عراق میں نہتے مظاہرین پر حملے کو مسترد کرتے ہیں : مقتدی الصدر

عراق میں الصدری گروپ کے سربراہ اور مذہبی شخصیت مقتدی الصدر کا کہنا ہے کہ وہ عراق میں نہتے مظاہرین پر حملے کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عراق میں مظاہروں کا کسی "گروپ” کے مظاہروں میں تبدیل ہونا کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔عراق میں انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق منگل کے روز شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک 4 افراد ہلاک اور 294 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ احتجاجی مظاہرے عراق کے متعدد شہروں میں دیکھنے میں آئے۔

دوسری جانب عراقی ٹیلی وژن نے ذی قار صوبے میں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں ایک احتجاج کنندہ شہری کی ہلاکت اور 25 افراد کے زخمی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ زخمیوں میں سیکورٹی فورسز کے 5 اہل کار بھی شامل ہیں۔ البتہ عراقی سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز دارالحکومت بغداد میں سیکورٹی فورسز اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 2 افراد ہلاک اور 82 زخمی ہوئے۔

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز کے مطابق سیکورٹی فورسز نے بغداد میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کی۔ دیوانیہ میں احتجاج کنندگان پر آنسو گیس کے گولے داغے گئے۔ اس کے نتیجے میں 10 افراد زخمی ہو گئے۔

بدھ کے روز بعقوبہ ، المثنی، دیوانیہ، نجف اور بصرہ کے شہر بھی مظاہروں میں شامل ہو گئے۔ مظاہرین نے ذی قار صوبے میں صوبائی حکومت کی عمارت کو آگ لگا دی۔ یہاں سے اٹھنے والے دھوئیں کے کالے بادلوں نے بغداد کے مشرق میں آسمان کو بھر دیا۔ اس دوران عراقی سیکورٹی فورسز کے ہیلی کاپٹروں نے دارالحکومت بغداد کی فضاؤں میں گشت کیا اور حکام نے احتجاج کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مرکزی پُلوں کو بند کر دیا۔

About BBC RECORD

Check Also

عراق چہلم کے موقع پر کربلا میں کروڑوں زائرین حسینی کا اجتماع

Share this on WhatsAppبغداد: عراق سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں شہدائے کربلا کا چہلم ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے