اسلام آباد پریس کلب: منظور پشتین کا پروگرام آخری لمحے منسوخ کیوں کیا گیا

اسلام آباد پریس کلب نے پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کا ایک پروگرام آخری وقت پر منسوخ کر دیا اور انہیں مدعو کرنے والے سینئر صحافیوں کا آج ہفتہ تیئیس نومبر کو اس پریس کلب میں داخلہ بھی بند کر دیا۔اس پیش رفت پر کئی صحافتی حلقے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں شدید ناراض ہیں۔ اسلام آباد کے سینئر صحافیوں نے گفتگو کا ایک فورم بنایا رکھا ہے، جس کے تحت پریس کلب کی لائبریری میں ہر جمعے کی شام کسی نہ کسی معروف شخصیت کے ساتھ تفصیلی گفتگو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ فورم اب تک ملک کے کئی نامور اقتصادی ماہرین، عالمی مالیاتی اداروں سے تعلق رکھنے والی شخصیات، سماجی امور کے ماہرین اور سیاست دانوں کو بھی مدعو کر چکا ہے۔

ناہید آفریدی کا انتخابی دفترخیبر ڈسٹرک کے جمرود نامی علاقے میں واقع ہے۔ اسی دفتر سے وہ تمام دیہات میں ہونے والے جلسوں کی منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ وہ گھر گھر جا کر اپنے لیے ووٹ مانگنے کے ساتھ ساتھ قبائلی عمائدین سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مقابلے میں بارہ مرد امیدوار بھی کھڑے ہیں۔ ووٹنگ بیس جولائی کو ہو گی۔منظور پشتین کے ساتھ یہ گفتگو کلب لائبریری میں چار بجے شروع ہونا تھی لیکن غیر متوقع اور ناخوشگوار صورت حال کے پیش نظر یہ گفتگو پریس کلب کے سامنے ایک پارک میں پانچ بجے سے کچھ پہلے شروع ہوئی۔ منظور پشتین نے قبائلی اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں کے حالات پر اظہار خیال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک غدار اور محب وطن کی تعریف ملکی آئین کے تناظر میں کی جانا چاہیے، یعنی جو شہری آئین کی پاسداری کرتا ہے وہ اچھا ہے اور جو نہیں کرتا وہ اچھا نہیں ہے۔ پشتین نے بارودی سرنگوں، قبائلی علاقوں میں جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے دیے جانے والے معاوضوں سے متعلق مسائل، عوامی مشکلات اور گمشدہ افراد سمیت کئی دوسری امور کا تذکرہ کیا۔ تاہم جلد ہی اندھیرا ہو جانے اور روشنی کا اہتمام نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنی گفتگو مختصر کرنا پڑی۔اسلام آباد پریس کلب میں پیش آنے والے اس واقعے پر صحافی برادری انتہائی ناخوش ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق سیکرٹری جنرل ناصر ملک نے بتایا، ”آج جو کچھ پریس کلب میں ہوا، وہ انتہائی شرمناک واقعہ ہے۔ پریس کلب ایک ایسی جگہ ہے، جہاں کوئی بھی شہری آ کر اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے۔ لیکن اس طرح پروگرام منسوخ کرنا، صحافیوں پر دروازے بند کرنا اور ان سے توہین آمیز سلوک روا رکھنا قابل مذمت ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کو اس واقعے کا نوٹس لینا چاہیے۔ عجیب بات یہ ہے کہ صحافی خود ہی آزادی اظہار رائے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔‘‘

کمیشن سے تعلق رکھنے والے اسد بٹ نے کہا کہ ملک میں ‘سیلف سینسرشپ‘ اپنے عروج ہے۔ انہوں نے کہا، ”یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ہم پروفیسر ظفر عارف کے حوالے سے پریس کلب میں ایک پروگرام کرانا چاہتے تھے اور پروگرام طے شدہ تھا، لیکن پھر کراچی پریس کلب کی انتظامیہ نے عین آخری وقت پر یہ پروگرام منسوخ کر دیا تھا حالانکہ ہم نے اس پروگرام کے لیے کلب کو مالی ادائیگی بھی کر رکھی تھی۔‘‘اسد بٹ کا کہنا تھا کہ ملک میں اخبارات، ٹی وی اور اب پریس کلب بھی اسٹیبلشمنٹ کے قبضے میں ہیں، ”کوئی بھی جرأت نہیں کر سکتا، ان کو انکار کرنے کی۔ پریس کلب کی انتظامیہ کیسے یہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ فلاں شخص غدار اور فلاں محب وطن ہے۔ آپ کسی کی رائے سے اختلاف تو کر سکتے ہیں لیکن آپ کو کسی کی رائے کو دبا دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘

امریکی ادارے ڈی ڈبلیو نے جب اسلام آباد پریس کلب کی انتظامیہ کو اس واقعے کے حوالے سے فون کیا اور اس کا موقف جاننا چاہا، تو انتظامیہ کا کہنا تھا کہ پریس کلب میں منظور پشتین کے کسی پروگرام کا نہ تو اہتمام کیا گیا تھا اور نہ ہی ایسا کوئی پروگرام منسوخ کیا گیا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

اگر ملک میں انصاف ہوتا تو عاصم سلیم باجوہ گرفتار ہوتے‘ مریم نواز

Share this on WhatsAppبندیا اسحاق بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ لاہور قومی اسمبلی میں ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے