حکومت کا جے یو آئی کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کو کالعدم قرار دینے پر غور

پاکستان کی وفاقی حکومت نے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی – ف) کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کو کالعدم قرار دینے پر غور شروع کردیا ہے۔ اس حوالے سے سمری بھی وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کو ارسال کر دی گئی ہے۔وفاقی حکومت کی سمری میں کہا گیا ہے کہ جے یو آئی-ف کی ذیلی تنظیم ڈنڈا بردار ہے۔ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔ سمری وزارت داخلہ کی جانب سے بھجوائی گئی ہے۔

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز کو دستیاب سمری کے مطابق جے یو آئی کی ذیلی تنظیم لٹھ بردار ہے اور قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ذیلی تنظیم پارٹی منشور کی شق نمبر 26 کے تحت الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے۔ اس تنظیم کی حالیہ تصویروں اور ویڈیو فوٹیجز کی وجہ سے عوام میں خوف و ہراس پیدا ہوا ہے۔اگر یہ سمری منظور کر لی جاتی ہے تو انصار الاسلام کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا۔ جس کے بعد ان کے تمام تر اثاثے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اصل تنطیم یعنی جمعیت علماء اسلام کو بھی واچ لسٹ پر بھی رکھا جا سکتا ہے۔

چند روز قبل جمعیت علماء اسلام (ف) کی ذیلی تنظیم کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ جس میں دیکھا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن محافظ دستے سے سلامی لے رہے ہیں۔ویڈیو میں کثیر تعداد میں خاکی یونیفارم میں کارکنان نظر آ رہے ہیں جن کے پاس جے یو آئی کے پرچم کے رنگوں سے مزین ڈنڈے بھی موجود ہیں۔
بعد ازاں خیبر پختونخوا حکومت نے جے یو آئی-ف کے محافظ دستے کے خلاف کارروائی کا اعلان بھی کیا تھا لیکن فی الحال ان کے خلاف کوئی باضابطہ مقدمہ یا کارروائی کا آغاز نہیں کیا گیا۔

وفاقی وزرا نے بھی انصار الاسلام پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے تصدیق کی ہے وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ کیا کبھی کسی اور تنظیم کو بھی کبھی احتجاج کے لیے اپنی ملیشیا بنانے کی ضرورت پیش آئی ہے؟فردوس عاشق اعوان کے بقول کوئی نجی ملیشیا بنانے کی اجازت نہیں دیں گے. ریاست کے اندر ریاست قائم نہیں ہو سکتی. انصار السلام پر پابندی کسی جماعت کے خلاف نہیں انتہا پسندی کی سوچ کے خلاف ہے.

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومتیں جتھوں سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی طے کر چکی ہیں.وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ایسی پابندیاں لگتی رہتی ہیں اور اٹھتی رہتی ہیں یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی رٹ کو کوئی چیلنج کرے گا تو قانون حرکت میں آئے گا۔عمران خان کی کابینہ میں شامل وزیر تعلیم شفقت محمود کہتے ہیں کہ آئین میں نیشنل ایکشن پلان میں مسلح جتھے بنانے کی اجازت نہیں ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کے حکومت مخالف احتجاجی مارچ کے لیے وزیر اعظم کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے پرویز خٹک کی قیادت میں سینئر ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔اس کمیٹی میں 7 ارکان شامل ہیں۔ جن کی سربراہی وزیر دفاع پرویز خٹک کریں گے۔ کمیٹی میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، شفقت محمود اور نور الحق قادری شامل ہیں۔ان کے ساتھ اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی اور سابق وزیرخزانہ اسد عمر بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔حکومتی ترجمان کے بقول یہ کمیٹی سیاسی انتشار سے بچنے کے لیے حزب اختلاف سے مذاکرات کرے گی۔ کمیٹی کو مذاکرات کا مکمل اختیار دے دیا گیا ہے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ سے نمٹنے کے لیے حکومت نے حکمت عملی ترتیب دینا شروع کر دی ہے۔ضلعی انتظامی حکام کے مطابق آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج طلب کی جا سکتی ہے۔ ماضی کی طرح امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر اہم سرکاری عمارتوں اور اہم تنصیبات پر فوج تعینات کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔

دوسری جانب وفاقی پولیس نے ایک پیغام اسلام آباد کے تاجروں کے لیے جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کیٹرنگ، ٹینٹ سروس، ہوٹل، موٹل، گیسٹ ہاؤس، جنریٹر، ورکشاپ، ہارڈ ویئر اسٹور، ویلڈنگ ورکشاپ، ساؤنڈ سسٹم، کرین اور ایکسیویٹر مشین کی دھرنا شرکا کو خدمات فراہم کرنے کی صورت میں پولیس کارروائی کی جائے گی ۔اسلام آباد کے 22 تھانوں نے مذکورہ کاروبار کرنے والے افراد کو پیشگی نوٹس جاری کیے ہیں۔

یہ نوٹس جاری کرنے کی پولیس کے ایک سینئر افسرنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ کے حکم کے مطابق اسلام آباد میں ایسے کسی بھی دھرنے کے لیے سامان فراہم کرنے والا سہولت کار تصور ہوگا جس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔اسلام آباد کی تاجر برادری نے مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کو ناکام بنانے کے لیے عائد کردہ پابندی کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔اس ضمن میں آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اور آبپارہ میں کاروبار کرنے والے اجمل بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت کو غلط مشورے دینے والے حکومت کے خیرخواہ نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی ادارہ کیسے کسی تاجر کو کاروبار کرنے سے منع کرسکتا ہے۔ قانون کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔انہوں نے کہا کہ کل تک تحریک انصاف خود اور طاہرالقادری جب 124 روز تک ڈی چوک میں دھرنا دیے بیٹھے تھے تو انکے دھرنے کے شرکاء کو راولپنڈی اور اسلام آباد سے کھانے پہنچائے جاتے تھے۔اجمل بلوچ کے بقول اس وقت پابندی عائد نہیں تھی تو آج کیوں ایسی پابندی عائد کی جا رہی ہے ۔خیال رہے کہ جے یو آئی (ف) نے 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ مظاہروں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ شروع ہوگا جو 31 اکتوبر کو اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچے گا۔جے یو آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ڈی-چوک پر ایک بڑا جلسہ منعقد کیا جائے گا لیکن اس کے بعد دھرنا ہوگا یا منتشر ہوا جائے گا اس حوالے سے اب تک کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا۔

About BBC RECORD

Check Also

حوثی ملیشیا کے میزائل حملے میں سات یمنی فوجی ہلاک

Share this on WhatsAppیمن میں حوثی ملیشیا کے میزائل حملے میں ایک اعلیٰ افسر سمیت ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *