‘ڈارک نیٹ‘جرمنی میں سائبر 7ملزم گرفتار

جرمنی میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ‘ڈارک نیٹ‘ چلانے کے الزام میں کم از کم سات افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان سے اسلحے کی غیر قانونی خرید و فروخت، منشیات اور بچوں کی جنسی زیادتی کی تصاویر جیسے الزامات کی تفتیش کی جاری ہے۔

بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جرمن صوبہ رائن لینڈ پلاٹینٹ کی پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے ایک ڈارک نیٹ کے سرور کو آف لائن کرتے ہوئے ضبط کر لیا ہے۔ ٹرئیر نامی شہر سےجاری کیے جانے والے اس بیان میں مزید کہا گیا،” پولیس گرفتار شدگان سے مختلف مبینہ جرائم کی پوچھ گچھ کر رہی ہے، جن میں اسلحے کی غیر قانونی خریدو فروخت، منشیات اور بچوں کے ساتھ زیادتی کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ یعنی جو کچھ بھی ڈارک نیٹ پر تصور کیا جا سکتا ہے۔‘‘

ڈارک نیٹ ویب سائٹ خفیہ ہوتی ہیں اور ویب کی دنیا میں اس رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق گوگل جیسے سرچ انجن بھی انہیں تلاش کرنے میں ناکام رہ جاتے ہیں۔ یہ ویب سائٹس گمنام رہتے ہوئے متعدد کنکشنز، پوائنٹس یا نوڈز کے ذریعے ڈیٹا کو ایک سے دوسری جگہ منتقل کرتی رہتی ہیں۔ اس طرح ڈیٹا کا اصل ذریعہ مبہم یا تاریکی میں ہی رہتا ہے۔

جمعرات کو مارے جانے والے یہ چھاپے کئی سالوں کی تفتیش اور متعدد دیگر اداروں کی معاونت سے مارے گئے ہیں۔ پولیس کا خیال ہے کہ یہ قبضے میں لیا گیا ڈیٹا سینٹر ملکی مواصلاتی ادارے ‘ ٹیلیکوم‘ پر تین برس قبل ہونے والے سائبر حملے میں ملوث تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو بند کیے جانے والے ڈارک نیٹ کا تعلق دنیا کے دوسرے سب سے بڑے ‘وال اسٹریٹ مارکیٹ‘ نامی تجارتی ڈارک نیٹ پلیٹ فارم سے تھا۔ یورپی یونین اور امریکی حکام نے مئی میں اس پلیٹ فارم کو بند کر دیا تھا۔ یہ پلیٹ فارم چوری شدہ اعداد و شمار، جعلی دستاویزات، کمپیوٹر وائرس اور منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

About BBC RECORD

Check Also

عراق چہلم کے موقع پر کربلا میں کروڑوں زائرین حسینی کا اجتماع

Share this on WhatsAppبغداد: عراق سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں شہدائے کربلا کا چہلم ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے