لبنان سے ایران کے اخراج کے لیےامریکاکاروس سے تعاون ناگزیر ہے!

تحریر باسم شاب
امریکا نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ لبنان کو ایرانی اثر ونفوذ سے آزاد کرانے میں مدد دینا چاہتا ہے لیکن وہ یہ کام اکیلے نہیں کرسکتا۔لبنان میں جاری مظاہروں نے حزب اللہ کو کمزور کردیا ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ ان سے ایران کا اثرورسوخ کم پڑجائے گا، بالخصوص ایسی صورت حال میں جب امریکا نے خطے سے کنارہ کشی کرلی ہے۔ایرانی اثرورسوخ کو اعتدال پر لانے کے لیے ایک اور طاقت کی مدد درکار ہے۔وہ مغرب کی جانب جھکاؤ نہ رکھنے والے ہجوم کے نزدیک قابل اعتبار ہے اور اس کے لبنان کے ہمسایوں سے بھی اچھے تعلقات استوار ہیں۔ یہ روس ہے۔امریکا کو لبنان میں استحکام کو برقرار رکھنے اور ایرانی رسائی کو محدود کرنے کے لیے روس کے ساتھ تعاون وروابط پر غور کرنا چاہیے۔

لبنان میں مظاہرے ’جوں کی توں‘ صورت حال کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں اور دوسری جانب یہ حزب اللہ کے اس بندوبست کے لیے بھی واضح خطرہ بنے ہوئے ہیں جو اس نے گذشتہ ایک عشرے کے دوران میں بڑی چابک دستی سے وضع کیا ہے۔اس بندوبست کے نتیجے میں حزب اللہ ایک غیر ریاستی کردار سے ملک کی بالادست سیاسی جماعت بن چکی ہے۔2005ء کے آزادی انقلاب (انتفاضہ الاستقلال) کے برعکس اب کہ حزب اللہ حالیہ احتجاجی مظاہروں کو یہ الزام نہیں دے سکی ہے کہ یہ اسرائیل یا امریکا کے ایجنڈوں کی تکمیل کررہے ہیں کیونکہ ان مظاہروں کا بیانیہ سماجی انصاف ہے۔ایک اور حقیقت یہ ہے کہ لبنان کی مسلح افواج ( ایل این اے) اس احتجاجی تحریک کے دوران میں غیر جانبدار رہی ہیں۔اس سے حزب اللہ کی پوزیشن مزید ابتر ہوگئی ہے۔یہ اس کے اتحادیوں کے کردار سے بھی ظاہر ہے۔صدر میشیل عون اور مستقبل محب الوطن تحریک (ایف پی ایم)کو ماضی کی طرح لبنان کی مسلح افواج میں اثرورسوخ حاصل نہیں رہا ہے۔اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ لبنانی فوج نے صدر عون کے مطالبے پر مظاہرین سے بند شاہراہوں کو کھلوانے اور ان سے الجھنے سے انکار کردیا تھا۔

ان تمام عوامل کے ساتھ ساتھ ایران کی جانب سے ملنے والی مالی امداد میں کمی اور نظم ونسق کے پست معیار سے واضح ہے کہ حزب اللہ کمزور ہوچکی ہے لیکن ابھی وہ شکست سے دوچار ہونے سے بہت دور ہے۔ایران کی بے لچک مداخلت اور امریکا کی خطے سے عدم تعلقی کے تناظر میں یہ بہت مشکل ہے کہ لبنان کو حزب اللہ اور ایرانی اثرات سے پاک کیا جاسکے گا۔ہاں! البتہ روس اس کام کے لیے ایک مثالی شراکت دار ہوسکتا ہے۔روس کی مضبوطی یہ ہے کہ وہ مغربی ایشیا میں بحر متوسط کے مشرق میں واقع خطے (الشرق الادنیٰ ،لیوانٹ) میں ایک علاقائی ثالث کار طاقت ہے۔اس کے مختلف علاقائی طاقتوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار ہیں۔ روس شام میں مداخلت کے بعد سے ایک مؤثر مذاکرات کار کے روپ میں سامنے آیا ہے۔اس نے بڑی کامیابی سے شام کے جنوبی علاقے کو ایرانی اثرونفوذ سے پاک کیا ہے اور شامی کردوں اور ترکی کے درمیان حالیہ محاذ آرائی کو کامیابی ست فرو کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔شامی نظام اور کرد فورسز کے درمیان ایک مفاہمت طے کرانے میں مذاکرات کیے ہیں۔

امریکا یہ سب کچھ حاصل نہیں کرسکتا تھا۔روس کی مغربی ایشیا کے اس علاقے میں بہتر پوزیشن ہے کیونکہ اس نے عرب ، اسرائیل تنازع میں ایک غیر جانبدار مؤقف اختیار کررکھا ہے اور اس کے مختلف علاقائی قوتوں ایران ، اسرائیل ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات استوار ہیں۔لبنان کا کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔امریکا کے برعکس روس کی تمام جماعتوں کے ساتھ اچھی تال میل ہے۔ان میں مغرب نواز اور شام نواز دونوں لبنانی جماعتیں شامل ہیں۔شامی نظام کے ایماء پر حالیہ مداخلت کے باوجود روس کے سنی دھڑوں سے اچھے تعلقات استوار ہیں۔اس کے مختلف مسیحی دھڑوں کے ساتھ قریبی تعلقات استوار ہیں۔پھر وہ خود کو مشرقی عیسائیت کے سرپرست اعلیٰ کے طور پر بھی پیش کرتا ہے۔

روس کےبڑھتے ہوئے علاقائی کردار کی حیثیت کا یہ مطلب نہیں کہ وہ لبنان یا کہیں اور امریکا کے ساتھ مل کر کام نہیں کرسکتا۔روس اور امریکا دونوں کے اثرات باہم مل کر موجود رہے ہیں اور دونوں ممالک کے لبنان میں استحکام اور ایک مضبوط مرکزی حکومت سے ہی وسیع تر مفادات وابستہ ہوسکتے ہیں۔روس شام میں تو ایران کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے لیکن لبنان میں اس کی ایران سے حکمت عملی ذرا مختلف ہے۔لبنان میں روس کے حزب اللہ کے ساتھ تعلقات روایتی سے ہیں اور ان میں قریبی یا گرم جوش تعلقات استوار نہیں۔ ایران کے برعکس روس لبنانی حکام سے معاملہ کرتا ہے اور وہ لبنان کی خود مختاری کی حمایت کے عزم کا کئی بار اعادہ کرچکا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ایران کی ترجیح غیر ریاستی کردار ہیں۔

امریکا اور روس نے افغانستان اور شام میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے خلاف کامیابی سے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط تعاون کیا ہے۔اس لیے ایسی کوئی وجہ نہیں کہ وہ لبنان میں دوطرفہ مربوط تعاون نہیں کرسکتے۔اہم بات یہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں دونوں طاقتوں کو یہ بھی تشویش لاحق ہے کہ لبنان میں اسرائیلی ، ایرانی محاذ آرائی شام تک پھیل سکتی ہے۔روس شامی نظام کے ساتھ لبنان سے متعلق مہاجرین اور تجارت ایسے اہم امور پر مؤثرانداز میں ثالثی کرسکتا ہے۔

لیکن امریکا کے لبنان میں تجارت ، تعلیم ، نرم طاقت اور تارکینِ وطن سے روابط کی بنا پر مضبوط اثرات ہیں۔اس کے علاوہ اس کے امریکی تربیت یافتہ لبنان کی مسلح افواج کے ساتھ بھی قریبی تعلقات استوار ہیں اور لبنانی فوج کو اسی نے ہتھیاروں اور سازوسامان سے لیس کیا ہے۔یہ اثرورسوخ شام کی بالادستی کے دور میں بھی برقرار رہا تھا اور روس کے ساتھ رابطہ کاری کے وقت بھی اس سے انکار نہیں کیا جائے گا۔موجودہ صورت حال میں ایران لبنانی اثرات سے آزاد نہیں ہوسکے گا اور یورپی طاقتیں اس ضمن میں بہت تھوڑی مدد کریں گی۔روس کی پوزیشن ایران کے خلاف پلڑے کو جھکانے میں زیادہ اہم ہے اور اس صورت ہی میں اسرائیل کے ساتھ تنازع سے بچا جاسکتا ہے۔ان وجوہ کی بنا پر روس اورامریکا کے درمیان تعاون لبنان کے لیے آگے بڑھنے کا بہتر طریقہ ہوسکتا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

قاسم سلیمانی کی موت کے بعد امریکا کی ایران پردباؤ برقرار رکھنے کی مہم

Share this on WhatsAppتحریر؛ میتھیو کروئنیگ ایران کے پاس سپاہِ پاسداران انقلاب کی القدس فورس ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے