داعش 30 کروڑڈالر کے مالک،عراق اور شام میں دوبارہ منظم ہورہے ہیں: گوٹیریس

لندن :سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے پاس عراق اور شام میں نام نہاد ’’خلافت‘‘ کھوجانے کے باوجود 30 کروڑ ڈالر کی نقد رقم اور اثاثے موجود ہیں مگر اس کےپاس اب مستقل مالی ذرائع یا زیر قبضہ علاقہ نہیں رہا ہے۔البتہ اس جنگجوگروپ کے حملوں میں حالیہ وقفہ عارضی ثابت ہوسکتا ہے۔ اس بات کا انکشاف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔ اس میں داعش سےدرپیش خطرے کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے گذشتہ ہفتے ایک اور رپورٹ میں کہا تھا کہ داعش کے لیڈر عراق اور شام میں اپنے سابق زیر قبضہ علاقوں میں دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔

اس نئی رپورٹ میں بھی یہ کہا گیا ہے کہ داعش کے حملوں میں موجودہ وقفہ شاید زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہے گا اور ممکنہ طور پر یہ 2019ء کے اختتام تک جاری نہیں رہے گا اور وہ ازسر نو حملے کرسکتے ہیں۔ انتونیو گوٹیریس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ داعش اپنے زیر قبضہ علاقوں کے چھن جانے کے بعد تیل کے کنووں اور مقامی افراد سے حاصل ہونے والی آمدن سے محروم چکے ہیں لیکن وہ عراق اور شام اور ان دونوں ملکوں سے باہر دہشت
گردی کی کارروائیوں کے لیے رقوم اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔انھوں نے رقوم کی ترسیل کے لیے ایک غیر روایتی طریق کار اپنا رکھا ہے اور یہ ’حوالہ داری‘ کہلاتا ہے۔

انھوں نے رپورٹ میں کہا ہے کہ عراق سے لوٹے گئے نوادرات داعش کی آمدن کا ایک اور ذریعہ ہوسکتے ہیں۔اس تنازع سے اپنے آبائی ممالک کو لوٹ جانے والے بعض افراد کا کہنا ہے کہ ان نوادر کی فروخت کے لیے داعش نے ایک خصوصی
یونٹ قائم کررکھا ہے۔ انھوں نےبتایا کہ ’’جن نوادر کی تجارت کی گئی اور جنھیں کہیں چھپایا یا محفوظ کیا گیا ہے،ان کی جگہوں کی تفصیل سے صرف داعش کے لیڈر ہی آگاہ ہیں‘‘۔البتہ سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ داعش اب مشرقِ اوسط ، افریقا اور ایشیا میں اپنے حامیوں اور وابستگان کے نیٹ ورک کے ذریعے مالی خود انحصاری کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عراق میں 2017ء سے داعش کا صوبائی سطح پر احیاء ہوا ہے اور وہ شام میں بھی اسی انداز میں از سرنو منظم ہورہے ہیں۔ اسد حکومت کی عمل داری والے علاقوں میں ان کے حملے بڑھ چکے ہیں۔داعش کی بعض سرکردہ شخصیات سمیت جنگجوؤں نے ان علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے جہاں اس وقت ان کی کارروائیاں جاری ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں داعش کی مزاحمتی سرگرمیوں کا مقصد حالات کو معمول پر آنے سے روکنا اور تعمیر نو کی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔وہ منجملہ دیگر سرگرمیوں کےعراق میں کھڑی فصلوں کو بھی اس امید میں نذر آتش کررہے ہیں کہ مقامی آبادی عراقی حکام کو اس کا مورد الزام ٹھہرائے گی۔ وہ عرب جمہوریہ شام میں بھی اسی قسم کی حکمت عملی کو بروئے
کار لاسکتے ہیں۔اس رپورٹ میں داعش کے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کی آبائی ممالک کو واپسی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور بعض ممالک کے تخمینوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اوسطاً پچیس فی صد غیرملکی جنگجو ہلاک ہوچکے
ہیں اور پندرہ فی صد کسی گنتی میں شمار نہیں ہوئے ہیں۔ یعنی ان کے بارے میں کچھ پتا نہیں کہ وہ ہلاک ہوچکے ہیں یا زندہ ہیں۔

رپورٹ میں ابتدائی اعداد وشمار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ چالیس ہزار کے لگ بھگ جنگجوؤں نے داعش کی خلافت میں شمولیت اختیار کی تھی۔ان کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ چوبیس ہزار سے تیس ہزار کے درمیان غیرملکی جنگجو ابھی تک زندہ ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر مشعل بیشلیٹ نے جون میں ایک بیان میں کہا تھا کہ شام اور عراق میں داعش کے پچپن ہزار جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان میں زیادہ تر عراقی حکومت یا امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے زیر حراست ہیں۔داعش کے جنگجوؤں کا پچاس سے زیادہ ممالک سے تعلق ہے۔گیارہ ہزار سے زیادہ جنگجوؤں اور ان کے رشتے داروں کو شام کے شمال مشرقی علاقے میں واقع الحول کیمپ میں رکھا جارہا ہے۔

سیکریٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ زیر حراست تربیت یافتہ بالغوں سے مختصر مدت اور کم سن بچوں سے درمیانی اور طویل مدت کے لیے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں کیونکہ انھیں ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج کیا جاسکتا ہے اور یہ بتدریج زیادہ سخت گیر بن سکتے ہیں۔انھیں پھر سماج میں مطابقت اور گھلنے ملنے میں مسائل لاحق ہوں گے۔ان سے تشدد کا ممکنہ خطرہ ہوسکتاہے اور وہ مستقبل میں دہشت گردی کے حملے بھی کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا نظام ان افراد ، خواتین اور بچوں کی بحالی کے لیےمتعلقہ ممالک کو مدد دینے کو تیار ہے، جو جنگ زدہ علاقوں میں بالخصوص پھنس کر رہ گئے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب

Share this on WhatsAppنیویارک: مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے