بشار حکومت 1.28 لاکھ گرفتار شدگان شامیوں کو رہا کرے : امریکا

اقوام متحدہ میں امریکا کی مندوب کیلی کرافٹ نے شام کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں ظالمانہ طور پر "گرفتار افراد کو رہا” کرے۔شام کے تنازع کے حوالے سے سلامتی کونسل کے ماہانہ اجلاس کے دوران کیلی نے کہا کہ "تقریبا 1.28 لاکھ شامی ابھی تک ظالمانہ طور پر قید ہیں۔ یہ کارستانی ناقابل قبول ہے اور بشار حکومت پر لازم ہے کہ وہ ان افراد کو رہا کرے”۔

انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی مبصرین کو شام میں جیلوں کے اندر جانے کی اجازت دی جائے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے اجلاس میں روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ورشینن نے کہا کہ "شام کے شمال مغربی صوبے اِدلب میں دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے دوران شہریوں کی سلامتی کی انتہائی درجے کی رعایت رکھی جائے”۔

اجلاس میں سلامتی کونسل کے تمام ارکان نے دو سال کے مذاکرات کے بعد اقوام متحدہ کے زیر سرپرستی شام کے حوالے سے آئینی کمیٹی کی تشکیل کا خیر مقدم کیا۔ اس کمیٹی میں شامی اپوزیشن اور بشار حکومت کے ارکان شامل ہیں۔ادھر شام کے لیے امریکا کے ایلچی جیر پیڈرسن کا کہنا ہے کہ آئینی کمیٹی کی تشکیل "شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پہلا بڑا معاہدہ ہے” … اور آئین میں ترمیم ایک نئے سماجی سمجھوتے کی اجازت دے گی جو تباہ حال ملک کی بحالی میں مددگار ثابت ہو۔آئینی کمیٹی کے ارکان کا پہلا اجلاس 30 اکتوبر کو جنیوا میں منعقد ہو گا۔

About BBC RECORD

Check Also

یمن: نہم میں حوثیوں کے ڈیتھ بریگیڈ کا سربراہ ہلاک ، بقیہ عناصر نے ہتھیار ڈال دیے

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ؛ یمن دارالحکومت صنعاء کے مشرق ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے