شمالی شام میں حرکت میں نہ آئے تو بھاری قیمت چکانا پڑے گی : ایردوآن

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ اگر ان کا ملک شمالی شام میں حرکت میں نہ آیا تو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ انقرہ سے اپنے ٹیلی وژن خطاب میں ایردوآن کا کہنا تھا کہ ان کا ملک شمالی شام میں امریکا کی حمایت یافتہ تنظیم "کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس” کا بہت جلد خاتمہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے کیوں کہ یہ تنظیم ترکی کے لیے خطرہ ہے۔ ترکی کے ایوان صدر نے ٹویٹر پر سرکاری اکاؤنٹ کے ذریعے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ایردوآن نے اپنی گفتگو میں اس جانب اشارہ کیا ہے کہ ترکی کے امن کا مطلب نیٹو اتحاد اور پورے خطے کا امن ہے۔ ویب سائٹ نے ایردوآن کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس بات کی کوئی ٹھوس دلیل نہیں کہ S-400 دفاعی میزائل نظام کسی طور بھی نیٹو اتحاد اور F-35 طیاروں کو نقصان پہنچائے گا … اور مغرب کے ساتھ ترکی کے تعلق کو S-400 میزائل نظام کے دائرہ کار میں مقید کرنا ایک بڑی غلطی ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے 4 اگست کو اعلان کیا تھا کہ ترکی ،،، شمالی شام میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے زیر کنٹرول علاقے میں مشرقی فرات کا آپریشن کرے گا۔ ایردوآن کے مطابق انہوں نے روس اور امریکا کو اس آپریشن کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا ہے کہ شمالی شام میں ترکی کا کوئی بھی آپریشن "قابل قبول” نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن فرات کے مشرق میں آپریشن کے حوالے سے انقرہ کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی امید رکھتا ہے۔ منگل کے روز جاپان کے دورے میں اپنے ہمراہ موجود صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایسپر نے کہا کہ "اُن کی جانب سے یک طرفہ طور حرکت میں آنے کا کوئی بھی اقدام ہمارے لیے ناقابل قبول ہو گا … ہم ایسی کسی بھی فوجی مداخلت کو روک دیں گے جو شمالی شام میں امریکا، ترکی اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے مشترکہ مفاد پر اثر انداز ہو”۔

گذشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی شام سے امریکی افواج نکال لینے کے ارادے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے نیٹو اتحاد کے دونوں ممالک ترکی اور امریکا اس بات پر متفق ہیں کہ شام کے اندر ترکی کے ساتھ شمال مشرقی سرحد پر ایک سیف زون کا قیام عمل میں لایا جائے اور یہ علاقہ کرد یونٹوں کے وجود سے خالی ہو۔کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس داعش تنظیم کے خلاف معرکہ آرائی میں شام کی سرزمین پر واشنگٹن کے مرکزی حلیف رہے ہیں۔ تاہم ترکی انہیں ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب

Share this on WhatsAppنیویارک: مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے