یورپ زبانی جمع خرچ کے بجائے اپنے وعدوں پر عمل کرے۔ ڈاکٹر کمال خرازی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کےخارجہ تعلقات کی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر کمال خرازی نے کہا ہے کہ یورپ کو چاہئے کہ وہ ایران کے ساتھ تجارتی لین دین کے سسٹم انسٹیکس کو جلد سے جلد آپریشنل کرکے اپنے ماضی کے اقدامات کی تلافی اور ایٹمی معاہدے کو مردہ ہونے سے بچائے۔

ایران کی خارجہ تعلقات کی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر کمال خرازی نے پیرس میں فرانس کی پارلیمنٹ میں خارجہ تعلقات کے کمیشن کی سربراہ ماریل دوسارنز سے ملاقات میں ایران کی جانب سے اپنے بعض وعدوں پر عمل درآمد کو معطل اور یورپ کو ساٹھ روز کی مہلت دیئے جانے کے فیصلے کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اب گیند یورپ کے پالے میں ہے کہ وہ اٹمی معاہدے کے تحفظ کے بارے میں اپنے ماضی کے سست اقدامات کی تلافی کرے۔ ڈاکٹر کمال خرازی پیرس پیس فورم کے اجلاس میں شرکت کے لئے فرانس کے دورے پر ہیں۔ ایران کے خارجہ تعلقات کی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر کمال خرازی نے کہا کہ یورپ کے ذریعے ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنےاور امریکی صدر ٹرمپ کی پابندیوں کی پالیسی کی پیروی کرنے کی بنا پر ایران کے عوام یورپی ملکوں سے بہت زیادہ بد ظن ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے پوری صداقت اور خلوص کے ساتھ مذاکرات انجام دئے اور نتیجے میں ایک ایسا معاہدہ طے پایا جس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی توثیق کی لیکن اس معاہدے پر ایران کی جانب سے مکمل عمل درآمد کے باوجود یورپ نے صرف سیاسی موقف اپنانے پر ہی اکتفا کیا اور اس نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا۔ اس ملاقات میں فرانس کی پارلیمنٹ میں خارجہ تعلقات کے کمیشن کی سربراہ ماریل دوسارنز نے بھی ایٹمی معاہدے سے ایران کے علیحدہ ہوجانے کے امکان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دیگر ملکوں کے خلاف امریکا کے ذریعے اپنائے گئے فیصلوں اور یورپ پر واشنگٹن کے دباؤ پر تنقید کی اور اس بات کا اعتراف کیا کہ ایٹمی معاہدہ اچھی طرح سے آگے نہیں بڑھ سکا۔

انہوں نے کہا کہ یورپ اور فرانس ایٹمی معاہدے کو آگے بڑھانے اور اس کی حفاظت کے لئے پرعزم ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ ایٹمی معاہدے کے دائرے میں ایران کے ساتھ تعاون کے فروغ کے راستوں کی حفاظت کی جائے۔ اس درمیان اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیرخارجہ عباس عراقچی نے تہران میں برطانیہ کے ایٹمی مذاکرات کار اور برطانوی وزارت خارجہ میں پولیٹیکل افیئر کے ڈائریکٹر جنرل رچرڈ مور سے ملاقات میں کہا کہ ایران اب تک ایٹمی معاہدے کے معاملے میں بہت زیادہ صبرو تحمل سے کام لے چکا ہے لیکن یورپ نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔

ایران کے نائب وزیرخارجہ نے کہا کہ بعد والے مرحلے میں ایٹمی معاہدے سے متعلق بعض دیگر وعدوں کو معطل کرنے کے ایران کے عزم و ارادے کو یورپ کم نہ سمجھے۔ انہوں نے برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس کے ذریعے ایٹمی معاہدے پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان ملکوں کو آئندہ ساٹھ روز کے اندر اندر اپنے وعدوں خاص طور پر پیٹرولیم اور بینکاری کے شعبے میں اپنے وعدوں پر عمل کرکے دکھانا ہوگا۔ برطانوی وزارت خارجہ میں پولیٹیکل افیئر کے ڈائریکٹر جنرل رچرڈ مور نے بھی ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں برطانوی حکومت کے وعدوں اور انسٹیکس کوآپریشنل بنانے کے لئے لندن کی کوشش کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ ایران کے مطالبات کی تکمیل کے لئے اپنی کوشش جاری رکھے گا۔

About BBC RECORD

Check Also

سعودی اتحاد بدترین جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے، سربراہ انصار للہ

Share this on WhatsAppصنعا (مانیٹرنگ ڈیسک) انصار اللہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ سعودی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے