ہیومن رائٹس واچ کی قطر میں الغفران قبیلے سے شہریت چھینے جانے کی مذمت

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ قطری حکام نے الغفران قبیلے کے گھرانوں سے جبری طور پر ان کی شہریت واپس لے لی، قبیلے کے بعض افراد کو 20 برس بعد شہریت کے بغیر چھوڑ دیا اور ان کو بنیادی حقوق سے محروم کر دیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی مشرق وسطی کی ڈائریکٹر لیما فقیہ نے تنظیم کی طرف سے موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ "قطری حکومت کو چاہیے کہ بغیر شہریت والے ان افراد کے دکھوں کا فوری مداوا کرے اور ان افراد کو قطری شہریت دینے اور واپس کرنے کے حوالے سے واضح اقدامات کرے”۔

شہریت نہ رکھنے والے الغفران قبیلے کے افراد روزگار، صحت، تعلیم، شادی، جائیداد، نقل و حرکت کی آزادی، بینک کھاتے کھولنے اور ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے حوالے سے اپنے حقوق سے محروم ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں جبری گرفتاری کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ قطر میں مقیم یہ افراد سرکاری ملازمتوں، غذائی امداد اور مفت صحت کی دیکھ بھال سے بھی محروم ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے قطر میں مقیم الغفران قبیلے کے 3 خاندانوں کے 9 افراد سے ملاقاتیں کیں۔ یہ تینوں خاندان قطری شہریت سے محروم ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میں مقیم ایک چوتھے خاندان کے فرد سے بھی بات چیت کی۔ ان تمام خاندانوں کے مجموعی طور پر 28 افراد قطری شہریت سے محروم ہیں۔ چار دیگر افراد نے جن میں سے دو قطر میں رہتے ہیں بتایا کہ انہوں نے قطری شہریت چھینے جانے کے 8 سے 10 برس بعد سعودی شہریت حاصل کر لی۔ ہیومن رائٹس سے ملاقات کرنے والے اکثر افراد نے انتقامی کارروائی کے خوف سے اپنی شناخت کو خفیہ رکھا۔ اس سلسلے میں رپورٹ میں تمام افراد کے فرضی نام استعمال کیے گئے۔

الغفران قبیلہ نیم بدو قبیلے آل مُرَّہ کی ایک شاخ ہے۔ یہ خلیجی ممالک میں پھیلا ہوا ہے اور قطر کے سب سے بڑے قبیلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ قطر نے 1996 سے الغفران قبیلے کے ہزاروں افراد سے شہریت چھین لینے کے بعض کو شہریت واپس کر دی ہے۔ تاہم ابھی تک متعدد خاندان اپنی شہریت کی واپسی کے حوالے سے واضح انجام سے ناواقف ہیں۔ جبری طور پر شہریت منسوخ کیے جانے کا سلسلہ 1996 میں شروع ہوا تھا۔

ہیومن رائٹس واچ نے 29 اپریل 2019 کو قطری وزارت داخلہ کو ایک خط بھیجا تھا جس میں الغفران قبیلے کی صورت حال کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا۔ تاہم اس رپورٹ کی تیاری تک قطری حکومت کی جانب سے خط کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ قطری حکومت نے باور کرایا ہے کہ جن افراد سے شہریت واپس لی گئی وہ دوسری شہریت رکھتے ہیں جب کہ قطری شہریت کا قانون دُہری شہریت کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ تاہم الغفران قبیلے کے کئی نمائندوں نے ہیومن رائٹس سے بات چیت میں اس اقدام کو اجتماعی سزا قرار دیا۔

اس لیے کہ الغفران قبیلے کے بعض افراد نے 1996 میں قطر کے اُس وقت کے امیر شیخ حمد آل ثانی کے خلاف ناکام بغاوت میں شرکت کی تھی۔
ہیومن رائٹس سے ملاقات کرنے والے تمام افراد نے اس بات کی تردید کی کہ قطری شہریت منسوخ ہونے کے وقت ان کے پاس کوئی دوسری شہریت تھی۔
ان میں سے کسی کو بھی شہریت کے واپس لیے جانے کا سبب واضح کرنے کے حوالے سے کوئی سرکاری رابطہ یا تحریر موصول نہیں ہوئی اور نہ انہیں اپیل کا موقع دیا گیا۔ ان افراد نے بتایا کہ وہ قطر سے بے دخل کیے جانے یا واپس نہ آنے دینے پر کئی برس سعودی عرب ، امارات یا کویت میں بغیر کسی شہریت کے حامل افراد کے طور پر سکونت پذیر رہے۔ تمام افراد نے اپنی دستاویزات دکھائیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ یہ لوگ قطری شہری تھے۔

ادھر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی جانب سے قطر کے انسانی حقوق سے متعلق ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران الغفران قبیلے کے سرگرم ارکان نے انسانی حقوق کی کونسل سے اپیل کی تھی کہ ان کے قبیلے کے حقوق کی واپسی کے سلسلے میں مدد کی جائے۔ ہیومن رائٹس نے جن افراد سے ملاقاتیں کیں ان کے پاس تعارفی دستاویزات کے طور پر ان کے پاسپورٹس، شناختی کارڈز اور قطری ہیلتھ کارڈز موجود تھے۔ بعض افراد کے پاس مذکورہ دستاویزات کی صرف فوٹو کاپی تھی۔ شہریت سے محروم ہونے کے بعد متاثرہ خاندانوں میں پیدا ہونے والے افراد کے پاس صرف پیدائش کے سرٹفکیٹس تھے جو مختلف خلیجی ممالک کی طرف سے جاری کیے گئے۔

قطر کی خواتین ابھی تک اس حق سے محروم ہیں کہ ان کی اولاد اور شوہر کو قطری شہریت مل سکے۔ سال 2018 میں قطر نے دائمی قیام کے حوالے سے ایک نیا قانون جاری کیا تھا جس کے تحت غیر قطری مردوں سے شادی کرنے والی قطری خواتین کے بچوں اور شوہروں کو دائمی اقامہ حاصل کرنے کی اجازت دی گئی۔ تاہم اس قانون پر شفافیت کے ساتھ عمل درامد نہ ہوا۔قطر میں انسانی حقوق کمیشن نے اپنی 2010 کی رپورٹ میں بتایا کہ جن افراد کو شہریت واپس ملی انہیں رہائش اور ملازمت کا استحقاق حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

شہریت نہ رکھنے والے افراد کو قطر کے اندر نقل و حرکت میں بھی مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ الغفران قبیلے کے ایک نوجوان نے بتایا کہ دوران سفر جب ان کے پاس سے ڈرائیونگ لائسنس یا شناختی کارڈ برآمد نہیں ہوتا تو انہیں نزدیک ترین پولیس اسٹیشن پہنچا دیا جاتا ہے اور ضمانت کے بغیر ان کی رہائی ممکن نہیں ہوتی۔الغفران قبیلے کے بہت سے افراد کو شہریت سے محروم ہونے کے بعد قطر میں اپنی املاک اور جائیداد سے بھی ہاتھ دھونا پڑے جن میں ان کے گھر بھی شامل ہیں۔ شناختی دستاویزات نہ ہونے کے سبب قطری شہری الغفران قبیلے کے ان مرد اور خواتین کے ساتھ شادی سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔

قطر شہریت نہ رکھنے والے افراد کی حیثیت کے حوالے سے اقوام متحدہ کے 1954 اور 1961 کے سمجھوتوں میں شامل نہیں ہے۔ قطر کو چاہیے کہ ان دونوں معاہدوں کی منظوری دے۔ایک اندازے کے مطابق قطر میں الغفران قبیلے کے شہریت سے محروم ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
انسانی حقوق کے قومی کمیشن نے 5 اگست 2008 کو اعلان کیا تھا کہ شہریت سے محروم کیے جانے والے افراد میں سے تقریبا 5700 یعنی 95 فی صد کو دوبارہ شہریت مل چکی ہے۔ تاہم الغفران قبیلے کے کارکنان اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔

About BBC RECORD

Check Also

سعودی اتحاد بدترین جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے، سربراہ انصار للہ

Share this on WhatsAppصنعا (مانیٹرنگ ڈیسک) انصار اللہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ سعودی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے