حزب اللہ کی جانب سے حوثیوں کے میڈیا کو حاصل لوجسٹک سپورٹ

لبنانی تنظیم حزب اللہ کی جانب سے حوثی ملیشیا کی سپورٹ تجربے، جنگجوؤں اور تربیت کاروں کے حوالے سے لوجسٹک سپورٹ تک محدود نہیں بلکہ شیعہ ملیشیا نے بیروت کے جنوبی نواحی علاقے ضاحیہ میں اپنے گڑھ کو حوثیوں کے واسطے "میڈیا فورٹ” میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس کا مقصد ذرائع ابلاغ کے ذریعے یمن میں حوثیوں کو سپورٹ کرنا اور آئینی حکومت کی سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کو نکتہ چینی کا نشانہ بنانا ہے۔

ستمبر 2014 میں صنعاء پر حوثی ملیشیا کے قبضے کے بعد سے حوثیوں کے ذرائع ابلاغ اور میڈیا مہم پر لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی چھاپ واضح طور پر نظر آتی ہے۔ حزب اللہ نے حوثی ملیشیا کے دو اہم ترین چینلوں "المسيرة” اور "الساحات” کے علاوہ دیگر نیوز چینلوں اور ویب سائٹوں کا میکانزم بھی سنبھال رکھا ہے۔

حوثی میڈیا اپنے مواد کو مذہبی رنگ دے کر پیش کرتا ہے اور امریکی اسرائیلی سازشوں اور "عرب گٹھ جوڑ” کے متعلق بات کرنے سے کسی طور نہیں رکتا۔
سال 2011 میں حوثی ملیشیا نے اپنے سرکاری میڈیا کے طور پر "المسيرہ” چینل قائم کیا۔ اس کی نشریات بیروت کے جنوبی نواحی علاقے ضاحیہ سے پیش کی جاتی ہیں۔ چینل میں کام کرنے والوں میں اکثریت لبنانیوں کی ہے تاہم اس کی فنڈنگ یمنی شخصیات کی جانب سے ہوتی ہے۔ چینل کو تکنیکی سپورٹ حزب اللہ کے المنار ٹی وی کے سیٹلائٹ سے ملتی ہے۔

دو برس بعد جولائی 2013 میں حوثیوں نے لبنانی دارالحکومت سے ہی "الساحات” کے نام سے ایک اور نیوز چینل کا آغاز کیا۔ چینل کو اپنے آغاز کے بعد سے ہی بدعنوانی کے الزامات کا سامنا رہا۔ اس کے نتیجے میں بہت سے ڈائریکٹرز اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے۔

معلومات کے مطابق الساحات سیٹلائٹ چینل کا نگرانِ عام حزب اللہ کا زمینی کمانڈر ناصر اخضر ہے۔ یہ چینل بیروت کے جنوبی علاقے ضاحیہ میں واقع ایک لبنانی کمپنی "الساحات” کے زیر انتظام ہے۔ یہ کمپنی ایڈوکیٹ ابراہیم خلیل کے نام پر رجسٹرڈ ہے جو حزب اللہ کے چینل المنار ٹی وی سے منسلک وکلاء کی ٹیم سے منسلک ہیں۔حزب اللہ تنظیم حوثیوں کے میڈیا سیکٹر بالخصوصی "حربی ذرائع ابلاغ” میں کام کرنے والوں کو خصوصی کورسز کے ذریعے تربیت بھی فراہم کرتی ہے۔ حربی ذرائع ابلاغ کی اصطلاح ایرانی ہے جو وہ عسکری ذرائع ابلاغ کے لیے استعمال کرتا ہے۔

ستمبر 2018 میں یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خطے میں تنازعات کے حوالے سے اپنائی گئی کنارہ کشی کی پالیسی پر کاربند رہے ،،، اور دہشت گرد حوثی ملیشیا کی تخریبی اور اشتعال انگیز سرگرمیوں پر روک لگانے کے لیے مداخلت کرے تا کہ حزب اللہ کی جانب سے سیاسی اور سیکورٹی ڈھال کا سلسلہ ختم ہو سکے۔ لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ المسیرہ اور الساحات ٹی وی چینلوں کی نشریات اور حوثیوں کی نیوز ویب سائٹوں کو روک دے۔

لبنان کی وزارت اطلاعات کے ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ مذکورہ حوثی چینلوں کو وزارت کی جانب سے لائسنس جاری نہیں کیے گئے۔لبنان میں آڈیو ویژوئل میڈیا کی نیشنل کونسل کے سربراہ عبدالہادی محفوظ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتکو کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں حوثیوں کے زیر انتظام یمنی چینلز ہماری کونسل کی نگرانی میں نہیں ہیں کیوں یہ "بیرونی میڈیا” ہے اور ان کو لائسنس کا اجرا ہمارے دائرہ کار میں نہیں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لبنان میں غیر ملکی میڈیا کو نمائندہ بیوروز کھولنے کا حق حاصل ہے مگر (نمائندہ بیورو) کی اصطلاح کی غلط طور پر تشریح کی گئی۔ اس کے نتیجے میں اختیارات میں مداخلت نے جنم لیا اور آج غیر ملکی میڈیا کو لبنان سے نشریات کے اجرا کی اجازت حاصل ہے۔

دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار لقمان سلیم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں کہا کہ یہ موقف ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ "اگر غیر ملکی میڈیا کو لائسنس کی ضرورت نہیں تو پھر شام میں اپوزیشن گروپوں کو اس بات کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی کہ وہ بیروت سے اپنی خبریں نشر کریں؟”۔ لقمان کے مطابق لائسنس کا اجرا بھی (حزب اللہ کی) پالیسی سے میل کھانے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔یمنیوں کے لیے ویزے کی شرط ختم کرنے کے فیصلے نے حوثیوں اور ان کے ہمنوا یمنیوں کا لبنان میں داخلہ آسان بنا دیا۔ معلومات کے مطابق یمنیوں کی ایک بڑی تعداد لبنان میں "دینی طلبہ” کی حیثیت سے داخل ہوتی ہے تا کہ لبنان میں دینی جامعات میں اپنا انداراج کروا لیں۔ اس طرح انہیں لبنان میں مستقل قیام کا حق مل جاتا ہے۔

About BBC RECORD

Check Also

ترکی کو F 35 امریکی طیاروں کی فروخت بند، ترک ہواباز بیدخل

Share this on WhatsAppامریکا نے کہا ہے کہ وہ ترکی کو ایف – 35 طرز ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے