سعودی تیل کی تنصیبات پر حملوں کا ذمے دار ایران ہے: بورس جانسن

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ ان کا ملک سعودی ارامکو کی تنصیبات پر حملوں کے سلسلے میں ایران کو مورد الزام ٹھہراتا ہے اور برطانیہ ممکنہ طور پر امریکا کے زیر قیادت عسکری کوششوں میں شامل ہو کر ایک مشترکہ جواب کے واسطے واشنگٹن اور یورپی حلیفوں کے ساتھ کام کرے گا۔
جانسن کا یہ موقف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جاتے ہوئے ان کے طیارے میں سوار صحافیوں کے سامنے آیا۔

برطانیہ کے ایک حکومتی ذمے دار یہ کہہ چکے ہیں کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے حملوں کی ذمے داری قبول کرنے سے متعلق اعلان کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ ان حملوں کا حجم اور درستی حوثی ملیشیا کی صلاحیتوں کے موافق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ "اس بات کا یقین نہیں کیا جا سکتا کہ ایرانی حکومت نے اس کی منظوری نہ دی ہو”۔جانسن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ برطانیہ ان تجاویز کا قریب سے جائزہ لے گا جن میں امریکا نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے مزید معاونت پر زور دیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ اگر سعودیوں یا امریکیوں نے اس بات کا مطالبہ کیا کہ ہمارا کوئی کردار ہو تو ہم ایسے طریقے کو تلاش کریں گے جس کے ذریعے مفید ثابت ہو سکیں۔ جانسن کے مطابق وہ اقوام متحدہ کے اجلاسوں کے دوران ایرانی صدر حسن روحانی کے ساتھ خطے میں ایران کے افعال کو زیر بحث لائیں گے۔ اس کے علاوہ وہ دُہری شہریت کے حامل کئی ایرانیوں کی رہائی پر بھی زور دیں گے جن کا کہنا ہے کہ انہیں غیر قانونی اور غیر منصفانہ طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

ٹرمپ نے کانگرس کو 3000 امریکی فوجیوں کی سعودی عرب میں تعیناتی بارے آگاہ کردیا

Share this on WhatsAppامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگرس کو باضابطہ طور پر 3000 امریکی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے