ایران جوہری سمجھوتے میں طے شدہ افزودہ یورینیم کی حد سے بہت آگے چلا گیا: آئی اے ای اے

ایران چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کی شرائط کی خلاف ورزی میں بہت آگے چلا گیا ہے اور اس نے 3.67 فی صد کی خالص حد سے بالائی سطح کی افزودہ یورینیم تیار کرلی ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے تحت ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے ( آئی اے ای اے)نے سوموار کو ایک بیان میں کہی ہے اور اس نے ایران کی جانب سے یورینیم کو پانچ فی صد تک افزودہ کرنے کے اعلان کی بھی تصدیق کردی ہے۔

ادارے کے ترجمان نے کہا کہ ’’ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکی یا امانو نے بورڈ آف آف گورنر کو ایران میں ادارے کے معائنہ کاروں کی ایک رپورٹ سے آگاہ کیا ہے جس میں انھوں نے آٹھ جولائی کو اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے جوہری سمجھوتے کے تحت مقررہ 3.67 فی صد کی حد سے زیادہ سطح کی افزودہ یورینیم تیار کرنا شروع کردی ہے‘‘۔

ایجنسی کے رکن ممالک کو اس ضمن میں ایک رپورٹ بھی بھیجی گئی ہے۔اس میں افزودہ یورینیم کی سطح کی تصدیق کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ افزودہ یورینیم کی جانچ کے لیے آن لائن مانیٹر استعمال کیے گئے ہیں۔ نیز ایرانی تنصیب سے سوموار کو تجزیے کے لیے نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔

About BBC RECORD

Check Also

حشد الشعبی امریکہ کے کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کے لئے تیار ہے

Share this on WhatsAppعراق کی رضاکار فورس الحشد الشعبی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے