طالبان کے افغان چیک پوائنٹ پر حملے میں 14 اہلکار ہلاک

کابل: طالبان جنگجوؤں نے ایک افغان چیک پوائنٹ پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں حکومت نواز عسکری گروہ کے 14 اہلکار ہلاک ہوگئے خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان جنگجوؤں نے افغانستان کے مغربی صوبے ہرات کے ضلع روبات سنگی میں ایک چیک پوائنٹ پر حملہ کرکے حکومت نواز عسکری جتھے کے 14 اہلکاروں کو ہلاک اور 7 اہلکاروں کو زخمی کردیا۔

پولیس کے ترجمان عبدالاحد ولی زادہ نے دعویٰ کیا ہے کہ چیک پوائنٹ پر حملے کے دوران طالبان جنگجوؤں کی بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور کچھ زخمی طالبان جنگجو فرار ہوگئے ہیں جن کی تلاش میں چھاپے مارے جارہے ہیں۔دریں اثنا مشرقی صوبے ننگرہار میں ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں یونیورسٹی پروفیسر ہلاک اور 2 افراد زخمی ہو گئے، بم یونیورسٹی پروفیسر کی کار پر نصب کیا گیا تھا۔ تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے افغانستان سے متعلق اپنی رپورٹ میں انسانی حقوق کے کارکنان پر حملے میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت نہ صرف ان حملوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے بلکہ حملوں کے بعد مجرموں کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی میں بھی بری طرح ناکام رہی ہے۔

واضح رہے کہ قبل ازیں ایک افغان کمانڈر نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کے امن مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں بھی ہم کابل حکومت پر حملے جاری رکھیں گے اور کسی بھی سطح پر کابل حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے۔

About BBC RECORD

Check Also

مودی نے کوئی جارحیت کی تو اختتام اس کے ہاتھ میں نہیں ہوگا، صدر آزادکشمیر

Share this on WhatsAppآزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے