شام کے شمال مغرب میں جھڑپوں کے دوران 59 افراد ہلاک

شام میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے سب سے بڑے گروپ المرصد کے مطابق منگل کے روز شمال مغربی شام میں بشار کی فوج اور مسلح اپوزیشن گروپوں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 59 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔رواں سال اپریل کے اواخر سے اِدلب صوبے کو اور پڑوسی صوبوں کے بعض حصوں کو تقریبا روزانہ کی بنیاد پر شامی حکومت اور روس کے جنگی طیاروں کی بم باری کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ دنوں میں ایک سے زیادہ محاذ پر شدید جھڑپیں بھی ہو رہی ہیں۔

مسلح تنظیم "ہيئۃ تحرير الشام” (سابقہ النصرہ فرنٹ) کو ادلب صوبے کے بڑے حصے پر اور اس کے اطراف کنٹرول حاصل ہے۔ یہاں اپوزیشن کے مسلح گروپوں کا نفوذ کم ہے۔منگل کی شام ادلب صوبے کے جنوبی دیہی علاقے میں گھمسان کی لڑائی شروع ہو گئی۔ المرصد کے مطابق جھڑپوں کے نتیجے میں مسلح گروپوں کے 20 عناصر ہلاک ہوئے جن میں اکثریت "ہیئۃ تحرير الشام” تنظیم سے تعلق رکھتی ہے جب کہ بشار کی فوج کے 23 ارکان مارے گئے۔

ادلب کے پڑوس میں واقع صوبے لاذقیہ کے شمالی دیہی علاقے میں جبل الاکراد میں فریقین کے بیچ ہونے والی لڑائی میں مسلح گروپوں کے 10 ارکان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے مقابلے میں مارے جانے والے شامی حکومتی فورسز کے اہل کاروں اور اس کے ہمنوا مسلح افراد کی تعداد 6 رہی۔یہ شدید لڑائی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ادلب کے جنوب، لاذقیہ کے شمال اور حماہ کے شمال میں دیہی علاقوں کو فضائی حملوں اور بم باری نے لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ منگل کے روز روسی طیاروں کے فضائی حملوں میں خان شیخون اور الصالحیہ کے علاقوں میں 6 شہری جاں بحق ہو گئے۔

بشار کی فوج نے اتوار کے روز سے ادلب کے جنوبی دیہی علاقے میں پیش قدمی کو یقینی بنایا ہے۔ وہ اب خان شیخون کی جانب آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے جو ادلب کے جنوبی دیہی علاقے کا سب ے بڑا شہر ہے۔یاد رہے کہ ادب اور اس کے اطراف کا علاقہ ستمبر 2018 میں سوچی میں روس اور ترکی کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں شامل ہے۔ معاہدے میں ہتھیاروں سے پاک ایک سیف زون قائم کرنے پر اتفاق رائے کا اظہار کیا گیا ہے۔ معاہدے کی رُو سے بشار کی فوج اور مسلح گروپوں کے زیر کنٹرول علاقوں کو علاحدہ کر دیا جانا ہے۔ معاہدہ اس بات کا بھی متقاضی ہے کہ مسلح گروپ علاقے سے اپنے بھاری اور درمیانے ہتھیار ہٹا لیں گے اور متعلقہ علاقوں سے شدت پسند گروپوں کا انخلا عمل میں آ ئے گا۔ تاہم اس معاہدے پر عمل درامد نہ ہو سکا۔

مذکورہ معاہدہ نسبتا سکون اور خاموشی کا ذریعے بن گیا تھا۔ بعد ازاں رواں سال اپریل میں شامی حکومت نے اپریل کے اواخر سے ایک بار پھر جارحیت کا آغاز کر دیا اور کچھ عرصے بعد روس بھی اس سے آ ملا۔المرصد کے مطابق اس دوران 816 شہری جاں بحق ہوئے۔ اسی طرح اپوزیشن کے مسلح گروپوں سے تعلق رکھنے والے 1200 سے زیادہ جنگجو ہلاک ہوئے۔ اس کے مقابلے میں شامی فورسز اور اس کے ہمنوا مسلح گروہوں سے تعلق رکھنے والے 1100 سے زیادہ افراد مارے گئے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس جارحیت نے شمال مغربی شام میں 4 لاکھ سے زیادہ افراد کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔بشار حکومت نے رواں ماہ کے آغاز پر فائر بندی کے حوالے سے اپنی موافقت کا اعلان کیا تھا۔ یہ فائر بندی چار روز کے قریب جاری رہی ، اس کے بعد حکومت نے اپنی عسکری کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ شامی حکومت نے اپوزیشن گروپوں پر الزام عائد کیا کہ وہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور انہوں نے ساحلی صوبے لاذقیہ میں حمیمیم کے فضائی اڈے کو نشانہ بھی بنایا ہے۔ روسی فوج نے اس اڈے کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنایا ہوا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب

Share this on WhatsAppنیویارک: مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے