داعش کے سابق جنگجوؤں کو کوئی قبول کرنے پر تیار نہیں

’دولت اسلامیہ‘ یا داعش القاعدہ سے علیحدگی اختیار کرنے والا ایک دہشت گرد گروہ قرار دیا جاتا ہے۔ داعش سنی نظریات کی انتہا پسندانہ تشریحات پر عمل پیرا ہے۔ سن دو ہزار تین میں عراق پر امریکی حملے کے بعد ابو بکر البغدادی نے اس گروہ کی بنیاد رکھی۔ یہ گروہ شام، عراق اور دیگر علاقوں میں نام نہاد ’خلافت‘ قائم کرنا چاہتا ہے۔

ترکی داعش کے سابق حامیوں کو ان کے آبائی یورپی ممالک واپس بھیجنا چاہتا ہے۔ یورپ انقرہ حکومت کے اس اعلان کے لیے تیار نہیں تھا۔ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو پایا کہ آئی ایس کے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ کیا کیا جائے یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں کوئی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان لوگوں نے ماضی میں دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ یا داعش کا ساتھ دیا تھا اور آج یہ شمالی شام کے کُرد علاقوں میں قید ہیں۔ ترک جیلوں میں بھی ایسے افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ابھی حال ہی میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ترجمان نے کہا تھا کہ وہ آئی ایس کا ساتھ دینے والے بیس جرمن شہریوں کو ملک بدر کرنا چاہتے ہیں۔

ترک وزیر داخلہ سلیمان صوئلو نے اس صورتحال کو کچھ یوں واضح کیا: ترک جیلوں میں آئی ایس کے بارہ سو کے قریب غیر ملکی جنگجو قید ہیں۔ ایسے ہی کچھ اور ملک بدری کے لیے قائم مراکز میں موجود ہیں۔ صوئلو نے اعلان کیا کہ ترکی ان جنگجوؤں کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دے گا۔یہ مسئلہ نیا نہیں ہے۔ تاہم یورپی حکومتوں نے ابھی تک اسے نظر انداز ہی کیا ہے۔ شام اور عراق میں داعش کی اس خود ساختہ خلافت کے خاتمے کے بعد سے خاص طور پر شمالی شام کے قید خانے آئی ایس کے سابق جنگوؤں، ان کی بیگمات اور ان کے بچوں سے بھر گئے۔ بیلجیم کے ایک ادارے کے مطابق ان میں سے کم از کم پانچ سو مرد اور خواتین اور تقریباً 750 بچوں کا تعلق یورپی ممالک سے ہے۔ اس دوران ان افراد کو واپس قبول کرنے کی صدائیں کئی مرتبہ سنائی دے چکی ہیں۔ ایسے مطالبے کرد نیم خود مختار علاقے کی انتظامیہ کی جانب سے بھی کے گئے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں ایک ٹویٹ کے ذریعے تمام یورپی ممالک سے اپنے اپنے شہریوں کو واپس قبول کرنے کے لیے کہا تھا۔

جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے ترکی کی جانب سے آئی ایس کے جنگجوؤں کی ملک بدری کے اعلان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، ”سب سے پہلے تو قانوناً یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا یہ واقعی جرمن شہری ہیں۔‘‘ اس موقع پر تاہم انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ جرمنی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو واپس قبول کرے۔ ان کے بقول،” ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں اور خاص طور پر آئی ایس کے جنگجوؤں کے بارے میں ہمارے پاس کافی معلومات موجود ہوں۔ تاکہ انہیں کسی جرمن عدالت میں پیش کیا جا سکے اور انہیں قانون کے مطابق ان کے کیے کی سزا دی جا سکے۔‘‘

تازہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو آئی ایس کے جنگجوؤں کو قبول کرنے کے فیصلے سے سیاستدانوں کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو گا۔ اس طرح کے اقدامات یورپ کے کئی ممالک میں انتہائی غیر معروف تصور کیے جاتے ہیں اور ان کی وضاحت بھی بہت مشکل مرحلہ ثابت ہوتی ہے۔ اور اگر واپس آنے والے کسی بھی شہری نے کوئی دہشت گردانہ کارروائی کر دی تو ایسی صورت میں مخالفت اور بھی بڑھ جائے گی۔ اسی طرح دیگر یورپی حکومتیں اس مسئلے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔داعش کی خود ساختہ خلافت کے خاتمے کے بعد اٹلی یورپی یونین کا وہ ملک ہے، جس نے آئی ایس کے ایک سابقہ جنگجو کو اپنے ہاں واپس قبول کیا تھا۔ یورپی یونین سے آئی ایس کا ساتھ دینے کے لیے سب سے زیادہ افراد فرانس سے گئے تھے۔ تاہم فرانس ایسے جنگجوؤں کے بچوں پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور اب ایک سو کے قریب بچے فرانس واپس قبول کر چکا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

بی جے پی مہاراشٹرا ميں حکومت سازی کی دوڑ سے باہر

Share this on WhatsAppبھارت کی سب سے امير رياست مہاراشٹرا ميں حاليہ اليکشن جيتنے کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *