فوج ملکی اداروں کی مدد کیلئے آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرے گی، جنرل باجوہ

شازیہ طاہر
بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ( اسلام آباد )

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ اہم قومی معاملات پر تمام اسٹیک ہولڈرز کی مسلسل ہم آہنگی دشمن قوتوں کو شکست دینے کے لیے انتہائی ضروری ہے جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ قوم، قومی اداروں اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں کے ثمرات کو کسی بھی مذموم مقصد کے لیے رائیگاں نہیں ہونے دیں گے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس ہوئی۔

اس اجلاس میں ملکی و خطے کی سیکورٹی کی صورت حال، داخلی سلامتی، مشرقی سرحد، جیو سٹریٹجک حالات، ایل او سی اور مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تمام خطرات کے خلاف ملک کا دفاع کریں گے۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بہتر امن واستحکام کی صورتحال قوم، قومی اداروں اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں کی مرہونِ منت ہے اور ان قربانیوں کے ثمرات کو کسی بھی مذموم مقصد کے لیے رائیگاں نہیں ہونے دیں گے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اہم قومی معاملات پر تمام سٹیک ہولڈرز کی مسلسل ہم آہنگی دشمن قوتوں کو شکست دینے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ پاکستانی فوج ملکی اداروں کی مدد کے لیے آئین اور قانون کے تحت تمام تفویض کردہ فرائض انجام دیتی رہے گی۔افواج پاکستان مشرقی سرحد اور لائن آف کنٹرول سمیت ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کہتے ہیں کہ اگر اس وقت ملک میں انارکی پیدا ہوتی ہے تو اس کا فائدہ دشمن کو ہوتا ہے۔ لہذا اس وقت فوج نے واضح پیغام دیا ہے کہ ایسا کوئی کام نہیں ہونے دیا جائے گا۔ فوج کو اگر کوئی آئینی ذمہ داری دی جاتی ہے تو فوج کو اسے بھی پورا کرنا پڑتا ہے جیسے کوئی زلزلہ، سیلاب یا کوئی اور سانحہ ہو۔ لہذا فوج نے پیغام دیا ہے کہ حکومت کوئی بھی ہو لیکن اگر امن وامان کی صورتحال ہو اور آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کیا جاتا ہے تو فوج مدد کے لیے آئے گی۔

امجد شعیب نے کہا کہ فوج نے اپنی آئینی ذمہ داری کی بات کی ہے اور امن جو بہت مشکل سے قائم کیا گیا ہے اسے ضائع نہیں ہونے دیں گے اور ہر صورت میں بحال رکھیں گے۔فوج کی طرف سے عمران خان کے دھرنے کے وقت بات چیت اور آج براہ راست امن بحال رکھنے کی بات کے حوالے سے جنرل امجد شعیب نے کہا کہ اس وقت بھی فوج نے بات چیت کے ذریعے مسئلہ کے حل کا کہا تھا اور آج بھی یہی کہہ رہے ہیں۔ لیکن اس وقت صورتحال اس وجہ سے مختلف تھی کہ وہاں بڑی تعداد میں بچے اور خواتین موجود تھے اور اس وقت طاہرالقادری ماڈل ٹاؤن کی چودہ لاشیں کندھے پر لیکر آئے تھے۔ اگر اس وقت امن وامان کی صورتحال بنتی تو نقصان بہت زیادہ ہو سکتا تھا۔ لہذا اس وقت بھی بات چیت کا کہا گیا اور اب بھی کہا جا رہا ہے۔ لیکن اب فوج کسی کو امن وامان کی صورتحال پیدا کرنے نہیں دے گی۔

دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز کی درخواست ضمانت منظورکر کےان کی رہائی کا حکم جاری کیا ہے۔ اس سے پہلے میاں نواز شریف بھی اپنی علالت کی وجہ سے ضمانت پر رہائی پا چکے ہیں۔ میاں شہباز شریف اور کیپٹن ر صفدر بھی جیل سے باہر آ چکے ہیں جبکہ شاہد خاقان عباسی بھی جیل سے باہر آ کر ایک کلینک میں زیر علاج ہیں۔ قبل ازیں خواجہ سعد رفیق کو بھی ایک قریبی رشتے دار کی وفات پر پیرول پر رہا کیا گیا تھا۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کر رہی ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ پلین ہو رہا ہے۔ سید طلعت حسین کا خیال ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز ایک طرف ہیں اور شہباز شریف اور پارٹی میں ان کے دوست بالکل دوسری طرف کھڑے نظر آ رہے ہیں، ” میری خبر یہ ہے کہ مسلم لیگ نون کہ رہنما مقتدر حلقوں اور اہم محکموں کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں اور گفتگو اس بات پر ہو رہی ہے کہ ملک کو چلانے کے لئے کیا اور کس طرح کا بندوبست کیا جانا چاہیے۔‘‘

About BBC RECORD

Check Also

حوثی ملیشیا کے میزائل حملے میں سات یمنی فوجی ہلاک

Share this on WhatsAppیمن میں حوثی ملیشیا کے میزائل حملے میں ایک اعلیٰ افسر سمیت ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *