بلیک ہول سے آئن اسٹائن کے نظریئے کی تصدیق

بوسٹن: حال ہی میں طبیعیات داںوں نے ایک طرح کے بلیک ہول کے مشاہدے کے بعد کہا ہے کہ اس سے ایک بار پھر آئن اسٹائن کی ذہانت درست ثابت ہوگئی ہے۔نظری طور پر جب دو بلیک ہول باہم ملتے ہیں تو اس سے مختلف فریکوئنسی والی ثقلی امواج خارج ہوتی ہیں جن کی ماہیئت عین کسی گھنٹی کی طرح ہوتی ہے۔ یعنی جس طرح گھنٹی کی آواز مختلف فریکوئنسیوں کے اتار چڑھاؤ سے وجود میں آتی ہے، عین اسی طرح دو بلیک ہولز کی ثقلی امواج بھی کھنکھتی ہیں؛ جسے ماہرین نے بجنے یا ’’رنگنگ‘‘ کا نام دیا ہے۔

آئن اسٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت (تھیوری آف جنرل ریلیٹیوٹی) کے مطابق، ثقلی امواج کسی تار کی طرح بجتے ہوئے تھرتھراتی ہیں اور ان میں بلیک ہول کی کمیت اور اس کی گردش (اسپن) کی تفصیلات موجود ہوسکتی ہیں۔ اب ماہرین نے عین یہی طریقہ استعمال کرتے ہوئے نظریہ اضافیت کی آزمائش b[y کی ہے۔

ایم آئی ٹی میں کاولی انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس اینڈ اسپیس ریسرچ کے سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ بلیک ہول کی ثقلی امواج سے اس کی کمیت اور گھماؤ یعنی اسپن کو معلوم کرنے کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ بلیک ہول کے دو خواص کا پتا لگانے میں نہ صرف کامیابی ہوئی ہے بلکہ اس سے عمومی نظریہ اضافیت کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ اس پر کام کرنے والے پروفیسر میکسی میلیانو لسائی نے کہا کہ ہم سب عمومی نظریہ اضافیت کو سچ مانتے ہیں لیکن پہلی مرتبہ اس طرح سے اس کی تصدیق ہوئی ہے۔

اس طرح بلیک ہول سے وابستہ بے بال تھیورم کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ یہ تھیورم بتاتا ہے کہ بلیک ہول کو تین خواص سے سمجھا جاسکتا ہے جن میں اول کمیت، دوم چارج، اور سوم اینگولر مومینٹم یا اسپن شامل ہیں؛ جبکہ دیگر تمام معلومات (انفارمیشن) بلیک ہول میں گم ہوجاتی ہے۔ بغیر بال کی اصطلاح سب سے پہلے جان وہیلر نے ایک انٹرویو میں استعمال کی تھی۔

اس کا انکشاف دو اہم بلیک ہولز کے تصادم سے کیا گیا ہے اور ان کی ثقلی امواج کو استعمال کیا گیا ہے۔ جب دو بلیک ہول ملتے ہیں تو ان کے تصادم سے شدید ثقلی امواج پیدا ہوتی ہیں جن میں مختلف فری کوئنسیاں ہوتی ہیں۔ اس طرح نئے بلیک ہول کے شواہد یا آثار ملتے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

150 ممالک کے 11 ہزار سائنسدانوں نے عالمی موسمیاتی ایمرجنسی پیغام پردستخط کردیئے

Share this on WhatsAppلندن: دنیا بھر کے 11 ہزار سے زائد چوٹی کے سائنسدانوں نے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے