ہندوستان کی سالمیت آخری ہچکیوں میں‌ : دانشوروں اور مشہور شخصیات میں ٹکڑاؤ،

راوندر کمار
بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ( نئی دہلی )

مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت میں ہندوستان کی سا لمیت انتہائی نازک موڑ پر آگئی ہے – ماب لنچنگ کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کے لئے شرپسندوں نے ایک نیا حیلہ اور بہانہ ڈھونڈ لیا ہے – شرپسندوں کی جانب سے اٹھائے گئے غلط اقدامات پر ملک کے وزیر اعظم سے شکایت کرنا جو کبھی جمہوریت کا اہم حصہ ہوتاتھا وہ اب جرم بن گیا ہے – حق کی آواز بلند کرنے والوں کے خلاف اگر اسی طرح کا رویہ اپنایا گیا تو ایسے لوگوں کے حوصلے پست ہوجائیں گے اور انتہاپسندوں اورشرپسندوں کے حوصلے بلند ہوجائیں گے

پھر ہندوستان میں ایک ایسا وقت آئے گا جہاں مظالم تو ہوں گے لیکن اس پر قابو پانا ناممکن ہوجائے گا کیونکہ شدت پسندی اور نفرت کی آگ مذہب پوچھ کر نہیں جلاتی-ملک میں ہجومی تشدد اور ’جے شری رام‘ کے بہانے تشدد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے گزشتہ دنوں 49 شخصیات نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا تھا-اس کے تین دن بعد جمعہ کو62 شخصیات نے جواب میں انہیں کھلاخط لکھا-خط کی مخالفت کرنے والوں میں کنگنا رانوت، پرسون جوشی اور مدھر بھنڈارکر بھی شامل ہیں -ان کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ منظم طریقے سے حکومت کے خلاف غصہ ظاہر کرتے ہیں -اس مخالفت کا مقصد صرف جمہوری اقدار کو بدنام کرنا ہے-انہوں نے پوچھا کہ جب نکسلی قبائلیوں اور پسماندہ لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں پھر وہ کیوں خاموش رہتے ہیں؟-جوابی خط میں لکھا ہے کہ ملک کے49خود ساختہ ذمہ داروں اور دانشوروں نے جمہوری اقدار کو لے کر پھر سے منتخب طور پر تشویش ظاہرکی-اس سے صاف طور پر ان کا سیاسی رجحان سامنے آ گیا ہے-

انہوں نے اپنے خط میں جھوٹے الزام لگائے اور جمہوریت کو بدنام کرنے کے لئے سوال اٹھائے-کھلا خط لکھنے والی شخصیات میں اداکارہ کنگنا رانوت، نغمہ نگار اور سینسر بورڈ چیئرمین پرسون جوشی، کلاسیکل رقاصہ اور ایم پی سونل مان سنگھ، نواز پنڈت وشوموہن بھٹ، فلم ساز مدھر بھنڈارکر، وویک اوبرائے اور وویک اگنی ہوتری شامل ہیں -ملک میں قبائلی اور پسماندہ موجود لوگوں کو نشانہ بنانے، کشمیر میں علاحدگی پسندوں کی طرف سے اسکول جلانے، نامی یونیورسٹی میں دہشت گردوں کی حمایت میں ہندوستان کے ٹکڑے ٹکڑے کے نعرے لگنے پر دانشوروں کی خاموشی کیوں برقرار رہتی ہے؟-اس کے خلاف مزاحمت بین الاقوامی سطح پر ملک کی تصویر، وزیر اعظم کے کام کاج کے کارگر طریقے، قومیت اور انسانیت کے خلاف ہے، جو ہندوستانیت کی اقدار میں شامل ہے-آئین نے ہمیں اختلاف جتانے کا حق دیا ہے، نہ کہ ہندوستان کو توڑنے کی کوشش کرنے کا،لوگوں کا یہ گروپ خواتین کو برابری کا حق دلانے اور تین طلاق کے حق میں کبھی کھڑا نہیں ہوا-ایسا لگتا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کے سامنے احتجاج کرنے والوں کے لئے ملک کے اتحاد اور سا لمیت کے کوئی معنی نہیں ہیں -نظریاتی طور پر ان کا علاحدگی پسندوں، دراندازوں اور دہشت گردوں کی حمایت کا ریکارڈ رہا ہے،اس لیے ان کے اندر مخالفت کا جذبہ ہے،جبکہ مودی حکومت سب کا ساتھ سب کا وکاس کے منتر کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور وزیر اعظم خودہجومی تشدد کے واقعات پر تنقید کر چکے ہیں

-23جولائی کو وزیر اعظم مودی کو خط لکھنے والی49شخصیات میں مؤرخ رام چندر گہا، اداکارہ کونکنا سین شرما، فلمساز شیام بینیگل، انوراگ کشیپ اور منی رتنم سمیت مختلف علاقوں کی ہستیاں شامل تھیں -انہوں نے لکھاکہ مسلمانوں، دلتوں اور دیگر اقلیتوں پر ہو رہے ہجومی تشددپر فوری روک لگنی چاہئے-نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آربی) کی رپورٹ کے مطابق2016میں دلتوں کے خلاف ظلم و ستم کے840واقعات ہوئے لیکن ان مقدمات کے قصورواروں کو ملنے والی سزا کا فیصد کم ہوا-پہلے کے جوابی خط میں اداکارہ کنگنا رنوت نے کہاکہ کچھ لوگ اپنی مقبولیت کا غلط استعمال کر رہے ہیں تاکہ لوگوں تک ایسا پیغام پہنچایا جائے کہ اس حکومت میں سب کچھ غلط ہو رہا ہے -یہ حقیقت سے برعکس ہے جبکہ ایسا پہلی بارنظر آ رہا ہے کہ چیزیں صحیح سمت میں ہیں -ہم ایک بڑی تبدیلی کا حصہ ہیں -ملک کی بہتری کے لئے چیزیں بدل رہی ہیں جس کی وجہ سے کچھ لوگ بے چین ہیں -وہیں فلم ڈائریکٹر مدھور بھنڈارکار نے کہاکہ جب لوگوں کو جے شری رام کہنے کے لئے جیل میں ڈالا جاتا ہے یا پھر جب دہلی کے اندر مندر پر حملہ کیا جاتا ہے، تب یہ لوگ (جنہوں نے وزیراعظم مودی کو خط لکھا ہے) خاموشی اختیار کرلیتے ہیں اور ان کے خط کو دیکھ کر ایسا احساس ہوتا ہے کہ ان میں ایک الگ طرح کی ناراضی ہے -خط میں شامل

ایک نے مودی سے پوچھا تھاکہ ماب لنچنگ کے واقعات میں شامل ملزموں کے خلاف کیا ٹھوس کارروائی کی گئی ہے -انہوں نے مودی سے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد کی ضمانت نہیں ہونی چاہئے – لوگوں کا قتل کرنے والوں کو بغیر کسی مقدمے کے عمر قید کی سزا ہونی چاہیے – قصورواروں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے – خط میں مودی سے کہا گیا ہے کہ آج ملک میں مذہب کے نام پر کچھ نہ کچھ ضرور ہو رہا ہے -ماب لنچنگ کے واقعات پر پارلیمنٹ میں صرف مذمت سے کام نہیں چلے گا- انہیں روکنے کے لئے مرکزی حکومت کو سخت اقدامات کرنے ہوں گے –

About BBC RECORD

Check Also

سعودی عرب سے افغانستان منتقل ہونے والا طالبان کمانڈر گرفتار

Share this on WhatsAppکابل؛ تحریک طالبان اور سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک کے درمیان ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے