سپریم کورٹ نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد

نسیم الغنی
بی بی سی ریکارڈ لندن نیوز ( اسلام آباد )

پاکستانی عدالت سپریم کورٹ نے نواز شریف کی سزا معطلی اور ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کردی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا معطلی اور ضمانت میں توسیع کی نظر ثانی درخواست کی سماعت کی۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی حالت مزید خراب ہوگئی ہے اور بیماریوں میں پیچیدگیاں آتی جارہی ہیں، انہیں جو علاج درکار ہے وہ پاکستان میں ممکن نہیں، دوران ضمانت ان کا ہائپر ٹینشن اور شوگر کا علاج ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹرز نے اینجیو گرافی کی سفارش کی تھی، اور اس کے لیے ہی عدالت نے ضمانت دی تھی، فیصلہ میں نوازشریف کو پورا پیکج دیا تھا، ان کے پاس بہت سے قانونی آپشن موجود ہیں، پاکستان میں علاج کے لیے بہترین ڈاکٹرز موجود ہیں، عدالت نے ضمانت علاج کے لیے دی تھی صرف ٹیسٹ کرانے کے لیے نہیں، 6 ہفتہ بعد بھی ان کی اینجیو گرافی نہیں ہوئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہر چیز کو سیاسی رنگ میں دیکھ کر عدالت کو بدنام کیا جاتا ہے، صرف سزائے موت کے مقدمہ میں ہی سزا معطل ہوتی ہے، عدالتی حکم واضح ہے اگر نواز شریف نے سرنڈر نہ کیا تو ان کی گرفتاری ہوگی۔

26 مارچ کو سپریم کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر 6 ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت منظور کی تھی، عدالت نے نواز شریف کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کی تھی۔نواز شریف نے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہیں دل اور گردوں کے امراض لاحق ہیں، وہ ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور گردوں کے تیسرے درجے کی بیماری میں بھی مبتلا ہیں، لہذا نواز شریف کو علاج کے لیے صرف پاکستان کے اندر پابند کرنے کے 26 مارچ کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

About BBC RECORD

Check Also

انڈین اوشن ٹونا کمیشن پاکستان میں پہلی بار یہ کانفرنس رکھی گئ ہے۔رضوان احمد

Share this on WhatsAppکراچی؛ فیڈرل سیکٹری بحری امور جناب رضوان احمد نے 22 ویں سیشن، ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے