ایردوآن نے 30 لاکھ شامی پناہ گزینوں کی واپسی کا امکان ظاہر کر دیا

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ شمالی شام میں ترکی جس "سیف زون” کے قیام کے لیے کوشاں ہے وہاں تقریبا 30 لاکھ شامی پناہ گزینوں کی واپسی ہو سکتی ہے۔ترکی اس وقت 36 لاکھ سے زیادہ شامی پناہ گزنیوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ شام میں آٹھ برس کی جنگ کے بعد ترکی میں عوامی اور سرکاری سطح پر ان پناہ گزینوں کی موجودگی کے حوالے سے عدم اطمینان اور ناراضگی دیکھنے میں آ رہی ہے۔امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنے والی ترکی کی فورسز شمالی شام میں ایک وسیع علاقے کی تطہیر کے لیے کوشاں ہے تا کہ کرد باغیوں کو اپنی سرحد سے دور کیا جائے اور شامی پناہ گزینوں کی واپسی کو آسان بنایا جائے۔

بدھ کے روز ایردوآن نے ٹیلی وژن پر خطاب میں کہا کہ سیف زون کے قیام میں کامیابی کی صورت میں ہم اس علاقے میں 20 سے 30 لاکھ کے درمیان پناہ گزینوں کو ٹھکانہ فراہم کر سکیں گے جو اس وقت ترکی اور یورپ میں مقیم ہیں۔انہوں نے مزید کہا "اگر ہم ادلب میں امن کو جلد یقینی بنانے میں کامیاب نہ ہوئے تو پھر ہم اس علاقے میں بسنے والے چالیس لاکھ شامیوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکیں گے”۔

ترکی کے صدر اس سے قبل رواں ہفتے باور کرایا تھا کہ وہ شمالی شام کے راستے ایک "پُرامن گذرگاہ” کے خواہاں ہیں جو دیر الزور اور الرقہ تک پھیلی ہوئی ہو۔ اس طرح تیس لاکھ سے زیادہ پناہ گزین واپس آ سکیں گے”۔ ایردوآن نے یورپ پر زور دیا کہ وہ اس منصوبے کو یقینی بنانے کے لیے "مزید سپورٹ” پیش کرے۔
واضح رہے کہ ترکی کے لیے مرکزی ترجیح کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے نفوذ کو کچلنا ہے۔ انقرہ کا کہنا ہے کہ اس تنظیم کے ترکی کی اراضی پر موجود علاحدگی پسند کردوں کے ساتھ روابط ہیں۔

بدھ کے روز اپنے تازہ خطاب میں ایردوآن نے ایک بار پھر دھمکی دی کہ اگر رواں ماہ کے اواخر تک کرد عناصر ترکی کی سرحد سے دور نہ ہوئے تو ان کو حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔البتہ کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کا شمالی شام میں مضبوط وجود ہے اور اسے داعش تنظیم کے خلاف لڑائی میں امریکا کا ایک مرکزی حلیف شمار کیا جاتا ہے۔ترکی 2016 اور 2018 میں مذکورہ کرد یونٹس اور داعش تنظیم کے خلاف یک طرفہ فوجی آپریشن کر چکا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

ٹرمپ نے کانگرس کو 3000 امریکی فوجیوں کی سعودی عرب میں تعیناتی بارے آگاہ کردیا

Share this on WhatsAppامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگرس کو باضابطہ طور پر 3000 امریکی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے