چین نے پانی اور زمین پر چلنے والی دنیا کی پہلی ڈرون کشتی تیار کرلی

بیجنگ: چین نے ڈرون ٹیکنالوجی سے لیس دنیا کی پہلی بحری اور بری محاذ پر کار آمد کشتی تیار کرلی ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق چین نے پہلی ڈرون کشتی کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے، یہ کشتی پانی اور زمین میں یکساں طور پر سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے سٹیلائٹ سے بھی چلایا جا سکتا ہے۔

چین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ڈرون کشتی بری اور بحری محاذ پر یکساں طور پر جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حیرت انگیز صلاحیتوں سے مالامال ہونے کی وجہ سے اس ڈرون کشتی کو Marine Lizard یعنی ’سمندری چھپکلی‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس کشتی کی سب سے خاص بات زمین پر پہنچتے ہی اپنے اندر موجود جنگی ٹینک کی طرح کے لوہے کے پٹے میں بند پہیوں Tracks کو نکالنا اور ان پر سفر جاری رکھنا ہے، ان ٹریکس کے ذریعے ڈرون کشتی 20 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر طے کرسکتی ہے جب کہ پانی میں تیرتے ہوئے یہ ٹریکس کشتی کے اندر رہتے ہیں۔

تین خانوں والی ڈرون کشتی کی لمبائی 12 میٹر ہے جسے ہائیڈرو جیٹ کی مدد سے چلایا جائے گا اور اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے وزن کے ساتھ اس کی رفتار 50 نوٹس تک ہوسکتی ہے جب کہ اس کی رینج 1200 کلو میٹر تک ہے۔

چین نے اپنے دفاعی نظام کو مضبوط اور طاقت ور بنانے کے لیے جدید ہتھیاروں کی تیاری میں تیزی لایا ہے، سمندری حدود اور ساحلوں تنازعوں میں گھرے چین کی بحری فوج کے لیے ’ڈرون کشتی‘ نہایت کارگر ثابت ہوگی۔

About BBC RECORD

Check Also

بڑے شہروں کے رہائشی دن بھر میں فضا سے ایک پیکٹ سگریٹ کشید کرتے ہیں

Share this on WhatsAppواشنگٹن: بڑے شہروں میں فضائی آلودگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے