امریکی ایوانِ نمایندگان کی رکن الہان عمر پرغیرملکی ایجنٹ ہونے کا الزام

امریکی ایوانِ نمایندگان کی مسلم رکن الہان عمر پر ایک غیرملکی حکومت کا ایجنٹ ہونے ،ایران کو حساس معلومات فراہم کرنے اور باہر سے رقوم وصول کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ان کے خلاف کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ایک کاروباری شخص ایلن بندر نے فلوریڈا میں ایک ضلعی عدالت میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران میں یہ سنگین الزامات عاید کیے ہیں۔انھوں نے 23 اکتوبر کو ٹورنٹو سے فلوریڈا کی ضلعی عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرایا تھا۔

کویتی نژاد ایلن بندر نے قطر سمیت مشرق وسطیٰ کے ممالک کے شاہی خاندانوں اور حکومتوں سے گہرے روابط کا دعویٰ کیا ہے۔انھوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے قطری امیر کے سکیورٹی سے متعلق امور کے سیکریٹری محمد بن احمد بن عبداللہ المسند اور دو اور قطری عہدے داروں سے ملاقات کی تھی۔
اس کویتی نژاد نے اپنے بیان حلفی میں ان تینوں قطری عہدے داروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ’’ اگر وہ رقوم مہیا نہیں کرتے تو الہان عمر امریکا میں کسی بھی اور سیاہ فام صومالی مہاجر کی طرح مقیم ہوتیں۔وہ فلاحی فنڈ وصول کررہی ہوتیں یاپھر اختتامِ ہفتہ پر میزوں پر خدمات انجام دے رہی ہوتیں۔‘‘

بندر کو امیرقطر کے بھائی شیخ خالد بن حمد آل ثانی کے خلاف مقدمے کی سماعت کے وقت بیان کے لیے طلب کیا گیا تھا۔شیخ خالد پراپنے امریکی محافظ کو دو افراد کو قتل کرنے کا حکم دینے اور طبی عملہ کے ایک امریکی رکن کو زیر حراست رکھنے کےالزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔انھوں نے بیان حلفی میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انھیں قطری عہدے داروں نے امریکی سیاست دانوں اور صحافیوں کی قطر کے لیے خدمات حاصل کرنے کی ذمے داری سونپی تھی۔اس پر جب ایلن بندر نے اعتراض کیا تو قطری حکام کا کہنا تھا کہ بہت سے امریکی سیاست دان اور صحافی تو پہلے ہی قطر کے ’پے رول‘ پر ہیں اور ان میں سب سے زیادہ نمایاں الہان عمر ہیں۔

اس خاتون پر پہلے ہی انتخابی مہم کے دوران میں مالیاتی قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ منی سوٹا کمپین فنانس بورڈ نے جون میں یہ قراردیا تھا کہ الہان عمر نے ریاست کے انتخابی مہم کے مالیاتی قواعد کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا تھا اور مہم کے لیے رقم کو ریاست سے باہر سفر کے لیے استعمال کیا تھا۔قدامت پرست گروپ جوڈیشیل واچ نے ایوان نمایندگان کی اخلاقیات کمیٹی سے الہان عمر کے مالی امور کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ان پر امیگریشن فراڈ کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔

اخبار نیویارک پوسٹ نے گذشتہ ہفتے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ الہان نے ایک سیاسی مشاورتی گروپ کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر ادا کیے تھے۔اس گروپ کے ٹِم مائی نیٹ شراکت دار ہیں جن سے اس خاتون کے رومانی مراسم کا بھی اسی اخبار نے چرچا کیا تھا۔بیان حلفی کے مطابق المسند نے یہ کہا تھا کہ صومالی نژاد الہان کو قطر نے بھرتی کیا،ایوان نمایندگان کا انتخاب لڑنے کی بنیاد فراہم کی اور سیاسی طور پر پروان چڑھایا تھا۔اس کے بدلے میں اس خاتون نے قطریوں کے ساتھ تعاون کیا تھا اور انھیں خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔

امریکی اور ترک میڈیا قبل ازیں یہ اطلاع دے چکا ہے کہ الہان عمر نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے 2017ء میں اس وقت ملاقات کی تھی، جب وہ ابھی منی سوٹا میں جونیئر ریاستی نمایندہ تھیں۔بندر کے بیان حلفی کے مطابق الہان عمر نے اس ملاقات میں ترک صدر کی بیعت کا اعلان کیا تھا یا بہ الفاظ دیگر ان سے وفاداری کا اظہار کیا تھا۔بندر نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ الہان عمر نے ایوان نمایندگان کی رکن منتخب ہونے کے بعد اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حسّاس معلومات تک رسائی حاصل کی تھی اور پھر ان معلومات کو قطر کے حوالے کیا تھا، وہاں سے یہ معلومات ایران کے پاس پہنچی تھیں۔

بیان حلفی میں آخری یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ الہان عمر نے قطر کے ایما پر دوسرے امریکی سیاست دانوں کو بھی بھرتی کیا تھا اور قطریوں کا یہ دعویٰ ہے کہ ’’نقد رقوم سے ہر چیز خرید کی جاسکتی ہے اور امریکی حکام بھی خرید کیے جاسکتے ہیں کیونکہ وہ دنیا میں کسی بھی اور ملک کے مقابلے میں ارزاں ترین عہدے دار واقع ہوئے ہیں۔‘‘

About BBC RECORD

Check Also

اسپین:کرونا وائرس سے 24 گھنٹے میں 849 ہلاکتیں ، 9222 نئے کیسوں کی تصدیق

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ؛ اسپین گذشتہ 24 گھنٹے کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے