بھارت میں مسلم نوجوان پر تشدد زبردستی جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے بھی لگوائے: آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین

نئی دہلی: جھارکھنڈ میں ایک مسلم نوجوان کوجنونی ہجوم نے پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔اس دوران اس سے زبردستی جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے بھی لگوائے گئے۔اس واقعہ کے بعد آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر نشانہ سادھا۔اسدالدین اویسی نے کہا کہ ماب لنچنگ کے واقعات نہیں رک سکتے

کیونکہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے لوگوں کے دماغ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا جذبہ بڑھا دیا ہے۔ لوگوں کے دماغ میں یہ بات کامیابی سے بیٹھا دی گئی ہے کہ مسلم دہشت گرد، غدار اور گوکش ہوتے ہیں۔اویسی پہلے بھی اس معاملے میں بی جے پی، نریندر مودی اور آر ایس ایس پر نشانہ لگاتے رہے ہیں۔ابھی حال ہی میں انہوں نے کہا کہ پیٹ پیٹ کر قتل (ماب لنچنگ) وزیر اعظم نریندر مودی کی وراثت ہے۔مودی کوہندوستانی تاریخ میں ماب لنچنگ کے لئے یاد رکھا جائے گا، کیونکہ ان کے دور اقتدار میں اس طرح کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے ہیں۔آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ نے میڈیا سے کہاکہ یہ واقعات ہمیشہ مودی کو ڈرائیں گے، کیونکہ وزیر اعظم کے طور پر وہ اسے روک نہیں سکے۔ہجومی تشدد کا یہ واقعہ جھارکھنڈ کے کھرساوا کاہے۔چوری کے شک میں لوگوں نے ایک نوجوان کو گھیر لیا اور پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا۔پولیس جائے وقوعہ پر 18 گھنٹے بعد پہنچی، اس سے پہلے ہی بھیڑ نے اسے پیٹ کر لہولہان کر دیا

،بعد میں اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا لیکن اس کی موت ہوگئی،نوجوان کا نام تبریز انصاری ہے جس کی عمر 24 سال تھی۔پولیس نے اس معاملے میں کارروائی شروع کر دی ہے اور پپو منڈل نامی ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔تبریز انصاری مہاراشٹر کے پونے میں ویلڈنگ کا کام کرتا تھا اور عید پر چھٹی منانے گھر آیاتھا۔اس کی شادی کی تیاری چل رہی تھی لیکن اس کے پہلے ہی یہ دردناک واقعہ ہو گیا۔اس واقعہ پر جھارکھنڈ کے وزیر سی پی سنگھ کا بھی بیان آیا ہے۔انہوں نے کہاکہ آج کل ایسے واقعات کو بی جے پی، آر ایس ایس اور وی ایچ پی سے جوڑنا گردش ہو گیا ہے،آج کا دور کٹ اور پیسٹ کا ہے،کون کس لفظ کے لئے فٹ بیٹھے گا یہ کہنا مشکل ہے۔حکومت اس واقعے کی تحقیقات کرائے گی۔ایسے واقعات پر سیاست کرنا غلط ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

چینی قرضوں میں دبے جنوبی ایشیائی ممالک کی نظریں بھارت کی جانب

Share this on WhatsAppسری لنکا اور مالدیپ جیسے جنوبی ایشیائی ممالک نے گزشتہ دہائی کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے