پاکستان میں دھرنوں اور لانگ مارچ کی تاریخ پر نظر

شازیہ طاہر
بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ( اسلام آباد )

پاکستان کی سیاست میں احتجاجی دھرنوں، مظاہروں اور مارچوں کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ان مارچوں اور دھرنوں میں سیاستدان اور مذہبی رہنما حکومتِ وقت کے خلاف متحد ہوئے۔ ان میں سے بعض کو کامیابی ملی جبکہ بعض اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔پاکستانی تاریخ میں طویل ترین دھرنا برسرِ اقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف نے 2014 میں بطور حزب اختلاف کی جماعت اسلام آباد میں دیا تھا جو 126 روز تک جاری رہا۔ماضی میں ہونے والے ان دھرنوں کے باعث بعض حکمرانوں کو اقتدار سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔پاکستانی سیاست میں لانگ مارچ اور دھرنے اہمیت تو رکھتے ہیں۔ لیکن اکثر حکومتیں ان سے خائف نہیں ہوتیں۔ماضی میں ہونے والے ان دھرنوں سے طاقت کے استعمال اور مذاکرات کے ذریعے نمٹا گیا۔ لیکن ان دھرنوں کا مقصد حکومت پر دباﺅ بڑھانا ہوتا ہے اور اکثر اس دباؤ کے باعث طاقتور مراکز اس کا فائدہ بھی اٹھاتے رہے ہیں۔

دارالحکومت اسلام آباد میں پہلا بڑا مظاہرہ چار اور پانچ جولائی 1980 کو ہوا تھا۔ جب مذہبی جماعت تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے سابق صدر ضیاء الحق کے زکٰوۃ اور عشر آرڈیننس کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا۔اس دھرنے میں ہزاروں افراد شریک تھے اور ان کا مؤقف تھا کہ زکوۃ اور عشر آرڈیننس میں شیعہ برادری کو نظر انداز کیا گیا۔دو روز تک جاری رہنے والے اس دھرنے کے لیے نہ تو پولیس کی مدد سے کنٹینر لگا کر سڑکیں بند کی گئیں اور نہ ہی لاٹھی چارج یا آنسو گیس کا استعمال ہوا۔ مجبوراً حکومت نے شیعہ مکتبہ فکر کو اس آرڈیننس سے مستثنیٰ رکھنے کا مطالبہ تسلیم کرلیا۔

نوے کی دہائی تک اسلام آباد میں دھرنے دینے یا مارچ کرنے کا رواج اس قدر عام نہ تھا۔ اگر کسی سیاسی جماعت کے کچھ کارکن اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچ بھی جاتے تو کچھ دیر جھنڈے لہرانے کے بعد روانہ ہوجاتے تھے بے نظیر بھٹو نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے خلاف 1990 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے 16 نومبر 1992 کو ایک لانگ مارچ کا اعلان کیا۔بے نظیر بھٹو نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف 1990 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے 16 نومبر 1992 کو ایک لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ بے نظیر بھٹو نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف 1990 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے 16 نومبر 1992 کو ایک لانگ مارچ کا اعلان کیا۔

یہ وہ وقت تھا جب نواز شریف کی حکومت اور اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کے درمیان کشمکش شروع ہوچکی تھی اور بے نظیر بھٹو نے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نواز شریف حکومت کے خلاف لانگ مارچ شروع کیا۔انہی دنوں فوج کے سربراہ جنرل آصف نواز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے اور جنرل وحید کاکڑ کو نیا آرمی چیف بنا دیا گیا تھا۔چھبیس مئی 1993 کو نواز شریف کی حکومت کو سپریم کورٹ کے احکامات پر بحال کیا گیا اور اسی سال 16 جولائی 1993 کو بے نظیر بھٹو نے ایک مرتبہ پھر لانگ مارچ کیا۔ تاہم اس مرتبہ اُنہیں اسلام آباد خاردار تاروں سے بند ملا۔اس صورت حال میں فوجی سربراہ جنرل وحید کاکڑ نے صدر اسحاق اور وزیرِ اعظم نواز شریف کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیا۔

جماعت اسلامی کو اسلام آباد میں ہنگامہ خیز مارچ کرنے کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔جماعت اسلامی کے پرجوش کارکنوں کی پولیس کے ہاتھوں پٹائی اور کارکنوں کے ہاتھوں پولیس کی پٹائی کے کئی عینی شاہدین آج بھی ان مظاہروں کو بھول نہیں پائے۔جماعت اسلامی نے پہلا مارچ، ستمبر 1996 میں قاضی حسین احمد ک قیادت میں ملین مارچ کی صورت میں کیا۔ جس کا مقصد اس وقت کی وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت کا خاتمہ تھا۔

اسلام آباد پولیس نے مارچ کے شرکا کو تین روز تک آبپارہ کے قریب روکے رکھا۔ یہ وہ پہلا موقع تھا جب اسلام آباد کے مکینوں نے آنسو گیس سے مکمل آشنائی حاصل کی اور اس دھرنے کے دوران آبپارہ مارکیٹ کے قریب گھروں میں شیل گرتے رہے۔جماعت اسلامی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا اور دھرنے کے تیسرے روز مظاہرین کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے، موجودہ ڈی چوک تک جانے کی اجازت دی گئی۔جماعت اسلامی کے کارکنان نے وہیں نماز ادا کی اور سلام پھیرنے کے ساتھ ہی ہوا میں آنسو گیس کے شیل چلنے لگے۔ لیکن پارلیمنٹ ہاؤس تک پہنچنے کا دعویٰ پورا کرنے کے بعد جماعت اسلامی کے کارکن شام تک منتشر ہوگئے۔اس دھرنے کے ایک ماہ بعد اسی دھرنے کو عوامی ردعمل سمجھتے ہوئے اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کردیا۔

نو مارچ 2007 کو اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو عہدے سے ہٹائے جانے پر وکلا نے عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک چلائی۔تحریک کی وجہ سے ملک بھر میں احتجاج شروع ہوا اور پھر جسٹس افتخار چوہدری، وکلاء رہنماؤں اعتزاز حسن، منیر اے ملک اور علی احمد کرد کی قیادت میں جون 2008 میں پہلا لانگ مارچ کیا گیا۔ جو باآسانی پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکا۔نواز شریف نے اعتزاز احسن سے اس احتجاج کو دھرنے میں تبدیل نہ کرنے کی درخواست کی اور لانگ مارچ کے تمام شرکا منتشر ہوگئے۔ تاہم یہ تحریک ختم نہ ہوئی اور مارچ 2009 کو ایک بار پھر لانگ مارچ کا سلسلہ شروع ہوا۔

اس بار یہ مارچ لاہور سے نواز شریف کی قیادت میں شروع ہوا اور اسے روکنے کے لیے اسلام آباد اور راولپنڈی کو کنٹینروں کا شہر بنا دیا گیا۔ لیکن یہ مارچ ابھی گجرانوالہ ہی پہنچا تھا کہ اس وقت کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے تمام ججز کو بحال کرنے کا اعلان کردیا۔کہا جاتا ہے کہ اس معاملے میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کردار ادا کیا اور نواز شریف کو لانگ مارچ روکنے کے لیے کہا تھا۔سولہ مارچ 2009 کو وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام معزول ججوں کو بحال کرنے کا اعلان کیا اور یوں یہ مارچ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے 2013 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کیا۔سترہ جنوری کو اسلام آباد کی سخت سردی میں چار روز تک جاری رہنے والے دھرنے کا اختتام حکومت اور مظاہرین کے درمیان کامیاب مذاکرات پر ختم ہوا۔سیکڑوں مرد وخواتین کو ‘فتح’ کی نوید سنائی گئی۔ جس میں مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا اور تمام مظاہرین پُرامن طور پر منتشر ہوگئے۔اگست 2014 میں طاہر القادری نے ماڈل ٹاؤن سانحہ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اسلام آباد کی طرف ایک مرتبہ پھر مارچ کرنے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان تحریک انصاف نے 2013 کے انتخابات میں دھاندلی اور قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی نہ کرائے جانے کے خلاف 14 اگست 2014 کو اسلام آباد کے لیے اپنے سفر کا آغاز کیا۔لاہور سے شروع ہونے والا یہ مارچ دو روز میں اسلام آباد پہنچا۔ جہاں اُنہیں پہلے زیرو پوائنٹ اور پھر آبپارہ چوک رُکنے کی اجازت دی گئی۔آبپارہ چوک میں پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف الگ الگ اپنے جلسے کرتے رہے اور پھر انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جانے کا اعلان کیا۔ہزاروں کی تعداد میں پولیس، ایف سی اور کنٹینرز کی دیواریں، لیکن سب رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے عمران خان اور طاہر القادری 20 اگست کو ریڈ زون میں داخل ہوگئے۔ اس دوران حکومت نے تمام فورس کو پیچھے ہٹا لیا۔اس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے 18 دسمبر تک ایک طویل دھرنا دیا گیا۔ جس میں دھرنے کے شرکا نے پارلیمنٹ ہاؤس اور وزیرِ اعظم ہاؤس کی طرف مارچ بھی کیا۔آنسو گیس کی برسات ہوئی، ہزاروں شیل فائر کیے گئے، سپریم کورٹ کے گیٹ پر کپڑے لٹکائے گئے۔ ڈی چوک میں جلیبی کی دکانیں بھی کھلیں۔ ڈی جے بٹ کے ترانے بھی چلے۔ لیکن بالاخر 70 دن کے بعد طاہر القادری اور 126 دن بعد عمران خان بھی دھرنا ختم کر کے روانہ ہوگئے۔

نومبر 2017 میں مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی اور نواز شریف وزارت عظمیٰ کا منصب عدالت کی طرف سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد چھوڑ چکے تھے۔ ان کی جگہ شاہد خاقان عباسی ملک کے وزیرِ اعظم تھے۔انتخابی فارم میں تبدیلی کے خلاف اور توہین مذہب کا نعرہ لگا کر تحریک لبیک جیسی غیر معروف دینی جماعت نے اسلام آباد کا رُخ کیا اور راولپنڈی اسلام آباد کو ملانے والے فیض آباد چوک کے مقام پر دھرنا دیا۔بائیس روز تک جاری رہنے والے اس دھرنے کی وجہ سے جڑواں شہروں کے درمیان سفر کرنے والے لاکھوں شہری شدید مشکلات کا شکار ہوئے۔ روزانہ فیض آباد میں مختلف ججز اور حکومت کو گالیاں دی جاتی رہیں۔ جس کے بعد وفاقی پولیس نے ایکشن شروع کیا اور سو سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔بعد ازاں بات مذاکرات پر آکر رُکی اور اس وقت کے وزیرِ قانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے بطور ضامن دستخط کے ساتھ خادم رضوی کا یہ دھرنا کامیابی حاصل کرنے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔

پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں نے سال 2018 کے انتخابات میں دھاندلی، ملک میں مہنگائی سمیت کئی اہم ایشوز کو لے کر ایک بار پھر ‘مارچ’ کا آغاز کیا ہے۔ جس کی قیادت جمعیت علماء اسلام کر رہی ہے اور حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اس مارچ کو ‘آزادی مارچ’ کا نام دیا ہے اور وہ خود اس مارچ کو مکمل طور پر ترتیب دے رہے ہیں۔اپوزیشن کی باقی جماعتیں اس مارچ کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔ تاہم مولانا فضل الرحمٰن اب تک انتہائی پر اعتماد ہیں اور وزیرِ اعظم عمران خان کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کے ساتھ طے پائے جانے والے معاہدے کے مطابق اس بار جلسہ یا پھر دھرنے کا مقام پشاور موڑ ہے۔یہ دھرنا کامیاب ہوگا یا نہیں۔ مولانا کو وزیرِ اعظم عمران خان کا استعفیٰ ملے گا یا پھر ناکام واپس جانا پڑے گا۔ اس بات کا فیصلہ آئندہ چند روز میں ہوگا۔

About BBC RECORD

Check Also

نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا، گورنر پنجاب

Share this on WhatsAppلاہور: گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *