وفاق کی حکومت خفیہ طور سونے کے ذخائر فروخت کرے گی : لیبیائی ذمے دار

لیبیا کے شہر البیضاء میں مرکزی بینک کی شاخ کے ایک ذمے دار نے بتایا ہے کہ طرابلس میں وفاق کی حکومت کے زیر انتظام صدارتی کونسل ایک غیر ملکی فریق کے ساتھ ڈیل کی تیاری کر رہی ہے۔ اس ڈیل کا مقصد لیبیا کے سونے کے محفوظ ذخائر کو ایک غیر ملکی فریق کو فروخت کرنا ہے تا کہ طرابلس کے معرکے کی قیادت کرنے والی مسلح ملیشیاؤں کی فنڈنگ کو یقینی بنایا جا سکے اور وفاق کی حکومت کے مفاد اور اُس کی بقا کا تحفظ کیا جا سکے۔

رواں سال جولائی میں ورلڈ گولڈ کونسل کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق لیبیا کے پاس سونے کے محفوظ ذخائر کا حجم 116.6 ٹن ہے جو ملکی زر مبادلہ کا 5.3% بنتا ہے۔ سونے کے محفوظ ذخائر کے لحاظ سے لیبیا دنیا میں 32 ویں، افریقا میں تیسری اور عرب دنیا میں چوتھی پوزیشن پر ہے۔

البیضاء میں لیبیا کے مرکزی بینک کی شاخ میں لیکوئیڈٹی کرائسس کمیٹی کے سربراہ رمزی آغا نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ اُن کے پاس باوثوق معلومات موجود ہیں۔ اس معلومات کے مطابق وفاق کی حکومت کی صدارتی کونسل اور طرابلس میں مرکزی بینک کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ ہوا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مرکزی بینک کے پاس موجود سونے کے محفوظ ذخائر میں سے 16 ٹن سونا 60 کروڑ ڈالر کے عوض ایک غیر ملکی کاروباری شخصیت کو فروخت کیا جائے گا۔ مذکورہ شخصیت کا نام اور شہریت نہیں بتائی گئی۔ رمزی آغا کے مطابق یہ معاہدہ گذشتہ دنوں کے دوران طے پایا۔

آغا نے باور کرایا کہ یہ غیر قانونی اقدام انتہائی خطرناک ہے جو بنا کسی روک ٹوک اور نگرانی کے عمل میں لایا جا رہا ہے۔آغا کا کہنا ہے کہ سرکاری مال جرائم پیشہ ٹولیوں اور دہشت گردوں کی فنڈنگ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مال کی بربادی کو روکنے کا حل صرف یہ ہے کہ لیبیا کی فوج دارالحکومت طرابلس کو مسلح ملیشیاؤں سے آزاد کرا لے اور وہاں ریاست کے اداروں پر کنٹرول حاصل کر لے۔

لیبیا میں وفاق کی حکومت کا مسلح ملیشیاؤں سے تعلق ایک بڑے ریکارڈ کا حامل ہے۔ وفاق کی حکومت کے وزیراعظم فائز السراج پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ لیبیا کے مالیاتی اداروں کو طرابلس پر قابض ملیشیاؤں کی خدمت اور ان کو راضی رکھنے کے واسطے استعمال کر رہے ہیں۔ ملک کو درپیش سنگین اقتصادی بحران اور شہریوں کو درپیش سیالیت کی کمی کے باوجود سرکاری مال کو ان ملیشیاؤں پر نچھاور کیا جا رہا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکی وزارت خزانہ حزب اللہ کی مقرب شخصیات پر پابندیاں عائد کر رہی ہے

Share this on WhatsAppامریکی وزارت خزانہ اُن لبنانیوں پر پابندیاں عائد کر دے گی جن ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے