ڈس انفارمیشن پھیلانے والی ویب سائٹس، آمدنی دو سو ملین ڈالر سے زائد: رپورٹ

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ڈس انفارمیشن پھیلانے والی ہزاروں ویب سائٹس کو سالانہ سینکڑوں ملین ڈالر کی آمدنی ہو رہی ہے۔ ایسی ویب سائٹس غلط معلومات پھیلاتی ہیں اور ان کے ذرائع ناقابل اعتبار ہوتے ہیں۔ اس مطالعاتی جائزے کے مطابق عالمی سطح پر اگرچہ ہر ملک میں ہی ایسی ویب سائٹس کی روک تھام کی بات کی جاتی ہے، تاہم ایسے آن لائن پورٹل آج بھی اشتہارات کی مد میں سینکڑوں ملین ڈالر کما رہے ہیں۔ ان ویب سائٹس کا مقصد عام لوگوں کو غلط معلومات پہنچا کر ان کی رائے کو غلط راہ پر ڈالنا ہوتا ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود ایسی ویب سائٹس دنیا کی چند بہت بڑی بڑی کمپنیوں تک سے اشتہارات لینے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔

اس بارے میں برطانوی دارالحکومت لندن میں قائم گلوبل ڈس انفارمیشن انڈکس (جی ڈی آئی) نامی تنظیم کی طرف سے پیر تیئیس ستمبر کو بتایا گیا کہ اس وقت دنیا بھر میں ڈس انفارمیشن پھیلانے والی ایسی ویب سائٹس کی تعداد 20 ہزار کے قریب ہے اور انہیں سالانہ 235 ملین ڈالر یا 213 ملین یورو تک کے برابر آمدنی ہوتی ہے۔ جی ڈی آئی کے پروگرام ڈائریکٹر کریگ فیگن نے بی بی سی ریکارڈ لندن کو بتایا، ”ڈی انفارمیشن ایک ایسی حقیقت ہے، جس کے محرکات بہت متنوع ہوتے ہیں اور ایسا مختلف وجوہات کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ ان میں سے سب سے پرکشش وجہ بے تحاشا مالی وسائل تک رسائی حاصل کرنا بھی ہے۔‘‘

کریگ فیگن کے مطابق ایسی ویب سائٹس کا متنازعہ ہونا اپنی جگہ مسلمہ ہے لیکن ان کے لیے اہم ترین بات انہیں ڈس انفارمیشن سے حاصل ہونے والا سرمایہ ہوتا ہے۔ اس بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سابق مشیر اور انتہائی دائیں بازو کے نظریہ ساز اسٹیو بینن نے تو اسی سال اپنی ایک ویڈیو میں یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ایسی آمدنی انتہائی دائیں بازو کے آن لائن میڈیا اداروں کے لیے مالی وسائل کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

اس موضوع پر کی جانے والی تحقیق سے یہ پتہ بھی چلا کہ ایسی ڈس انفارمیشن ویب سائٹس میں سے دو، ‘ٹوِچی‘ اور ‘زیرو ہَیج‘ دو ایسے پورٹل ہیں، جن کی ماہرین نے ڈس انفارمیشن پھیلانے والی دو ویب سائٹس کے طور پر باقاعدہ نشاندہی تو کر رکھی ہے لیکن ان دو اداروں کو اشتہارات دینے والوں میں جرمنی کی چند بڑی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ ان جرمن کمپنیوں میں جرمنی کی سب سے بڑی ریلوے کمپنی ڈوئچے بان، کار ساز ادارے اوپل، ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ڈوئچے ٹیلی کوم، پوسٹ بینک اور آن لائن کتابیں بیچنے والے بڑے ادارے ‘ٹالیا‘ سمیت بہت سی کمپنیاں شامل ہیں۔

گلوبل ڈس انفارمیشن انڈکس نامی ادارے کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بات کا امکان انتہائی کم ہے کہ ان جرمن اداروں کو یہ علم بھی ہو کہ ان کی طرف سے اشتہارات کے لیے دی جانے والی رقوم دراصل ڈس انفارمیشن پھیلانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ صورت حال اس امر کی عکاسی بھی کرتی ہے کہ آج کل کی ڈیجیٹل دنیا میں آن لائن ایڈورٹائزنگ کو کس طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔

انویسٹمنٹ ایجنسی ‘ذینِتھ‘ کے مطابق انٹرنیٹ پر ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ کے لیے آن لائن مارکیٹنگ کی خاطر جگہ کسی بھی ویب سائٹ پر ہمیشہ کسی نہ کسی سافٹ ویئر کی مدد سے ہی خریدی یا بیچی جاتی ہے۔ اس عمل کو ‘پروگرامیٹک ایڈورٹائزنگ‘ کہتے ہیں اور اس طرح خرچ کی جانے والی رقوم ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ کے لیے استعمال کی جانے والی سالانہ رقوم کا تقریباﹰ دو تہائی بنتی ہیں۔مزید یہ کہ اس طرح کی آن لائن اشتہاری مہموں کے نتیجے میں اس سال پوری دنیا میں تقریباﹰ 84 بلین یورو کا کاروبار کیا جائے گا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اگلے برس ایسے آن لائن کاروبار کی مالیت امسالہ رقم سے بھی کہیں زیادہ ہو جائے گی۔ ماہرین کے مطابق ایسے میں ضروری بات یہ ہے کہ ایسی آن لائن مہموں کے لیے اشتہارات ایسی ویب سائٹس کو نہ دیے جائیں، جو ڈس انفارمیشن پھیلانے کا کام کرتی ہیں۔

اس بارے میں وفاقی جرمن حکومت نے اسی سال جون میں اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ‘پروگرامیٹک ایڈورٹائزنگ‘ ایک مسئلہ ہے اور اسے اس کی موجودہ حالت میں اور جامع سرکاری ریگولیشن کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اس بارے میں جی ڈی آئی کے پروگرام ڈائریکٹر کریگ فیگن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”یہ پوری آن لائن ایڈورٹائزنگ انڈسٹری کا مسئلہ ہے اور اسے پوری انڈسٹری کی سطح پر ہی حل کیا جانا چاہیے۔‘

About BBC RECORD

Check Also

بھارتی ایجنسی ’سی بی آئی‘ کے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفاتر پر چھاپے

Share this on WhatsAppبھارت کی وفاقی تفتیشی ایجنسی نے ایمنسٹی انٹرنیشنل پر غیر ملکی مالی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے