پیرس کا فیشن شو، خواتین کی ترقی اور صنفی برابری کے نام

موسم خزاں کی آمد پر مختلف ملکوں میں آئندہ برس کے گرما اور سرما کے پہناووں کے نئے ڈیزائن پیش کیے جاتے ہیں۔ پیرس فیشن ویک انہی میں سے ایک ہے۔ اس ویک میں لوریئل کمپنی کا رنگ برنگا شو اب ایک روایت بن چکا ہے۔فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں میک اپ کا سامان بنانے والی عالمی شہرت کی کمپنی لوریئل کے سالانہ شو میں دنیا بھر کی فیشن انڈسٹری سے منسلک خواتین شریک ہوئیں۔ ہفتہ ستائیس ستمبر کی رات منعقدہ اس شو میں نامی گرامی سپر ماڈل، اداکارائیں، فنکار، ڈیزائنرز اور کاسمیٹکس بنانے والے اداروں کی شخصیات شریک تھیں۔

فرانسیسی کاسمیٹکس بنانے والی بڑی کمپنی کے اس برس کے شو کا موضوع عالمی منظر پر خواتین کی سماجی اور اقتصادی میدانوں میں ترقی اور مجموعی طور پر مختلف شعبوں میں انہیں با اختیار بنانا تھا۔ فیشن انڈسٹری سے منسلک شخصیات نے مجموعی صورت حال میں تبدیلی کو اطمینان بخش قرار دیا۔ ساتھ ہی دنیا بھر کے ہر معاشرے میں خواتین کو با اختیار بنانے اور صنفی مساوات کو وقت کی ضرورت قرار دیا گیا۔لوریئل کا فیس اور برانڈ ایمبیسڈر ایوا لنگوریا کا کہنا تھا کہ کاسمیٹکس بنانے والے ادارے صرف لپ اسٹکس ہی نہیں بناتے بلکہ وہ خواتین کی ترقی میں اہم کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔ لنگوریا کے مطابق یہ ادارے اپنی مصنوعات سے خواتین کی ذہنی سوچ اور انڈرسٹینڈنگ کو پیش کرتے ہیں۔

رنگ برنگی تقریب میں ایوا لنگوریا نے فیشن کلچر کے حوالے سے کہا کہ ایسی تقریبات خواتین کی کثیر الجہتی کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔ لنگوریا کے مطابلق حسن کی کوئی ایک تعریف مقرر نہیں بلکہ ہر خطے اور علاقے میں یہ مختلف ہوتی ہے اور فیشن انڈسٹری کا ہر خطے کی حسیناؤں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا حقیقت میں انہیں برابری کی سطح پر لا کر با اختیار بنانے کی جانب ایک قدم ہے۔لوریئل ادارے کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مستقبل میں خواتین کو با اختیار بنانے کے عمل کو مزید تقویت دینے کے ساتھ ساتھ اس کا بڑھ چڑھ کر پرچار بھی کیا جائے گا۔ ادارے کے مطابق فیشن انڈسٹری میں شریک ماڈل اصل میں خواتین کے با اختیار ہونے کی علامت ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

غیر ملکیوں کیلئے بھارت میں زندگی گزارنا بہت مشکل ہے، نورا فتیحی

Share this on WhatsAppممبئی: دلبردلبرگرل نورا فتیحی نے اپنی آپ بیتی بتاتے ہوئے کہا ہے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے