متنازع فلم کے الزامات میں ذرا برابر سچائی ہوتی تو عہدہ چھوڑ دیتا: جواد ظریف

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظرف نے ایرانی تخت میں زلزلہ برپا کرنے والی متنازع فلم ‘غانڈو’ میں لگے الزامات میں اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے فلم ‘غانڈو’ میں لگائے گئے الزامات کوبے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا۔ انہوں نے اپنی صفائی بیان کرتے ہوئے لکھا ہےکہ اگر فلم میں بیان کردہ موقف میں ذرا برابر بھی سچائی ہوتی تو میں وزارت خارجہ کا قلم دان چھوڑ دیتا۔

ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ جواد ظریف سمیت کئی دوسری اہم حکومتی شخصیات فلم غانڈو ریلیز ہونےکے بعد پریشان ہیں اور اپنی صفائی بیان کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سپریم لیڈر کو لکھے گئے مکتوب میں وزیرخارجہ نےکہا کہ مذکورہ فلم میں بیان کردہ باتیں من گھڑت ہیں۔

خیال رہے کہ ایرانی فلمی سیریز ‘غانڈو’ْ حال ہی میں ریلیز کی گئی تھی۔ اس فلم میں ایران میں جاسوسی کے معاملے اور حکومت میں گھٹیا کردار ادا کرنے والے عناصر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

ایران انٹرنیشنل کے مطابق فلم غانڈو میں بیان کردہ واقعات پر وزیر خارجہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اس فلم نے ایرانی سیاسی حلقوں بالخصوص اصلاح پسندوں کی طرف سے حکومت پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

ایران کے علی لاریجانی خاندان کے ایک قریب ذرائع کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے جواد ظریف کو جوابی مکتوب میں لکھا ہے کہ ‘میں آپ کی شان میں کسی قسم کی توہین اور گستاخی پر خوش نہیں اور نہ ہی اس طرح کے الزامات کی کسی کو اجازت دی جا سکتی ہے۔

قبل ازیں وزیر خارجہ جواد ظریف نے لکھا تھا کہ ہمارے پاس پروپیگنڈہ فلم بنانے کے لیے اتنا فالتو پیسہ نہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

امریکی وزارت خزانہ حزب اللہ کی مقرب شخصیات پر پابندیاں عائد کر رہی ہے

Share this on WhatsAppامریکی وزارت خزانہ اُن لبنانیوں پر پابندیاں عائد کر دے گی جن ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے