ایران میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف پُرتشدد مظاہرے ، 12 افراد ہلاک

ایران میں حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں اچانک اضافے کے خلاف کے کئی ایک شہروں میں پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ سیرجان شہر میں جمعہ کی شب احتجاجی مظاہرے میں شریک ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔صوبہ اہواز میں واقع شہر مہامرا میں احتجاجی مظاہرے میں زخمی ہونے والے چار افراد چل بسے ہیں۔ایرانی دارالحکومت تہران کے علاقے شہریار میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔ایران کے مختلف شہروں میں ہفتے کے روز سیکڑوں افراد نے مرکزی شاہراہیں اپنی گاڑیاں کھڑی کرکے بند کردی ہیں اور ٹائر جلائے ہیں۔انھوں نے حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی ہے اور ’’مرگ برآمر‘‘ کے نعرے لگائے ہیں۔قبل ازیں ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا نےسیرجان شہر میں احتجاجی مظاہرے کے دوران میں ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔ سیرجان کے گورنر محمد محمود آبادی نے اس ہلاکت کی تصدیق کی ہے لیکن کہا ہے کہ اس کی ہلاکت کی فوری طور پر وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

گورنر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم نہیں دیا گیا تھا اور انھیں صرف انتباہی فائرنگ کی اجازت دی گئی ہےایران کے تریپن شہروں میں احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں۔ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے بھی ان مظاہروں کی خبر دی ہے۔ان میں مشہد ،سیرجان ، پول دختر ، اہواز ،عبادان ، خرم شہر ، تبریز ، شیراز، اصفہان ، بیرجند ، بندرعباس ،بوشہر، شیرِ قدس، دماوند ، سنان داج ، بندررگ ، یزد ، بابل ، راشت ، ارمیا ، گرمسر ، نیشاپور ، سگیز ، چاہ بہار ،احار ، روضہن ، اسلام شہر ، تہران ، گیش ساران ، زاہدان ، فردیس ، قزوین ، حمدان،خرم آباد اور کرمان شاہ شامل ہیں۔

بوشہر میں ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی توپوں کااستعمال کیا ہے اور براہ راست گولیاں بھی چلائی ہیں جس کے بعد مظاہرین نعرے بازی کرتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے۔دارالحکومت تہران میں مظاہرین نے مرکزی شاہراہ ہمت ایکسپریس وے کو اپنی کاریں کھڑی کرکے بند کردیا۔وہ ’’مرگ برآمر‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔اس سے ان کی مراد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تھے۔ اصفہان شہر میں بھی مظاہرین نے اپنی گاڑیاں کھڑی کرکے ایک مرکزی شاہراہ کو بند کردیا۔ایران کے جنوبی صوبہ فارس کے دارالحکومت سلطان آباد میں مظاہرین نے شاہراہیں بند کردیں اور بعض مظاہرین نے ٹائر جلائے ہیں۔شیراز میں ایرانی مظاہرین یہ نعرے بازی کررہے تھے کہ ’’ہمیں غزہ اور لبنان نہیں چاہیے‘‘۔ان کا اشارہ ایرانی نظام کی فلسطینی تنظیم حماس اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی حمایت کی جانب تھا۔

سوشل میڈیا پر بعض ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں۔ان میں مظاہرین نے بہباہن شہر میں ایران کے مرکزی بنک کو آگ لگا دی ہے۔ایرنا کی اطلاع کے مطابق مظاہرین نے سیرجان میں ایندھن کے ایک ڈپو کو آگ لگانے کی کوشش کی ہے لیکن پولیس نے انھیں ایسا کرنے سے روک دیا۔واضح رہے کہ ایرانی حکومت نے جمعہ کو پیٹرول کی قیمت میں پچاس فی صد تک اضافہ کردیا تھا اور اس کی راشن بندی کردی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد نقدی سے محروم شہریوں کی مدد کرنا ہے۔ایران کی منصوبہ بندی اور بجٹ تنظیم کے سربراہ محمد باقر نوبخت نے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک بیان میں کہا تھا کہ اس اقدام سے ملک کو سالانہ تین سو کھرب ریال ( دو ارب پچپن کروڑ ڈالر) کی بچت ہوگی۔ایرانی صدر حسن روحانی نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایران میں غریب لوگوں کے مفاد میں ہے۔ایرانی پارلیمان کے اسپیکر علی لاریجانی اور عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رئیسی نے بھی اس فیصلے کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکی وزارت خزانہ حزب اللہ کی مقرب شخصیات پر پابندیاں عائد کر رہی ہے

Share this on WhatsAppامریکی وزارت خزانہ اُن لبنانیوں پر پابندیاں عائد کر دے گی جن ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے