کی ہے جبکہ عوامی اور سیاسی سطح پر امریکہ کو ملک سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ عراق میں تکفیری دہشت گرد عناصر اور امریکہ کے شیطنت آمیز اقدامات کے خلاف جنم لینے والی یہ نفرت دو اہم اسٹریٹجک نتائج کا باعث بنے گی۔ ایک یہ کہ گذشتہ دو ماہ سے جاری سیاسی بحران ختم ہو جائے گا اور دوسرا 2010ء کے بعد عراق سے امریکہ کے دوسرے انخلاء کا زمینہ فراہم ہو جائے گا۔

About BBC RECORD

Check Also

قاسم سلیمانی کی موت کے بعد امریکا کی ایران پردباؤ برقرار رکھنے کی مہم

Share this on WhatsAppتحریر؛ میتھیو کروئنیگ ایران کے پاس سپاہِ پاسداران انقلاب کی القدس فورس ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے