حوثی ملیشیا کے ہاتھوں اقوام متحدہ کی 23 ٹن غذائی امداد تلف اور نذرِ آتش

یمن میں آئینی حکومت کے زیر انتظام ہائی ریلیف کمیٹی کے مطابق حوثی ملیشیا نے 8 ٹن گندم کو جلا دیا ہے۔ یہ گندم عالمی خوراک پروگرام کے ذریعے شمالی صوبے ریمہ کے متعدد مستحقین کے واسطے پیش کی گئی تھی۔

کمیٹی نے ہفتے کے روز جاری بیان میں بتایا کہ باغی ملیشیا نے عالمی خوراک پروگرام کو ریمہ صوبے کے بعض علاقوں میں امداد تقسیم کرنے سے روک دیا۔ اس کے نتیجے میں 14.8 میٹرک ٹن گندم خراب ہو کر برباد ہو گئی۔ اس کے علاوہ صوبے میں حوثیوں کے نگراں عناصر نے مذکورہ پروگرام کے ایک گودام پر دھاوا بول کر وہاں موجود امداد کو آگ لگا دی۔

یمنی ہائی ریلیف کمیٹی نے انسانی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے رابطہ کار مارک لوکک اور یمن میں انسانی امور کی رابطہ کار لیزا گرینڈی سے فوری مداخلت اور ان واقعات کی تحقیقات اور اس کی رپورٹ سلامتی کونسل میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کمیٹی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ سنجیدہ اور ٹھوس مواقف اختیار کر کے امدادی کارروائیوں کے خلاف ایران نواز باغی حوثی ملیشیا کی سنگین خلاف ورزیوں پر روک لگائے۔ اسی طرح کمیٹی نے باور کرایا ہے کہ امداد کو مستحقین تک پہنچانے اور حوثی ملیشیا کے ہاتھوں لُوٹے جانے سے بچانے کو یقینی بنانے کے واسطے اقدامات کیے جائیں۔

حوثی ملیشیا کی جانب سے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں امدادی کام کے خلاف کارستانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی خوراک پروگرام نے دارالحکومت صنعاء میں امداد پیش کیے جانے کا عمل جزوی طور پر معلق کر دیا ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کی رپورٹوں میں حوثی ملیشیا پر غذائی امداد چوری کرنے اور اسے مارکیٹ میں فروخت کر دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے یمن میں انسانی بحران کو "دنیا بھر میں بدترین” قرار دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی تنظیم نے تصدیق کی ہے کہ 2.4 کروڑ یمنیوں یعنی 80 فی صد سے زیادہ آبادی کو کسی نہ کسی صورت میں انسانی امداد اور فوری تحفظ کی ضرورت ہے۔ ان میں 84 لاکھ افراد یہ نہیں جانتے کہ وہ اگلے وقت کی روٹی کس طرح حاصل کر پائیں گے جب کہ تقریبا 20 لاکھ بچے خوراک کی شدید قلت کا شکار ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

کابل گوردوارے میں قتل عام کرنے والا بھارتی شہری تھا، انڈین اخبار کا انکشاف

Share this on WhatsAppنسیم غنی بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ؛کراچی معروف بھارتی اخبار ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے