نئے ہتھیاروں سے روس کو قابلِ اعتماد تحفظ حاصل ہوگا: پوتین

روسی صدر ولادی میر پوتین نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ملک کے نئے ہتھیاروں کا کسی ملک کے پاس کوئی توڑ نہیں ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے واضح کیا ہے کہ روس ان ہتھیاروں کو کسی ملک کو ڈرانے دھمکانے کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔انھوں نے بدھ کو ماسکو میں سینیر فوجی افسروں کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی اور ملک کے پاس ہائپر سانک ،لیزر یا دوسرے ایسے ہی ہتھیار نہیں ہیں۔روسی فوج ان ہتھیاروں سے لیس ہوچکی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان سے کسی ملک کو ڈرایا دھمکایا جائے گا۔

صدر پوتین نے کہا کہ ہتھیاروں کے نئے نظام بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ہماری سلامتی کو یقینی بنانے کے نقطہ نظر سے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ہتھیاروں پر کنٹرول کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

واضح رہے کہ یوکرین کے بحران اور دوسرے تنازعات کی وجہ اس وقت روس کے مغرب کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری پائی جاتی ہے اور ان کے درمیان تعلقات سرد جنگ کے دور سے بھی زیادہ کشیدہ ہوچکے ہیں۔روسی صدر نے 2018ء میں مختلف ہتھیاروں کی تیاری کا اعلان کیا تھا۔ ان میں ہائپر سانک گلائیڈ گاڑی ، جوہری ہتھیار سے لیس زیرِ آب ڈرون اور جوہری ہتھیار سے لیس کروز میزائل شامل ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

بی جے پی مہاراشٹرا ميں حکومت سازی کی دوڑ سے باہر

Share this on WhatsAppبھارت کی سب سے امير رياست مہاراشٹرا ميں حاليہ اليکشن جيتنے کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *