لیبیا :خلیفہ حفتر کی فوج کے فضائی حملے کا ہدف حراستی مرکز میں اسلحہ ڈپو تھا؟

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں حال ہی میں تارکین وطن کے لیے قائم کردہ مرکز تاجورا پر مشرقی کمانڈر فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی قومی فوج ( ایل این اے) کے فضائی حملے کے بارے میں نئی تفصیل منظر عام پر آئی ہے اور یہ پتا چلا ہے کہ یہ مرکز قومی اتحاد کی حکومت کے تحت ملیشیا کے بھاری ہتھیاروں کے ڈپو اور عورتوں کی اسمگلنگ کے لیے بھی استعمال ہورہا تھا۔

تاجورا حراستی مرکز پر خلیفہ حفتر کی فوج کے فضائی حملے میں 53 افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے تھے۔لیبیا میں اقوام متحدہ کے ایک مقامی ملازم نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ’’تاجورا اور اس کے نزدیک واقع السابعہ حراستی مرکز قومی اتحاد کی حکومت کے وزیراعظم فائز السراج کی وفادار فورسز کے زیر استعمال تھے اور انھوں نے وہاں طیارہ شکن گولہ بارود ، میزائل نظام اور دوسرے ہتھیار ذخیرہ کررکھے تھے‘‘۔

اس کارکن نے العربیہ کو بتایا ہے کہ ’’ ہم فضائی حملے کے بعد ان حراستی مراکز میں انسانی امداد مہیا کرنے کے لیے گئے تھے۔امدادی ٹیم نے تاجورا اور السابعہ میں ذخیرہ کیے گئے ہتھیاروں کو دیکھا تھا اور اپریل میں جنگ کے آغاز کے وقت سے انھیں وہاں رکھا گیا تھا۔ اس ذریعے نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ یہ حراستی مراکز جی این اے کے نزدیک شمار کی جانے والی ملیشیاؤں کے زیر اہتمام تھے۔

انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ’’خود ساختہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی فوج کی اپریل میں دارالحکومت طرابلس پر چڑھائی کے بعد سے انسانی اسمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے اور یہ حراستی مراکز لیبیا میں قحبہ گری کے مکروہ دھندے کے فروغ کا ذریعہ بھی بنے ہیں کیونکہ وہاں آنے والے تارکین وطن ِکو ’جنسی جنس ‘ کے طور پر آگے فروخت کردیا جاتا رہا ہے اور ہم یہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے دیکھتے رہے ہیں‘‘ ۔

قبل ازیں خلیفہ حفتر کی لیبی قومی فوج نے ان دونوں حراستی مراکز پر بمباری کے بعد یہ موقف اختیار تھا کہ ایل این اے نے تارکینِ وطن کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کیا تھا ۔ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق ایک ہی احاطے میں واقع دو مختلف عمارتوں کو دو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔تاہم ان حملوں کا ہدف اسلحہ ڈپو کے بجائے تارکینِ وطن بن گئے تھے۔

اقوام متحدہ کے اہل کار کا کہنا ہے کہ ان حراستی مراکز میں اسلحہ کی موجودگی خلیفہ حفتر کی فوج کو فضائی حملے اور اس میں بے گناہ افراد کی ہلاکت سے بری الذمہ قرار نہیں دلوا دیتی ۔وہ اس انسانی المیے اور فضائی حملے میں انسانی جانوں کے ضیاع کی ذمے دار ہے کیونکہ ایل این اے کے طیاروں نے کیمپ کے اس حصے پر بمباری نہیں کی تھی جہاں اسلحہ ذخیرہ کیا گیا تھا بلکہ اس جگہ کو نشانہ بنایا تھا جہاں تارکینِ وطن کو رکھا گیا تھا۔

واضح رہے کہ لیبیا میں قائم کیے گئے ان حراستی مراکز میں غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کے خواہاں افریقی تارکین وطن کو رکھا جاتا ہے اور پھر ان کی چھان بین کے بعد انھیں ان کے آبائی ممالک کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ان میں زیادہ تر کا تعلق سب صحارا افریقا سے ہوتا ہے۔

یورپی یونین اور دوسرے بین الاقوامی ادارے ان متنازعہ حراستی مراکز کے لیے کروڑوں ڈالر مالیت کی لیبیا کو مدد مہیا کرچکے ہیں تاکہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو لیبیا ہی میں روکا جاسکے اور ان کی چھوٹے جہازوں یا کشتیوں کے ذریعے یورپ جانے کی کوششوں کو ناکام بنایا جاسکے ۔

لیبیا میں ایسے 26 مراکز قائم ہیں جہاں پندرہ ہزار سے زیادہ تارکین وطن کو رکھا جارہا ہے۔ان کوششوں کے باوجود بہت سے تارکین وطن اسمگلروں کی شکستہ کشتیوں کے ذریعے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ دشوار گذار سمندری سفر کے دوران ہی میں حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں۔گذشتہ ہفتے لیبیا کے علاقے زووارا سے روانہ ہونے والی ایک کشتی تیونس کے ساحلی علاقے میں ڈوب گئی تھی جس کے نتیجے میں 80 افراد مارے گئے تھے۔

About BBC RECORD

Check Also

مودی نے کوئی جارحیت کی تو اختتام اس کے ہاتھ میں نہیں ہوگا، صدر آزادکشمیر

Share this on WhatsAppآزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے