دہشت گردوں پر چند گھنٹوں میں قابو نہیں پایا جا سکتا: جنرل خلیفہ حفتر

لیبی فوج کے جنرل خلیفہ حفتر نے باور کرایا ہے کہ دارالحکومت طرابلس کی جانب پیش قدمی میں کسی مخصوص ٹھکانے پر نہیں بلکہ ایک جامع فوجی آپریشن پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے غریان شہر سے "انخلاء” کے طرابلس میں فوجی آپریشن پر اثر انداز ہونے کی تردید کی۔ حفتر کا یہ موقف امریکی نیوز ایجنسی بلومبرگ کے ساتھ انٹرویو میں سامنے آیا۔

حفتر نے اس امر کی بھی تردید کی کہ ان کی وفادار فوج نے کسی بھی قسم کا امریکی اسلحہ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طرابلس کے معرکے میں ہر چیز سے مقدّم شہریوں اور ان کی املاک کی سلامتی ہے۔خلیفہ حفتر کے مطابق دہشت گرد قوتوں پر قابو پانے کا عمل چند گھنٹوں میں نہیں ہو گا۔خلیفہ حفتر نے متعدد ممالک پر الزام عائد کیا کہ وہ لیبیا میں دہشت گرد ملیشیاؤں کی سپورٹ کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک اس سلسلے میں نوجوانوں کو مال کا لالچ دے کر بھرتی کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل جنرل خلیفہ حفتر کے زیر کمان لیبیائی فوج کے تازہ دم نئے فوجی دستے جمعے کی شام طرابلس بھجوا دیے گئے ہیں۔ یہ بریگیڈز دارالحکومت کو آزاد کرانے کے لیے جاری آپریشن کے دوسرے مرحلے میں شرکت کریں گے۔

لیبیا کی فوج کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ فورسز کی نقل وحرکت جنرل خلیفہ حفتر کی ہدایات پر عمل میں آئی ہے۔ یہ لڑائی میں شرکت کی غرض سے بھجوائی جانے والی دوسری عسکری کمک ہے۔ اس مرحلے کی قیادت بن غازی اور درنہ کو آزاد کرانے کے معرکوں میں شریک بریگیڈز کریں گے جو دہشت گرد جماعتوں سے نمٹنے کے حوالے سے لڑائی کا بڑا تجربہ رکھتے ہیں۔

فوج کی کمان کے میڈیا بیورو نے ایک وڈیو جاری کی ہے جس میں ان عسکری بریگیڈز کی اپنے تمام تر ساز وسامان، افراد اور گاڑیوں کے ساتھ مغربی ریجن کی جانب حرکت کرتے دکھایا گیا۔

About BBC RECORD

Check Also

ترکی کو F 35 امریکی طیاروں کی فروخت بند، ترک ہواباز بیدخل

Share this on WhatsAppامریکا نے کہا ہے کہ وہ ترکی کو ایف – 35 طرز ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے