امریکا کی جانب سے روس کے لیے قرضوں اور برآمدات پر پابندیاں

امریکا نے روس پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدام سابق روسی جاسوس سرگئی اسکریپل کو 2018 میں برطانیہ کے شہر سالسبری میں زہر دیے جانے کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگاس نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ واشنگٹن بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے روس کو پیش کیے جانے والے کسی بھی قرضے یا تکنیکی معاونت کی مخالفت کرے گا۔ علاوہ ازیں ایسی قیود لگائی جائیں گی جو امریکی بینکوں کو روس کے ریاستی قرضوں کی فنڈنگ سے روک دیں گی۔

ترجمان کے مطابق واشنگٹن روس کو ساز و سامان اور ٹکنالوجی کی برآمد پر بھی قدغن عائد کرے گا۔

یہ اقدامات 1991 کے ایک امریکی قانون کے تحت کیے گئے ہیں۔ یہ قانون کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے خاتمے سے متعلق ہے۔ حالیہ اقدامات امریکی کانگرس کو آگاہ کرنے کے بعد 19 اگست کے قریب نافذ العمل ہوں گے۔

روسی انٹیلی جنس کے عناصر پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ رواں سال مارچ میں برطانیہ میں سرگئی اسکریپل اور اس کی بیٹی کو اعصابی گیس نوویچوک کے ذریعے زہر دینے کے ذمے دار ہیں۔ یہ گیس سوویت یونین کے دور میں تیار کی گئی تھی۔

سالسبری میں ہونے والا یہ حملہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعے کیا جانے والا پہلا حملہ ہے۔ اس کارروائی نے بین الاقوامی سطح پر غصے کی لہر دوڑا دی اور اس کے باعث متعدد مغربی ملکوں سے روسی سفارت کاروں کو نکال دیا گیا۔

ماسکو زہر دیے جانے کی اس کارروائی میں اپنے کسی بھی کردار کی تردید کر چکا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

ولادی میر پیوٹن 2036 تک روس کے صدر منتخب

Share this on WhatsAppبی بی سی ریکارڈ لندن نیوز؛ ماسکو روس کے عوام نے ولادی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے