ترک صدر کا شمالی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائی کے آغاز کا اعلان

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے بدھ کو شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔انھوں نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ’’ترکی کی مسلح افواج اور شامی قومی فوج ( جیش الحر) نے شام کے شمال میں ’آپریشن امن بہار‘ کا آغاز کردیا ہے۔‘‘انھوں نے کہا کہ ’’اس فوجی کارروائی میں شمالی شام میں کرد جنگجوؤں اور داعش کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ہمارے مشن کا مقصد ہماری جنوبی سرحد پر دہشت گردی کی راہداری کو قائم ہونے سے روکنا اورعلاقے میں امن کا قیام ہے۔‘‘

ترکی کے ایک سکیورٹی عہدہ دار نے کہا ہے کہ فضائی حملوں سے اس آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے اور توپ خانے سے اس کی مدد کی جائے گی۔دوسری جانب شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے ترجمان مصطفیٰ بالی نے کہا ہے کہ ’’ترکی کے لڑاکا طیاروں نے شہری علاقوں پر فضائی حملے شروع کردیے ہیں۔‘‘
شام کے سرکاری میڈیا اور ایک کرد عہدہ دار نے الگ سے یہ اطلاع دی ہے کہ فضائی بمباری میں ترکی کی سرحد کے ساتھ شام کے شمال مشرق میں واقع قصبے راس العین کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سی این این ترک کی رپورٹ کے مطابق انقرہ میں امریکی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا ہے اور انھیں ترکی کے فوجی آپریشن سے آگاہ کیا گیا ہے۔
ترکی ایک عرصے سے شام کے شمالی علاقے میں کرد فورسز کے خلاف فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔ ترک صدر متعدد مرتبہ شمالی شام میں موجود کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دے چکے ہیں۔ وہ ان شامی کردوں کو ترکی کی علاحدگی پسند کالعدم کرد جماعت کردستان ورکرز پارٹی( پی کے کے) کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ترکی ، یورپی یونین اور امریکا نے پی کے کے کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

ترکی کی اس فوجی کارروائی سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں موجود امریکی فورسز کے انخلا کا اعلان کیا تھا۔یہ علاقہ کردوں کی خود مختار انتظامیہ کے تحت ہے۔کرد ملیشیا اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل شامی جمہوری فورسز نے ترکی پریہ الزام عاید کیا ہے کہ وہ شام کے شمال مشرقی علاقے میں اس فوجی کارروائی سے داعش کے لیے نئی اراضی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ایس ڈی ایف کے ترجمان نے قبل ازیں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ان حملوں کے ذریعے ترکی داعش کے لیے نیا علاقہ لینا چاہتا ہے اور ان تنظیموں کی زندگی کو دوام بخشنا چاہتا ہے۔ہم ترکی کے حملوں اور ان کی حمایت کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔‘‘

About BBC RECORD

Check Also

ٹرمپ نے کانگرس کو 3000 امریکی فوجیوں کی سعودی عرب میں تعیناتی بارے آگاہ کردیا

Share this on WhatsAppامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگرس کو باضابطہ طور پر 3000 امریکی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے