ترکی کی مداخلت سے فائدہ اٹھا کر داعش نے اپنی صفوں کو دوبارہ متحد کیا : پینٹاگان

امریکی وزارت دفاع پینٹاگان کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش تنظیم نے شمال مشرقی شام میں ترکی کی فوجی مداخلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی صفوں کو متحد کر لیا ہے۔ پینٹاگان نے غالب گمان ظاہر کیا کہ داعش کی جانب سے مغرب کے خلاف نئے حملوں کی تیاری کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔منگل کے روز جاری رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غالبا داعش تنظیم کو مغرب کو نشانہ بنانے اور دنیا بھر میں اپنے 19 نیٹ ورکس اور شاخوں کو سپورٹ فراہم کرنے کے لیے وقت مل گیا۔ یہ بات امریکی دفاعی انٹیلی جنس کی فراہم کردہ معلومات کا سہارا لیتے ہوئے کہی گئی۔

امریکی وزارت دفاع میں جنرل انسپکٹر کے بیورو نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ داعش تنظیم نے ترکی کی مداخلت اور امریکی فورسز کی کمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شام میں اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو از سر نو بحال کیا اور بیرون ملک حملوں کی منصوبہ بندی کے حوالے سے اپنی قدرت کو مضبوط بنایا۔رپورٹ میں دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 26 اکتوبر کو شام میں امریکی فضائی حملے کے دوران داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی ہلاکت تنظیم کی از سر نو تشکیل کی صلاحیت پر معمولی طور پر اثر انداز ہو گی۔

ادھر برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے بدھ کے روز شائع ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ترکی میں موجود داعش تنظیم کی صاحب ثروت قیادت دہشت گرد تنظیم کی واپسی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ مشرق وسطی کے امور سے متعلق اخبار کی خاتون رپورٹر نے ایک سینئر انٹیلی جنس ذمے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ داعشی رہ نما اپنے قبضے میں خطیر رقوم رکھتے ہیں ، یہ لوگ ترکی میں موجود ہیں اور تنظیم کے دوبارہ سر اٹھانے کے لیے منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔

رپورٹر کے مطابق عراقی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ جنرل سعد العلاق کا کہنا ہے کہ اُن کے ملک نے داعش تنظیم کے نو رہ نماؤں کے متعلق تفصیلات انقرہ کو دے دی ہیں۔ ان میں تنظیم کی فنڈنگ کرنے والی سینئر شخصیات شامل ہیں اور یہ ترکی میں فعال گروپوں کے ساتھ موجود ہیں۔ العلاق کے مطابق داعش کے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد سینئر ڈیموکریٹک فورسز کے عناصر کو رشوت دے کر شام کے مشرقی علاقے الباغوز میں تنظیم کے آخری گڑھ سے فرار ہو گئی۔ عراقی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ نے بتایا کہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے قیدی شام اور عراق کے مختلف علاقوں میں جیلوں اور خیموں سے فرار ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 اکتوبر کو ایک اعلان میں کہا تھا کہ شمال مشرقی شام سے تقریبا ایک ہزار امریکی فوجی واپس بلا لیے جائیں گے۔
امریکی انخلا کے فوری بعد ترکی نے اُن کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی آپریشن کیا جنہوں نے داعش کے خلاف لڑائی کی قیادت کی تھی۔ ان کردوں کے زیر انتظام جیلوں میں داعش تنظیم کے جنگجو بھی شامل ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکی وزارت خزانہ حزب اللہ کی مقرب شخصیات پر پابندیاں عائد کر رہی ہے

Share this on WhatsAppامریکی وزارت خزانہ اُن لبنانیوں پر پابندیاں عائد کر دے گی جن ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے